علی ہامش مجمع الأنہر ۱؍۱۹۲ بیروت)
ومنہا العقل والبلوغ فلیس الزکوٰۃ علی صبي ومجنون ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۷۲)
ومنہا البلوغ عندنا فلا تجب علی الصبي، وہو قول علي وابن عباس رضي اللّٰہ عنہما فإنہما قالا : لا تجب الزکاۃ علی الصبي حتی تجب علیہ الصلاۃ ۔ (بدائع الصنائع / شرائط فرضیۃ الزکاۃ ۲؍۷۹ زکریا، سنن الدار قطنی ۲؍۱۱۲) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۰؍۶؍۱۴۲۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفااﷲ عنہ
دینِ قوی پر زکوٰۃ
سوال(۵۱):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں نے والد مرحوم کی وراثت میں سے اپنے بھائیوں سے پانچواں حصہ لیا ہے، جس کی رقم ایک لاکھ بیس ہزار بنتی ہے، جس میں سے ۳۵؍ہزار دے دی ہے، باقی رقم میری تجارت میں لگی ہوئی ہے، اور بھائی نے اپنی طبعیت سے میرے پاس یہ رقم چھوڑ رکھی ہے کہ جب کبھی مجھے ضرورت ہوگی میں طلب کرلوںگا، ایسی صورت میں اس رقم پر جو زکوٰۃ ہوگی وہ کس پر دینا واجب ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس رقم کی زکوٰۃ آپ پر واجب نہیں؛ بلکہ اس بھائی پر واجب ہے جو اس رقم کا اصل مستحق ہے، اس تک جب یہ رقم پہنچ جائے گی تو سالہائے ماضیہ کی زکوٰۃ بھی اسے دینی ہوگی۔
عن عائشۃ قالت: لیس فیہ زکاۃ حتی یقبضہ، عن عطاء قال: لا یزکیہ حتی یقبضہ۔ وقوی وہو ما یجب بدلاً عن سلع التجارۃ إذا قبض أربعین زکی مما مضی، کذا في الزاہدي، عن أبی جعفر قال: لیس فیہ زکاۃ حتی یقبضہ۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۳۹۰ رقم: ۱۰۲۵۹ - ۱۰۲۶۰- ۱۰۲۶۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
ففی القوی تجب الزکاۃ إذا حال الحول ویتراخی القضاء إلی أن یقبض أربعین درہماً۔ (البحر الرائق، کتاب الزکاۃ ۲؍۳۶۳ رشدیہ، خلاصۃ الفتاوی، الزکاۃ / الفصل السادس في الدیون۱؍۲۲۸ لاہور، بدائع الصنائع، الزکاۃ / مراتب الدیون ۲؍۹۰ زکریا)
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: زکاۃ أموالکم حول إلی حول فما کان من دین ثقۃ زکاۃ، وماکان من دین ظنون فلا زکاۃ فیہ، حتی یقضیہ صاحبہ۔ (المصنف لابن أبي شیبہ، الزکاۃ / فی زکاۃ الدین ۶؍۴۸۵ رقم : ۱۰۳۵۱)فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۱۳؍۱۰؍۱۴۱۳ھ
قرض پر زکوٰۃ
سوال(۵۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا ادھار رقم (جو وصول ہوسکتی ہے) پر بھی زکوٰۃ دینی واجب ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر وہ ادھار رقم بقدر نصاب ہو یا آپ کے پاس رکھی ہوئی رقم سے مل کر نصاب کو پہنچ جاتی ہو تو ادھار رقم وصول ہونے پر گذشتہ زمانہ کی زکوٰۃ دینا لازم ہوگا۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۹؍۳۲۲ ڈابھیل )