کتاب الہبۃ
ہبہ میں عوض لینے کے بعد اس کی بیع کرنا صحیح نہیں اور رجوع عن الہبہ کے لئے قضاء قاضی شرط ہے
سوال:۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں کہ زید شش قطعہ مکانات کا بلاشرکت غیرے مالک ہے، بوجہ ملکیت خود زید نے اپنے رشتہ داروں کوشش قطعہ مکانات زبانی ہبہ کردیئے ، اور اسی وقت مبلغ پانچ سو روپیہ بعوض ہبہ زید کے رشتہ داروں نے زید کو دیا، اور زید نے اس کو قبول منظور کرلیا، اور تقسیم کرکے مکانات قبضہ مالکانہ میں دے دیئے، بعد وفات یکے از موہوب لہما جائیداد موہوبہ اس کے ورثہ کے قبضہ میں آگئی، ورثہ نے اپنے اپنے حصص ایک دوسرے سے تبدیل کرلئے اور بانتقال جائیداد واہب کی حیات میں ہوا شہادت کافی مشمولہ مثل موجود، بعد چند روز زید نے تائید دستاویز ہبہ نامہ مرتب کرادی ، اور دستاویز کے مضمون اول میں یہ عبارت ہے(بصحت ہوش وہواس وثبات عقل بلااکراہ واجبار غیرے مع اس کے تمامتی حقوق داخلی وخارجی شرعیہ کے ہبہ کردیئے، یعنی بخش دیئے)۔
مضمون دوم میں یہ عبارت ہے۔
(تاحیات خود من مقر قابض و دخیل ہوں، اور بعد فوتی میری مسماتان کے قبضہ مالکانہ میں رہیں گے۔)
آخری دستاویز کی یہ عبارت ہے۔