العمل وبیان المکان امّا الاجر ان کان دراھم او دنانیر فالشرط بیان القدر۔ (خلاصۃ الفتاویٰ:ج؍۳،ص؍۱۰۳، کتاب الاجارات ، اما الاوّل فی المقدمۃ۔۔۔الخ)
ومثلہٗ فی مجلۃ الاحکام، مادۃ :۴۵۰، ص؍۲۵۴، الفصل الثالث فی شروط صحہ الاجارۃ۔
(فتاویٰ حقانیہ :ج؍۶،ص؍۲۵۳)
دینی مدارس کے لیے کمیشن پر چندہ کرنا جا ئز نہیں
سوال:۔بعض دینی مدارس کے مہتممین حضرات کسی کو چندہ کے لیے بھیج د یتے ہیں ،جبکہ ان کے درمیا ن یہ طے ہو تا ہے کہ جمع ہو نے والے چندہ میں سے تیسرا حصہ اس سفیر کو ملے گا ، کیا ایسا کرنا شرعاً جا ئز ہے یا نہیں؟
الجواب
عقداجارہ میں یہ ضر و ری ہے کہ اجر ت متعین ہو ،چو نکہ صورت مسئو لہ کے عقدا جا رہ میں اجرت متعین نہیں اس لیے یہ عقدفا سد ہے ،البتہسفیرکو مد ر سہ میں ملا زم رکھ کر اس کی تنخواہ مقرر کی جا ئے۔
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللّٰہ: تفسد الاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ما افسد البیع مما مر (یفسدھا) کجہالۃ ماجور او اُجرۃ۔(الدرالمختار علی صدر ردّالمحتار:ج؍۶،ص؍۴۶، باب الاجارۃ الفاسدۃ)
قال العلامۃ ابن نجیم المصریؒ: وقد ضبطہ الشیخ ابوالحسن الکرخیؒ فی مختصرہ فقال اذا کان ما وقع علیہ عقد الاجارۃ مجہولاً فی نفسہ او فی اجرۃ او فی مدّۃ الاجارۃ او فی العمل المستاجر علیہ فالاجارۃ