کتاب البیوع باب شرائط البیع وارکانہ(بیع کے شرائط وارکان وغیرہ)
خریدو فروخت میں طرفین کی رضامندی کا اِعتبار
سوال:۔ آج کل مروّجہ طریقہ کے مطابق ناپ تول میں متفاوت آلات استعمال ہو تے ہیں، کپڑے کے دوکان دار پختہ سیر سے (جو سو ۱۰۰ تولہ کا ہوتا ہے) چیز خرید کر کلو گرام (جو کہ ۸۵ تولہ ہوتا ہے) سے فروخت کرتے ہیں، بائع اور مشتری دونوں اس طریقہء ناپ تول سے آگاہ ہونے کے باوجود باہمی رضامندی سے معاملہ طے کر لیتے ہیں، کیا ناپ تول کا یہ طریقہ ازروئے شرع جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
مشتری سے ناپ تول کی حقیقت کو مخفی رکھنا دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ نا جائز ہے لیکن جہاںکہیںبائع اور مشتری دونوں کی باہمی رضامندی سے معاملہ طے ہو جائے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
لما قال اللّٰہ تبارک وتعالٰی: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالبَاطِلِ اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ وَلَاتَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا۔ (سورۃ النساء:آیت؍۲۹)