(۲۰۱) ٹیلی فون پر نکاح اور طلاق کے وقوع میں فرق کی وجہ
سوال… کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ فون پر طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں ؟ جبکہ نکاح کے بارے میں تو ہم نے سنا ہے کہ فون پر نکاح نہیں  ہوتا۔ اب آپ بتائیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ دونوں میں کیا فرق ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب… فون پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے البتہ فون پر نکاح کرنے سے نکاح  نہیں  ہوتا۔دونوں  میں  وجہ فرق یہ ہے کہ صحت نکاح کی من جملہ شرائط میں سے ایک شرط اتحاد مجلس بھی ہے یعنی عاقدین کی مجلس ایک ہو اور فون پر نکاح کرنے کی صورت میں یہ شرط مفقود ہوتی ہے جس کی وجہ سے نکاح صحیح نہیں  ہوتا لیکن طلاق دینے کیلئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ مرد لفظ طلاق کو اپنی زبان سے یا لکھ کر اپنی بیوی کی طرف منسوب کردے تو طلاق واقع ہوجائے گی چاہے اس کی بیوی وہاں  موجود ہو یا نہ ہو۔
لمافی الھندیۃ (۲۶۹/۱):ومنها أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد۔
وفیہ أیضاً (۳۷۸/۱):ثم المرسومة لا تخلو اما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق۔
وفی الشامیۃ کتاب النکاح (۱۴/۳): قوله ( اتحاد المجلس ) قال في البحر فلو اختلف المجلس لم ينعقد فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا۔
(۲۰۲)بذریعہ ایس ایم ایس طلاق دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ ایک شخص اپنی بیو ی کو”تجھے طلاق ہے“ کا میسج تین بار سینڈ کرتا ہے تو کیا اس سے ایک طلاق واقع ہوگی یا تین؟ نیز اختیاری اور غیر اختیاری طور پر تین بار سینڈ ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق ہوگا یا نہیں ؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث و فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
الجواب بعون الملک الوھاب… صورت مسئولہ میں  جب مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کو ”تجھے طلاق ہے“ کا میسج تین دفعہ بھیج دیا تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں پڑ گئیں یہ میسج اگرچہ طلاق مرسومہ نہیں لیکن وہ شخص میسج بھیجنے کا اقرار کررہا ہے پھر چاہے اس نے یہ میسج اپنے اختیار سے کیا ہو یا غیر اختیاری طور پر، دونوں  صورتوں میں طلاق پڑجاتی ہے۔
لمافی القرآن الکریم (البقرة:۲۲۹):الطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌ بِإِحْسَانٍ۔
وفی سنن الترمذی (۲۲۵/۱) باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق:عن أبى هريرة ؓ قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: " ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة "
وفی الشامیۃ (۲۴۶/۳) مطلب فی الطلاق بالکتابۃ:قوله ( طلقت بوصول الكتاب ) أي إليها ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم ولا يصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط ط بحر ومفهومه أنه يصدق ديانة في المرسوم رحمتي ۔۔۔ وفي التاترخانية كتب في قرطاس إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق ثم نسخه في آخر أو أمر غيره بنسخه ولم يمله عليه فأتاها الكتابان طلقت ثنتين قضاء إن إقر أنهما كتاباه أو برهنت وفي الديانة تقع واحدة بأيهما أتاها ويبطل الآخر ۔
(۲۰۳)ایس ایم ایس کے ذریعے مذاق میں  طلاق دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ زید اپنی بیوی کو SMSکررہا تھا ایک دن مذاق میں SMS کیا کہ تجھے تین طلاق تو کیا اس طرح ایس ایم ایس کرنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟