کہ دو کہ وہ (یعنی ) اللہ یگانہ ہے۔ اللہ بے نیاز ہے ۔ اس سے کوئی پیدا نہیں ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔  سورة فلق۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (1) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (2) وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (3) وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (4) وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (5) اے نبی ﷺ(دعا میں یوں ) کہو کہ میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوق کے شر سے اور اندھیرے کے شر سے جب اندھیرا پھیل جائے۔ اور گرہوں  پر دم کرنے والیوں کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے پر آ جائے۔  سورة الناس۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1) مَلِكِ النَّاسِ (2) إِلَهِ النَّاسِ (3) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (4) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (5) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (6) اے نبی ﷺ(دعا میں یوں ) کہو کہ میں آدمیوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں آدمیوں کے بادشاہ آدمیوں کے معبود کی (پناہ لیتا ہوں) اُس وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے  کے شر سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ۔ جنوں میں سے ہو یا آدمیوں میں سے ۔  رکوع یعنی جھکنے کی حالت کی تسبیح۔ سُبْحانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ  پاکی بیان کرتا ہوں اپنے پروردگار بزرگ کی ۔  قومہ، یعنی رکوع سے اُٹھنے کی تسمیع۔ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘  اللہ نے (اس کی) سن لی جس نے تعریف کی۔  اسی قومہ کی تحمید۔ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ  اے ہمارے پروردگار تیرے ہی واسطے تمام تعریف ہے۔  سجدہ یعنی زمین پر سر رکھنے کی حالت کی تسبیح۔ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی