لمافی المحیط البرھانی (۳۹۳/۴):إذا قال لامرأته: يا مطلقة وقع الطلاق عليها، ولو قال: أردت به الشتم دين فيما بينه وبين الله تعالى ولم يدين في القضاء؛ لأنه وصفها بالطلاق ۔۔۔ ولو قال: أردت طلاق زوج كان لها قبل ذلك إن لم يكن لها زوج قبل ذلك لا يلتفت إلى قوله، وكذا إذا كان لها زوج قبل ذلك وقد مات عنها زوجها لا يلتفت إلى قوله، وإن كان قد طلقها صدق ديانة باتفاق الروايات ويدين في القضاء في رواية أبي سليمان لأنه وصفها بطلاق واقع والطلاق لا يختص بإيقاع زوج دون زوج فيصدق في ذلك۔
وفی الشامیۃ (۲۵۱/۳):قوله ( وكذا لو نوى الخ ) قال في البحر ومنه أي من الصريح يا طالق أو يا مطلقة بالتشديد ولو قال أردت الشتم لم يصدق قضاء ودين خلاصة ولو كان لها زوج طلقها قبل فقال أردت ذلك الطلاق صدق ديانة باتفاق الروايات وقضاء في رواية أبي سليمان وهو حسن كما في الفتح وهو الصحيح كما في الخانية ولو لم يكن لها زوج لا يصدق وكذا لو كان لها زوج قد مات اھ قلت وقد ذكروا هذا التفصيل في صورة النداء كما سمعت ولم أر من ذكره في الإخبار كأنت طالق فتأمل ۔
(۷۸)”طلاق دے رہا ہوں “ کے الفاظ سے طلاق کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک سال قبل میرا اپنی بیوی سے اوپر کے کمرے میں جھگڑا ہوا۔ وہ زبان درازی کررہی تھی۔ میں نے غصہ میں آکر اس کو کہا کہ نیچے آئو میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔ پھر میں اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے لے آیا اور اپنی والدہ سے کہا کہ اس کو سمجھا لو اس نے میرا دماغ خراب کیا ہوا ہے لیکن دوبارہ طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کئے۔
کل رات میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا تو کہنے لگی میں خلع لے لوں  گی۔ میری بیوی دوسرے کمرے میں تھی اور ایک گھنٹہ سے مسلسل زبان درازی کررہی تھی۔ میں نے پکارا آئو میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں ۔ وہ نہیں آئی تو پھر پکارا آئو میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں ۔ اس پر میری بیوی میرے پاس آئی اور کہنے لگی کیا آپ طلاق دے رہے ہیں ۔ میں نے کہا: ہاں جائو میں دے رہا ہوں اور میں کیا کروں ۔ میری بیوی نے کہا چلو اچھا ہے، اب تو طلاق ہوگئی جبکہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا میں  صرف ڈرانے کیلئے کہہ رہا تھا۔
الجواب بعون الملک الوھاب… صورت مسئولہ میں آپ کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں اور بیوی کے سوال کے جواب میں بھی ان ہی الفاظ کا دھرانااس سے تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور اب آپ کی (مذکورہ) بیوی آپ پر حرام ہے، کیونکہ مذکورہ الفاظ طلاق صریح کے ہیں اور طلاق صریح میں نیت کا کوئی اعتبار نہیں ۔
لمافی جامع الترمذی (۲۲۵/۱): باب ماجاء فی الجدوالھزل فی الطلاق:عن أبى هريرة ؓ قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة . قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب. والعمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبى -صلى الله عليه وسلم- وغيرهم.
وفی الدرالمختار(۲۴۸/۳):( ويقع بها ) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح۔
وفی الرد تحتہ: قوله ( وما بمعناها من الصريح ) أي مثل ما سيذكره من نحو كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر ۔
(۷۹) چھوڑنے، آزاد کرنے اور بعض دیگر کنائی الفاظ کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ لفظ "سرحتک"،" أنت حرۃ"،"آزاد کرنا" اور"میں  نے تجھے چھوڑ دیا" ، "خلیۃ" ، "رھا کردم" ، "میرے سے فارغ ہے"،" فارغ خطی"ان الفاظ سے کونسی طلاق واقع ہوتی ہے طلاق رجعی یا طلاق بائن؟ اگر طلاق بائن واقع ہوتی ہے تو طلاق بائن صریح واقع ہوتی ہے یا غیر صریح؟ اور یہ الفاظ کنایات کے قبیل سے ہیں یا الفاظ صریحہ ہیں ؟ نیز ان الفاظ کے معانی بھی ذکر کردیں ۔
الجواب بعون الملک الوھاب… (۱) الفاظ طلاق عرف پر مبنی ہیں ۔ جو الفاظ کسی بھی زبان میں طلاق ہی میں  مستعمل ہوں تو ان سے بغیر نیت کے بھی ایک طلاق رجعی واقع ہوجاتی ہے جیسے ”انت طالق“ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں لیکن صریح لفظ(الطلاق) کو اگر ایسی صفت کے ساتھ استعمال کیا جائے جس میں شدت کا معنی پایا جاتا ہو تو پھر ان سے ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی جیسے "الطلاق کالجبل، تطلیقۃ شدیدۃ"نیزکنایات سے عموماً طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے۔
(۲) علامہ شامی کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ دو لفظ "سرحتک" کا فارسی ترجمہ ’’رہاء کردم‘‘[فارس کے عر ف میں ]اور"حرام" صریح بن گئے ہیں اس کے علاوہ جو لفظ جس عرف میں  فقط طلاق کیلئے استعمال ہوتا ہو تو وہ لفظ صریح بن جائے گا اور اس سے بغیر نیت کے طلاق واقع ہو جائے گی۔