کتاب الرّبوا والقمار

دارالحرب میں کفار سے سود لینے کا جواز
سوال:۔ پوسٹ آفس میں جو روپیہ جمع کیا جاتا ہے ، اس پر سود (بیاج) لینا جائز ہے یا نہیں؟ گورنمنٹ اس پیسے سے روزگار وغیرہ کرکے منافع حاصل کرتی ہے۔
الجواب
کفار سے سود لینا دارالحرب میں جائز ہے پس بنک والوں سے سود لے سکتے ہیں مگر اس میں حضرت مولانا کا خلاف ہے ، پس رسالہ’’رافع الذنب عن مسائل البینک‘‘ ملاحظہ کرلیا جائے۔ واللہ اعلم
ظفراحمد عفا اللہ عنہ
(امدادالاحکام:ج؍۳، ص؍۴۶۸ )
دارالحرب میں بنک سے سود لینے کا حکم
سوال:۔ یہاں مسلم راجپوت کے نام پر ہائی اسکول قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہر شخص سے اس کی ماہواری آمدنی وصول کرکے بنک میں روپیہ جمع کریں گے ، جس کے سود سے مدرسہ ہائی اسکول چلے گا، کچھ گورنمنٹ سے امداد ملے گی، اب دریافت امر یہ ہے کہ ایسے موقع میں روپیہ دینا کیسا ہے؟ جبکہ بنک میں جمع ہوکر ہمیشہ سود لیا جاوے ، اگر کوئی شخص اپنا چندہ