کتاب النفقات ( خرچہ کے ا حکا م و مسا ئل )
بیو ی کا علا ج کر ا نا خا و ند پر لا ز م نہیں
سو ال :۔ ز ید کی بیو ی کا فی عر صہ سے بیما رتھی اُ س کے وا لد ین بخو شی علا ج کی غر ض سے ا پنے گھر لے گئے اور و ہا ں اس کا علا ج معا لجہ کر ا یا گیا ، کچھ عر صہ بعد عو ر ت کے و ا لد ین نے ز ید سے علا ج معا لجہ پر خر چ ہو نے وا لی رقم کا مطا لبہ کیا ، تو کیا ان کا یہ مطا لبہ د ر ست ہے یا نہیں ؟
ا لجواب
بیو ی کا علا ج معا لجہ کر ا نا بہر حا ل خا وند پر وا جب نہیں ا لبتہ مر و ت کے با ب میں علا ج کر ا نا منا سب ہے ۔
لما قال العلامۃ ابن الہمام رحمہ اللّٰہ : ولقائل ان یقول علیہا کاُجرۃ الطبیب الخ۔ (فتح القدر:ج؍۴،ص؍۲۰۰، باب النفقۃ ، کتاب النکاح)
قال العلامۃ ابن نجیم ؒ: وقید بالنفقۃ لان المداوۃ لاتجب علیہ اصلاً۔ (البحرالرائق:ج؍۴،ص؍۱۸۲، باب النفقۃ)
ومثلہٗ فی الھندیۃ:ج؍۱،ص؍۵۴۹، کتاب النکاح، الباب النفقۃ۔(فتاوی حقانیہ :ج؍۵،ص؍۲۳)