{ ۱۔ وطن اقامت کے سفرِ شرعی سے باطل ہونے کی تحقیق }
(وطن الارتحال لایبقیٰ ببقاء الاثقال)
یہ مسئلہ ملک کے اہل علم اورمفتیانِ کرام کے درمیان زیر بحث تھاکہ اگر انسان کسی دوسری جگہ میں جاکر اقامت اختیار کرلے ،اور پھر کسی وقت اس جگہ سے سفرکرے یا اپنے وطن آجائے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس اقامت والی جگہ واپسی کی نیت ہو،تو کیا ایسی صورت میں وطن ِ اقامت کی حیثیت ختم ہوجائے گی یا نہیں ۔اوراگر ختم ہوجائے گی تو اس میں کیاشرائط ہیں؟اس بارے میں بعض اہل علم حضرات کی رائے یہ تھی کہ جس جگہ کو ایک دفعہ وطن ِاقامت بنالیا جائے تو اس کی حیثیت اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک وہاں سے اپنا سازوسامان لے کر انسان منتقل نہ ہوجائے ،اوربعض حضرات کی رائے یہ تھی کہ اگر وہاں واپسی کی نیت ہے تو سازوسامان کے ساتھ منتقل ہونے سے بھی اس کی حیثیت ختم نہ ہوگی ۔اور بعض حضرات کی رائے یہ تھی کہ وطن اقامت اپنے وطن میں جانے اورسفر شرعی سے ختم ہوجاتا ہے ۔فقیہ العصرحضرت مفتی عبدالشکورصاحب رحمہ اللہ کے پاس یہ تمام آراء مع دلائل ارسال کی گئیںتو آپ کے یہاں سے اس سلسلہ میں درجِ ذیل تفصیلی وتحقیقی جواب تحریر فرمایا گیا:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب : فقہائے کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ وطن ِاقامت سفرِ شرعی سے مطلقاً (یعنی ہرحال میں) باطل ہوجاتا ہے ،سفرِ شرعی سے واپسی پر اگر اُس پہلے موضع اقامت