مرد و عورت کو دوبارہ جوان بنا دیں گے (یعنی تمہیں بھی جوان کر کے جنت میں داخل کیا جائے گا ) یہ سن کر وہ خوش ہوگئی۔
دیکھئے اس مزاح میں نہ جھوٹ ہے نہ کسی پر چوٹ اور غیبت اگر اس طرز پر آپ بھی اپنے بچوں سے مزاح کریں تو بہت مستحسن ہے لیکن ایک بات کا خیال رکھیے کہ موقع محل دیکھ کر مزاح کریں تاکہ آپ کا وقار برقرار رہے ورنہ زیادہ مزاح نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے مناسب موقع پر اور کبھی کبھار ہی مزاح کیا کریں اور بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیے کہ وہ خوش اخلاق اور خوش مزاج ہوں ان کے چہرے پر ہر حال میں مسکراہٹ سجی ہوئی ہو اس لئے کہ مسلمان کی شان یہی ہے کہ چاہے کتنی ہی پریشانیاں ہوں کسی حال میں بھی وہ ماتھے پر شکن نہیں آنے دیتا اور یہی عادت مسلمان کو تمام اقوام عالم میں امتیاز بخشتی ہے۔
اس لئے عرض ہے کہ اپنے بچوں کو خوش رکھیے اور اس پر اللہ سے اجر کی امید رکھیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خوشیو ں کے گھر کی خوشخبری سنا دی ہے ان سے بڑھ کر سچے کون ہوسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اولاد کو وقت کی قدر کرنے کی ترغیت
اگر وقت سے کماحقہ فائدہ حاصل نہ کیا جائے تو انجام خطرناک ہوسکتاہے خاص کر بچہ جب تضیع اوقات کی عادت کے ساتھ نشوو نما پائے اور وقت سے کام نہ لینے کے ساتھ پروان چڑھے تو معاملہ اور گھمبیر ہوسکتا ہے فراغت کے بطن سے بہت ساری آفات جنم لیتی ہیں اور بیکاری کی گود سے ہزاروں قباحتیں پیدا ہوتی ہیں لہٰذا اگر عمل اور وقت سے کام لینا زندہ اور زندگی کی علامت ہے تو بے کاری مترادف موت ہے اور بے کار لوگ مردوں کی مانند ہیں‘ وقت کو ضائع کرنے والے لوگوں کا انجام انتہائی ہلاکت اور ناکامی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے کار وقت ضائع کرنے کے لئے نہیں پیدا فرمایا ہے بلکہ دونوں جہانوں کی کامیابی کیلئے وقت سے کام لینے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے کہ قیامت کے دن انسان کی عمر کے متعلق اس سے پوچھا جائے گا کہ عمر کو کس مصرف میں خرچ کیا؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے کار تو پیدا نہیں کیا۔ فرمان الٰہی ہے:
{اَفَحَسِبْتُمْ اِنَّمَا خَلَقْنَکُمْ عَبَثًا وَاِنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ} [المؤمنون:۱۱۵]
’’ہاں تو تب تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تم کو یوں ہی مہمل پیدا کر دیا اور یہ کہ تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے۔‘‘
وقت کو کار آمد بنانے کے متعلق حضرت امام شافعی hکا یہ قول انتہائی اہم ہے۔
((اِذَا لَمْ تُشْغِلُ نَفْسَکَ بِالْحَقِّ شَغَلَتْکَ بِالْبَاطِلِ))
’’یعنی اگر تم اپنے نفس کو حق اور درست کام میں نہیں لگاؤ گے تو وہ تمہیں باطل اور بیکاری میں لگا دے گا۔‘‘
ماہرین تربیت کے ہاں معروف ہے کہ اگر بچے کو فراغت زیادہ میسر ہو تو اس کا افکار وخیالات اس طرح خراب ہو جاتے ہیں کہ پھر کام میں مشغول ہو کر بھی ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بچے کو تو کیا؟ کسی بڑے کو بھی فراغت و بیکاری میسر ہو تو پریشانی کے شیاطین اس پر حملہ آور ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔ تو