بسم اللہ الرحمن الرحیم
۵
ازمولانا مفتی محمد رفیع صاحب عثمانی صدردارالعلوم کراچی
کتاب اور اس کے مولفین رحمتہ اللہ علیہم کے تعارف سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہے کہ فقہ اور اس کے مآخذکا تعارف ہدیۂ ناظرین کردیاجائے۔
فقہ
فقہ کے لغوی معنی:
لغت میں فقہ’’فہم، سمجھداری اور ذہانت‘‘ کو کہتے ہیں اور فقیہ ذہین اور سمجھدار شخص کو کہاجاتاہے اور تفقہ فقیہ ہونے ، فقہ حاصل کرنے اور اس میں غوروخوض کرنے کانام ہے۔
فقہ کے قدیم اصطلاحی معنی:
اسلام کے قرون اولیٰ کی اصطلاح میں فقہ سے مراد ’’پورے دین کی گہرائی سمجھ‘‘ ہے۔ یعنی دین کی تمام تعلیمات خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبۂ زندگی سے ہو، ان کی گہری بصیرت ومہارت کو’’فقہ‘‘ کہاجاتا تھا، اور فقیہ اس شخص کو کہتے ہیں جو پورے دین کی گہری بصیرت ومہارت رکھتاہو اور اپنی پوری زندگی کو دین کے سانچہ میں ڈھال چکاہو۔
دینی احکام کی قسمیں: