کتاب الاجتہاد والتقلید
(اِجتہا د اور تقلید کے احکا م و مسا ئل )
تقلید کی شر عی حیثیت
سوال :۔ بعض لو گ کہتے ہیں کہ تقلید کر نا شر ک ہے ،نجو ا ئمہ ار بعہ ؒکی تقلید کر تا ہے وہ مشر ک ہے،دریافت مسئلہ یہ ہے کہ تقلید ِ ا ئمہ ار بعہ کا شر عًا کیا حکم ہے ؟ کیا وا قعی تقلید کر نے سے ایک مسلما ن مشر ک ہو جاتا ہے ؟
الجواب
تقلید کسی ما ہرِ شر یعت کی را ہنما ئی میں شر یعت مقدسہ کی ا تبا ع کا نا م ہے ،قر آ نی آ یا ت ،احا د یث نبو یؐ اور صحابہ کرا م ؓ کے حا لا ت میں بھی عا می شخص کو کسی ما ہرِ شر یعت کی پیر وی کا حکم ملتا ہے ،اس لئے عا می آ د می کے لئے ا ئمہ ار بعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کر نا وا جب ہے اس سے شر ک لا زم نہیں آ تا ۔
قال العلامۃ ابن نجیمؒ:ان الاجماع انعقد علیٰ عدم العمل بمذہب مخالفٍ لِلْاربعۃ لانضباط مذاہبھم وانتشارھا وکثرۃ اتباعہم۔(الاشباہ والنظائر:ج؍۱،ص؍۳۳۳،القاعدۃ الاولیٰ:الاجتہاد لاینقض بالاجتہاد)
قال العلامۃ عبدالعزیز الفرھاری:ثمم من لم یکن مجتہداً وجب علیہ اتباعِ المجتہد۔ (نبراس شرح شرح عقائد:ص؍۷۲، تقلید المجتہد)
ومثلہٗ فی البحرالرائق:ج؍۷، ص؍۲۶۶ کتاب العقائد۔