ومثلہٗ فی خلاصۃ الفتاویٰ :ج؍۴،ص؍۱۵۴، الفصل الرابع فی الوکالۃ بالبیع۔
(فتاویٰ حقانیہ :ج؍۶،ص؍۳۵۹)
وکیل سے رقم ضا ئع ہو نے کی صو رت میں ذمہ دار کو ن ہو گا؟
سوال:۔ کسی چیز کی خر یداری پر مقر ر کر دہ شخص سے اگر گم ہو جا ئے تو اس کی ذ مہ دا ری کس پر ہو گی؟کیا وکیل اس ما ل کا ضا من ہو گا یا سا را نقصا ن مؤ کل کے ذمے آئے گا؟
الجواب
کسی چیز کی خریدا ری پر مقر ر کر دہ شخص سے رقم اگر مطلو بہ چیز خر یدنے کے بعد گم ہو جا ئے اور با ئع کو ابھی رو پے نہ دئیے ہوں تو اس کی ذمہ داری مؤ کل پر عا ئد ہو گی اور وہ وکیل پر رجو ع کا حق نہیں رکھتا ہے،اور اگر مؤ کل نے وہ چیز خر ید نے کے بعد رقم وکیل کو دی ہو اور با ئع کو دینے سے قبل وہ گم ہو جا ئے تو اس کی ذمہ داری وکیل پرعا ئد ہو گی۔
لما قال العلامۃ طاہر بن عبدالرشید البخاری رحمہ اللّٰہ: اذا رفع الثمن الٰی انسان الف درھم فاَمرہٗ ان یشتری بھا جاریۃ فاشتریی ثم ھلک ثمن قبل ان ینقض البائع یھلک من مال الاٰمر فان رفع الاٰمر الالف الی الوکیل بعد مااشتریٰ فھلک قبل ان ینقض البائع یھلک من مال المامور۔ (خلاصۃ الفتاویٰ:ج؍۴،ص؍۱۵۹، الفصل الرابع فی الوکالۃ بالشراء)
وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللّٰہ: ولم یذکر المؤلف ھنا حکم ما اذا وکلہٗ بشراء شیٔ ودفع الثمن الیہ فھلک فی یدہٖ، قال فی البزازیۃ وفی جامع الفصولین دفع الیہ الفاً یشتری بہٖ فاشتری وقبل ان