اِعتکاف کا بیان
سوال: اعتکاف کسے کہتے ہیں ؟
جواب: اعتکاف اُسے کہتے ہیں کہ آدمی خدا کے گھر (یعنی مسجد ) میں ٹھہرے رہنے کو عبادت سمجھ کر اس کی نیت سے ایسی مسجد میں جس میں جماعت ہوتی ہے ٹھہرا رہے ۔
سوال: صرف مسجد میں ٹھہرا رہنا کیوں عبادت ہے ؟
جواب: جب کہ انسان اپنا سیر تماشا، چلنا پھرنا ، کام کاج چھوڑ کر مسجد میں ٹھہرا رہے اور اس ٹھہرے رہنے سے خداتعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہو تو اس کا عبادت ہونا ظاہر ہے ۔
سوال: عورت کہاں اعتکاف کرے ؟
جواب: اپنے گھر میں جس جگہ نماز پڑھتی ہو ، اعتکاف کی نیت کرکے اسی جگہ پر ہر وقت رہا کرے ۔ پائخانہ پیشاب کے علاوہ اور کسی کام کے لئے اُس جگہ سے اٹھ کر مکان کے صحن یا کسی دوسرے حصے میں نہ جائے ،اور گھر میں نماز کی کوئی خاص جگہ مقررنہ ہو تو اعتکاف شروع کرنے سے پہلے ایسی جگہ بنالے اور پھر اُس جگہ اعتکاف کرے ۔
سوال: اعتکاف کے کچھ فائدے بیان کرو ؟
جواب: اعتکاف میں یہ فائدے ہیں :(۱) اعتکاف کرنے والا گو یا اپنے تمام بدن اور تمام وقت کو خدا کی عبادت کے لئے وقف کردیتا ہے ۔ (۲) دنیا کے جھگڑوں اور بہت سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے ۔(۳) اعتکاف کی حالت میں اُسے ہر وقت نماز کا ثواب ملتا ہے، کیونکہ اعتکاف سے اصل مقصود یہی ہے کہ معتکف ہر وقت نماز اور جماعت کے اِنتظار اور اِشتیاق میں بیٹھا رہے ۔ (۴) اعتکاف کی حالت میں ُمعتکف فرشتوں کی مشابہت پیدا کرتا ہے کہ ان کی طرح ہر وقت عبادت اور تسبیح و تقدیس میں رہتا ہے ۔ (۵) مسجد چونکہ خداتعالیٰ کا گھر ہے، اس لئے اعتکاف میںُمعتکف خداتعالیٰ کا پڑوسی بلکہ اسکے گھر میں مہمان ہوتا ہے ۔
سوال: اعتکاف کی کتنی قسمیں ہیں ؟
جواب: تین قسمیں ہیں : واجب ، سنّت ِمؤ کّدہ ، مُستحب ۔
سوال: اعتکافِ واجب کونسا ہے ؟
جواب: نذرکا اعتکاف واجب ہے ،مثلاً کسی نے منّت مان لی کہ میں خدا کے واسطے تین روز کا اعتکاف کروں گا یا اس طرح کہا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو خدا کے واسطے دو روز کا اعتکاف کروں گا ۔
سوال: سنّت ِمؤکّدہ کون سا اعتکاف ہے ؟
جواب: رمضان شریف کے عشرۂ اخیرہ یعنی آخری دس روز کا اعتکاف سنت مؤکدہ ہے ۔ اس کی ابتداء بیس تاریخ کی شام یعنی غروبِ آفتاب کے وقت سے ہوتی ہے اور عید کا چاند دیکھتے ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ چاند چاہے انتیس تاریخ کا ہو یا تیس کا، دونوں صورتوں میں سنت ادا ہوجائے گی ۔ یہ اعتکاف سنّت مؤکّدہ علی الکِفَایہ ہے ،یعنی بعض لوگوں کے کرلینے سے سب کے ذمّہ سے ادا ہوجاتا ہے ۔
سوال: مستحب کونسا اعتکاف ہے ؟
جواب: واجب اور سنّتِ مؤکّدہ کے علاوہ سب اعتکاف مُستحب ہیں اور سال کے تمام دنوں میں اعتکاف جائز ہے ۔
سوال: اعتکاف درست ہونے کی شرائط کیا ہیں ؟
جواب: مسلمان ہونا ، حدثِ اکبر اور حیض و نفاس سے پاک ہونا ، عاقل ہونا ، نیت کرنا، مسجد ِجماعت میں اعتکاف کرنا ، یہ باتیں توہر قسم کے اعتکاف کے لئے شرط ہیں اور اعتکافِ واجب کے لئے روزہ بھی شرط ہے ۔
مُستحِباَّتِ اِعتکاف کا بیان
سوال: اعتکاف میں کیا کیا باتیں ُمستحب ہیں ؟
جواب: نیک اور اچھی باتیں کرنا ، قرآن شریف کی تلاوت کرنا ، درود شریف پڑھتے رہنا ، علومِ دینیہ پڑھنا پڑھانا ، وعظ و نصیحت کرنا، جامع مسجد میں اعتکاف کرنا۔
اوقاتِ اعتکاف کا بیان
سوال: کم سے کم کتنے وقت کا اعتکاف ہوتا ہے ؟
جواب: اعتکاف ِ واجب کے لئے چونکہ روزہ شرط ہے اس لئے اس کا وقت کم از کم ایک دن ہے ۔ پس ایک دن سے کم مثلاً دو چار گھنٹے یارات کے اعتکاف کی منت ماننا صحیح نہیں ۔
اور جو اعتکاف کہ سنّتِ مؤکّدہ ہے اُس کا وقت رمضان شریف کا عشرۂ اخیرہ ہے اور اعتکاف ِ نفل کے لئے وقت کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے ، یعنی نفلی اعتکاف دس پانچ منٹ کا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر مسجد میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کرلیا کرے تو روزانہ بہت سے اعتکافوں کا ثواب مل جائے ۔
اعتکاف میں جو باتیں جائز ہیں اُن کا بیان
سوال: معتکف کو مسجد سے نکلنا کن عذروں سے جائز ہے ؟
جواب: پائخانہ پیشاب کیلئے نکلنا ، غسل ِفرض کیلئے نکلنا ، جمعہ کی نماز کے لئے زوال کے وقت یا اتنی دیر پہلے نکلنا کہ جامع مسجد پہنچ کر خطبہ سے پہلے چار سنتیں پڑھ سکے ۔ اذان کہنے کے لئے اذان کی جگہ پر خارج مسجد جانا ۔
سوال: پائخانہ پیشاب کے لئے کتنی دور جانا جائز ہے ؟
جواب: اپنے مکان تک جانا خواہ وہ کتنی ہی دور ہوجائزہے ۔ ہاں اگر اسکے دومکان ہیں: ایک اعتکاف کی جگہ سے قریب ہے اور دوسرا دور ہے تو
قریب والے میں قضائے حاجت کرنا ضروری ہے ۔
سوال: نماز ِ جنازہ کے لئے معتکف کو مسجد سے نکلنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب: اگر اُس نے اعتکاف کی نیت کرتے وقت یہ نیت کر لی تھی کہ نمازِ جنازہ كے لئے جائوں گا تو جائز ہے اور نیت نہیں کی تھی تو جائز نہیں ۔
سوال: اور کیا کیا باتیں اعتکاف میں جائز ہیں ؟
جواب: مسجد میں کھانا پینا ، سونا ، کوئی حاجت کی چیز خریدنا بشرطیکہ وہ چیز مسجد میں نہ ہو اور نکاح کرنا جائز ہے ۔
مکروہات ومفسدات اعتکاف کابیان
سوال: اعتکاف میں کیا کیا باتیں مکروہ ہیں ؟
جواب: بالکل خاموشی اختیار کرنا اور اُسے عبادت سمجھنا ، سامان مسجد میں لا کر بیچنا یا خریدنا ، لڑائی جھگڑا یا بیہودہ باتیں کرنا۔
سوال: کن چیزوں سے اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے ؟
جواب: بلاعذر قصداً یا سہواً مسجد سے باہر نکلنا۔ حالت ِ اعتکاف میں صحبت کرنا ، کسی عذر سے باہر نکل کر ضرورت سے زیادہ ٹھہرنا، جیسے پائخانہ کے لئے گیا اور پائخانہ سے فارغ ہوکر بھی گھر میں کچھ دیر ٹھہرارہا ، بیماری یا خوف کی وجہ سے مسجد سے نکلنا؛ ان سب صورتوں میں اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے ۔
سوال: اعتکاف فاسد ہوجائے تو اُس کی قضا واجب ہے یا نہیں ؟
جواب: اعتکافِ واجب کی قضا واجب ہے، سنت اور نفل کی قضا واجب نہیں ۔