قال ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی :فاماالختان واجب علی الرجال ومکرمۃ فی حق النساٗ ولیس بواجب علیھن ھذاقول کثیر من اھل العلم (المغنی ص۶۴ج۱)
وقال الامام النوویرحمہ اللہ تعالی: فالختان واجب عند الشافعی رحمہ اللہ تعالی وکثیر من العلماء وسنۃ عند المالکرحمہ اللہ تعالی واکثر العلماء وھو عند الشافعی رحمہ اللہ تعالی واجب علی النساٗجمیعا(شرح النووی علی مسلم ص۱۲۸ج۱)
وفی عون المعبود شرح سنن ابی داود : وختلف فی النساء ھل یخفضن عموما او یفرق بین النساء المشرق فیخفضن ونساء المغرب فلا یخفضن لعدم الفضلۃ المشروع قطعھا منھن بخلاف نساء المشرق (عون المعبود ص۱۲۳جج۷)۔
ہند و کے متر و ک مکا ن سے سو نا ملا:
سوال: ز ینب جب ہند وستا ن سے پاکستا ن ٓا ئی تھی تو ایک ہندو کے مکان سے اکتیس۳۱ تو لہ سونا ملا تھا جس کا اس نے زیور بنا لیا ـ اب دریا فت یہ کر نا ہے کہ کیا وہ اس کی مالکہ ہو گئی؟ اور اس کی ز کو ہ ادا کر نا اس کے ذ مہ فر ض ہے؟ بینوا تو جر وا
الجوا ب با سم ملھم الصوابٍ
اگر یہ واقعہ ابتد اء قیا م پا کستا ن کا ہے تو ان د نو ں دو نوں حکو متو ں کے معا ہدہ کے تحت اس سو نے پر ہند و کی ملکیت قا ئم ر ہے گی مالک کی تلا ش کرکے اس تک پہنچا نا فر ض ہے اگر انتہا ئی کو شش کے با وجو د مالک کاعلم نہ ہو سکے تو یہ سو نا وا جب التصد ق ہے اگر زینب مسکینہ ہے تو خو د بھی رکھ سکتی ہے۔