لکھا ہے کہ قبر کی اونچائی ایک بالشت رہے، زیادہ مٹی ڈالنے سے اس کی رعایت نہ ہوسکے گی۔
عن جعفر بن محمد عن أبیہ قال: کان نبث قبر النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم شبراً۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ذکر تسنیم قبر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۲؍۲۳۴)
ویسنم القبر قدر الشبر۔ ( ۱؍۱۶۶)
ویسنم القبر مرتفعاً من الأرض مقدار شبر أو أکثر قلیلاً۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۶۹ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۵؍۱۱؍۱۴۱۳ھ
قبر پر مٹی ڈالنا اور پانی چھڑکنا سنت ہے
سوال(۱۶۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میت کو مٹی دینا، اسی طرح قبر بنانے کے بعد اس پر پانی ڈالنا آیا یہ عہدِ نبوی سے ثابت ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:قبر پر مٹی دینا اور پانی چھڑکنا سنت سے ثابت ہے۔
عن جعفر ابن محمد عن أبیہ مرسلاً أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم حثی علی المیت ثلاث حثیات بیدیہ جمیعاً وأنہ رش علی قبر ابنہ إبراہیم ووضع علیہ حصباء۔ (أخرجہ البغوي في شرح السنۃ ۵؍۴۰۱ رقم: ۱۵۱۵)
وفي حدیث اٰخر: وعنہ قال رش قبر النبي ا وکان الذي رش الماء علی قبرہ بلال بن رباح بقربۃ بدأ من قبل رأسہ حتی انتہیٰ إلیٰ رجلیہ۔ (رواہ البیہقي في دلائل النبوۃ، مشکوٰۃ المصابیح ۱۴۸-۱۴۹، مرقاۃ المفاتیح ۴؍۱۶۷ رقم: ۱۷۱۰) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۱۷؍۱؍۱۴۱۲ھ
قبر بیٹھ جانے پر دوبارہ مٹی ڈالنا؟
سوال(۱۷۰):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر قبر کی مٹی بیٹھ جائے تو اس پر دوبارہ مٹی چڑھواسکتے ہیں یا نہیں؟ واضح رہے کہ ہمارے یہاں کا قبرستان موقوفہ ہے، بعض قبریں تو دوچار روز کے بعد ہی بیٹھ جاتی ہیں، ان کو درست کراسکتے ہیں یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اگر قبر بیٹھ جائے تو اس پر دوبارہ مٹی ڈالنا درست ہے۔ (کفایت المفتی ۴؍۳۸، فتاویٰ دارالعلوم ۵؍۳۷۵، امداد الفتاویٰ ۱؍۷۵۸)
(ولا یطیین) لان عبارۃ السراجیۃ کما نقلہ الرحمتي ذکر في تجرید أبي الفضل أن تطیین القبور مکروہ والمختار أنہ لا یکرہ الخ۔ (درمختار مع الشامي ۳؍۱۴۴ زکریا)
سئل محمد بن سیرین ہل تطین القبور؟ فقال: لا أعلم بہ بأسًا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ / في تطیین القبر وما ذکر فیہ ۷؍۳۶۲ رقم: ۱۱۹۲۳)
المختار التطیین غیر مکروہ وکان عصام بن یوسف یطوف حول المدینۃ ویعمر القبور الخربۃ کما في القہستاني۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۷، البحر الرائق ۲؍۱۹۴، حلبي کبیر ۵۹۹، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۶۶،