بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیباچہ

الحمداللہ وکفی وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی امابعد

ایک زمانہ وہ تھا جبکہ مسلمانوںمیں دین کے علوم کی بہت ترقی اور ذوق وشوق تھا،کثرت سے علماء موجود تھے جن سے آسانی کے ساتھ مسائل دریافت کرسکتے تھے اور عوام بھی اس قدر علم ضرور رکھتے تھے جو ان کی ضروریات کے لئے کافی ہو۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں توعبادات ومعاملات میں شرع شریف کی پابندی درجۂ کمال کی تھی۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حکم فرمادیا تھا کہ ہمارے بازار میں وہی خرید وفروخت کریں جو دین میں فقیہ ہوں (رواہ الترمذی ) پھر جس قدر صدر اول سے بعد ہوتا گیا اسی قدر علم کی کمی ہوتی گئی یہاں تک کہ آج کل ہمارے زمانے میں مسلمانوں کو دین سے بے تعلقی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ عوام تو عوام علمائے کرام میں بھی باوجود دوسرے علوم وفنون میں قابلیت ومہارت کے روزمرہ کے ضروری مسائل حتی کہ فرض وواجبات وسنن ومستحبات ومکروہات کی اکثر وبیشتر جزئیات سے ناواقفیت ہے اور بے علمی کی وجہ سے پڑھا ہوا علم بھی روزانہ انحطاط اور سہو کی نذر ہوتا رہتا ہے۔عوام میں بھی قلت علم اور بے پرواہی کے نتیجے میں دین سے بے تعلقی اور عدم شوق اس قدر بڑھتاجارہا ہے کہ نہ خود جاننے اور سیکھنے کی طرف رغبت