خضاب لگانا ، کے عنوان سے ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ازمرتب)
لہذا خالص سیاہ خضاب نہ لگایا جائے ، لگانا سخت گناہ ہے ، سرخ یا مہندی کا خضاب لگایا جائے، اگر کسی نے باوجود نا جائز ہونے کے خالص سیاہ خضاب لگایا ہواگر وہ پانی کی طرح پتلا ہواور خشک ہونے کے بعد بالوں تک پانی پہنچنے کے لئے رکاوٹ نہ بنتا ہو تو اس صورت میں وضو وغسل ہوجائے گا[۱]
(مگر خضاب لگا رکھا ہے اس کا مستقل گناہ ہوگا) اور اگر وہ گاڑھا ہو بالوں تک پانی پہنچنے کے لئے رکاوٹ بنتا ہو تو پھر وضو غسل صحیح نہ ہوگا(333)۔فقط واﷲ اعلم بالصواب۔
[۱] قوله والأولی غسله الخ إعلم أنه ذکر فی المنیة أ نه لو أدخل یده فی الدهن النجس أو إختضب المرأ ة بالحنآء والنجس أو صبغ الثوب بالصبغ النجس ثم غسل کل ثلاثا لحمعر، شامی باب الا نجاس ج۱ ص ۳۲۹ (فتا وی رحیمیہ ج ۴ /۲۳-۳۳)
دورانِ غسل عورت کا سر کے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانے کا حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت کیلئے دورانِ غسل سر کے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے؟
الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً: جی ہاں! عورت کیلئے دورانِ غسل سرکے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( 333) عن علي رضي الله عنه مرفوعًا: "من ترك موضع شعرة من جنابة لم يغسلها فعل به كذا وكذا من النار. قال علي رضي الله عنه : فمن ثم عاديت رأسي، فمن ثم عاديت رأسي ثلاثا، وكان يجزُّ شعره. [ إعلاء السنن، ج: 1/133]