اشرف الاحکام
کتاب البدعۃ
غیر اللہ کے لئے نذر و منت کا ذبیحہ اور کھانا سب حرام ہے
سوال: غیر اللہ کے لئے نذر و منت ماننا اور اس کا ذبیحہ کھانا کیسا ہے ؟
الجواب حامدا و مصلیا و مسلما : ارشاد فرمایا کہ حیوانات کے علاوہ جو کھانا یا مٹھائی و غیرہ کسی غیر اللہ کے نام پر نذر مانی جائے ۔ اس کو بھی فقہانے حرام و نجس قرار دیا ہے ۔ جیسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہو ا جانور حرام ہے میں بھی اس کو صحیح سمجھتا ہوں مگر اس کو ما ھل بہ بعیر اللہ کے تحرر میں داخل نہیں کتا کیوں کہ یہ حیوانات کے معاملہ تو نص قطعی ہے مگر غیر حیوانات کو شامل نہیں اس لئے غیر حیوانات میں یہ حرمت قیاسی فقہی سے دونوں کا حکم مشترکہ معلوم ہو تا ہے ۔ اور میں یہ نہیں کہتا کہ ما اھل میں لفظ ما کے عموم میں غیر حیوانات بھی داخل ہیں ۔ کیوں کہ عموم الفاظ اصولی طور پر معالج حد تک عموم لیا جاسکتاہے جہاں تک مقصود متکلم سے تجاوز نہ ہو اور اس سے زیادہ عموم معتبر نہیں اگر کوئی مریض اپنے معالج سے پرہیز کے متعلق پوچھے اور مہ یہ کہہ دے کہ تیل اور ترشی کے سوا سب چیز کھا سکتے ہیں تو اس سب چیز کے عموم لوہا، پتھر ، مٹی ، و غیرہ میں داخل نہیں مانی جائیں گی کہ مقصود ، متکلم سے تجاوز ہے ۔ نص قطعی حیوانات کے بارے میں نازل ہو ئی ہے اس کے عموم کو غیر حیوانات میں متجاوز کرنا میرے نزدیک اسی کی مثال ہے ۔اس لئے میرا خیال یہ ہے کہ نص مااھل بہ سے تو صرف وہ حیوانات حرام ہیں جن کو غیراللہ کیلئے ذبح کیا گیا ہو ، باقی رہی دوسری اشیاء غیر حیوانات کی قسم سے جیسے کھانا اور مٹھائی وہ