موجود لوگوں میں نے کسی میں بھی ان کے طریقے اپنانے کی تڑپ نہیں دیکھی۔
میری بہنیں بھی ایسے ہی ماحول میں بڑی ہوئیں‘ ایسے ہی دہرے معیار دیکھتی اور سیکھتی گئیں‘ جب باجی پہلی دفعہ کالج جانے لگیں تو دادی جان نے انہیں سر پربڑی چادر کرنے کو کہا۔ باجی کو بڑا برا لگا‘ دادی جان کے سامنے تو چپ ہوگئیں مگر امی کے پاس جا کر شور مچانے لگیں کہ ’’ساری لڑکیاں تو یونیفارم کا دوپٹہ ہی کرتی ہیں اور میں بڑی سی چادر کر کے جاؤں ‘ میں نے اتنی بڑی چادر کر کے نہیں جانا۔‘‘ امی نے ایک دو دفعہ دبے لہجے میں کہا کہ اوڑھ لو ناں جب باجی نہ مانی تو امی بولیں ’’اچھا دادی جان کے سامنے اوڑھ لو گاڑی میں جا کراتار دینا۔‘‘ اس دن سے باجی اچھی طرح سیکھ گئی کہ بڑوں کو دھوکہ کس طرح دیا جاتا ہے‘ جب ایک دفعہ دھوکہ دینے کا راستہ کھل گیا تو پھر بات دادی جان تک رکنے والی کہاں تھی‘ امی کو پتہ بھی نہ چلتا اور باجی کالج سے بازار جا کر اپنی مرضی کے ڈائجسٹ اور انگلش ناول خرید کر لے آتیں۔ کالج کی کتابوں میں چھپا کر پڑھتیں اور امی ابو سمجھتے کہ ہماری بیٹی کمرے میں پڑھائی کر رہی ہے۔ اللہ میاں کیا ہمارے بڑے ہمارے گناہوں میں برابر کے شریک نہیں ہیں انہوں نے برائی کو چالاکی اور ہوشیاری کا نام دے کر ہماری تائید کی‘ ایسے ماحول میں میری باجی کس طرح عائشہr و فاطمہrکی طرح معصوم اور دیندار ہوتیں۔
اللہ میاں میرے ماں باپ نے میرے لئے دنیا کی ہر نعمت مہیا کی‘ مجھے ہر طرح کی سہولت دی‘ میرے آرام کے لئے اپنا آرام قربان کیا‘ میں نے جوخواہش کی انہوں نے اسے پورا کرنا ضروری سمجھا‘ ایک دفعہ مجھے بچپن میں عجیب قسم کا بخار ہوگیا‘ رات کو سر میں بہت سخت درد ہوتا تو رات کو ابو دو تین بجے تک میرا سر دباتے اور امی دودھ وغیرہ گرم کر کے لاتیں۔ اگلے دن میں تو آرام سے سوتا رہتا اور ابو آفس اور امی گھر کے کاموں میں لگ جاتیں۔ تقریباً ایک ڈیڑھ ہفتہ یہی ہوتا رہا اور میرے ماں باپ ماتھے پر شکن لائے بغیر دن رات ڈیوٹی دیتے رہے۔ اللہ میاں میرے امی ابو نے میرے دنیاوی آرام کے لئے ہر شے مہیا کی مگر وہ یہ بھول گئے کہ آخرت کاآرام بھی تو میری ضرورت ہے‘ دنیا کی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر تڑپ اٹھتے مگر آگ کے خوفناک عذاب کو بھول گئے‘ میرے کھانے پینے کے لئے میری پسند کی چیزوں سے گھر بھر دیا مگر کھولتے پانی اور بدبو دار پیپ کو بھول گئے‘ مجھے قیمتی ترین لباس پہنایا‘ گرمی سردی سے میری حفاظت کی مگر آگ کے کرتے اور تارکول کی شلوار کو بھول گئے‘ میرا رنگ پیلا ہونے پر پریشان ہوگئے مگر روز محشر میں کالی رات کی سی تاریکی والے چہروں کو بھول گئے۔
یااللہ میں اپنے والدین سے محبت تو بہت کرتا ہوں مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ آج میری رسوائی میں کچھ نہ کچھ ہاتھ ان کا بھی ہے‘ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تیرے سامنے میرا یہ عذر قابل قبول نہیں ہے کیونکہ بلوغت کے بعد سے میں اپنے قول و فعل کا خود ذمہ دار ہوں مگر خدایا میں اپنے والدین کی شکایت لے کر آیا ہوں کہ انہوں نے مجھ سے بے پناہ محبت کرنے کے باوجود مجھے کیوں گم راہیوں کے جنگل میں دھکیل دیا‘ جہاں سے نکلنا میرے لئے ناممکن نہ سہی مگر دشوار ضرور تھا۔
الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات