وفی صحیح البخاری (۷۹۴/۲):عن ابن عباس ؓ أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، ثابت بن قيس، ما أعتب عليه في خلق ولا دين، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتردين عليه حديقته؟ قالت: نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقبل الحديقة وطلقها تطليقة.
وفی الھندیۃ (۴۸۸/۱) الباب الثامن فی الخلع: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية۔
وفی الشامیۃ (۵۰۴/۳):وهذا خاص بالنكاح الصحيح أما الفاسد فلا تجب فيه العدة إلا بالوطء كما مر في باب المهر ۔۔۔ ومما جرى مجراه ما لو استدخلت منيه في فرجها كما بحثه في البحر وسيأتي في الفروع آخر الباب قوله ( أي صحيحة ) فيه نظر فإن الذي تقدم في باب المهر أن المذهب وجوب العدة للخلوة صحيحة أو فاسدة۔
(۳۷۷) خلع کی عدت گزار کر عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے
سوال… کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے خلع کو پندرہ مہینے ہوچکے ہیں ۔ اب میں اپنی والدہ کے گھرمیں  ہوں ، ان پندرہ مہینوں میں سے میں بارہ مہینے اپنے شوہر کے ساتھ رہ چکی ہوں ، اب میں تین مہینوں سے اپنے شوہر سے بالکل علیحدہ ہوں کیا اب میں دوسرا نکاح کرسکتی ہوں ؟ برائے مہربانی مجھے اس بات کا جواب دیں میرے شوہر خود مجھے اپنے منہ سے بھی کہہ چکے ہیں  کہ تو میرے ساتھ کیوں رہ رہی ہے تیرا خلع ہو چکا ہےجبکہ وہ خود ہی مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے کرگئے تھے۔
الجواب بعون الملک الوھاب… خلع کے ذریعے طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً خاوند اور بیوی کی باہمی رضامندی سے خلع ہوا تھا تو اس سے طلاق بائن واقع ہوگئی تھی اور عام طور پرچونکہ پندرہ مہینے میں عدت بھی گزر جاتی ہے اس لئے آپ کیلئے دوسری جگہ نکاح کرنا درست ہے البتہ خلع کے بعد آپ کا شوہر کے پاس رہنا شرعاً درست نہیں تھا۔ اس پر آپ خوب توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسے معاملات میں احتیاط سے کام لیں ۔
لمافی القرآن الکریم (البقرة:۲۲۹):فَإِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ تِلْكَ حُدُوْدُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَمَن يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللهِ فَاُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔
وفی الترمذی(۲۲۵/۱):عن الربيع بنت معوذبن عفراءأنهااختلعت على عهدالنبى ﷺ فأمرها النبى -صلى الله عليه وسلم- - أو أمرت - أن تعتد بحيضة.
وفی الدر المختار(۴۴۴/۳) باب الخلع:( و ) حكمه أن ( الواقع به ) ولو بلا مال ( وبالطلاق ) الصريح ( على مال طلاق بائن )۔
(۳۷۸) خلع کے بعد اسی مرد سے دوبارہ شادی کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ بیوی کن صورتوں میں خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے؟ نیز خلع کے بعد اگر یہی شوہر دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہو تو اس کی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟
الجواب بعون الملک الوھاب… صورت مسئولہ میں اگر شوہر بیوی پر ظلم و زیادتی کرتا ہو اور بیوی کے حقوق ادا نہ کرتا ہو یا ان کے درمیان شدید اختلاف ہوجائے اور بیوی کو معلوم ہو کہ اب نبھائو ممکن نہیں  ہے تو اس صورت میں بیوی خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے جب خلع ہوگا تو اس سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی اگر بعد میں دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو تجدیدنکاح کرانا[نئے مہر اور دیگر تمام شرائطِ نکاح کیساتھ] ضروری ہوگا البتہ اس کے بعد مرد کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہ جائے گا۔
لمافی القرآن الکریم (البقرة:۲۲۹):فَإِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ تِلْكَ حُدُوْدُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَمَن يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللهِ فَاُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔
وفی الشامیۃ (۴۴۱/۳):قوله ( للشقاق ) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم وفي القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع ا هـ ط
(۴۴۶/۳):قوله ( وقع ) أي إن قبلت بحر قوله ( بائن في الخلع ) لأنه من الكنايات الدالة على قطع الوصلة فكان الواقع بائنا بخلاف لفظ اعتدى وأخويه كما مر في بابه بخلاف الطلاق فإنه صريح لا يقتضي البينونة أيضا۔
(۳۷۹) خلع کے بعد بغیر نکاح کے رجوع ممکن نہیں