کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۹؍۷؍۱۴۲۱ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
جوان لڑکوں کا سفید بالوں پر کالی مہندی لگانا اور نماز پڑھانا؟
سوال(۵۹۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: دورِ حاضر میں عام طور سے ۲۰؍سال سے ۳۰-۳۵؍ سال کے لڑکوں کے سر کے بال اور داڑھی کے بال پک کر سفید ہوجارہے ہیں، جب کہ عمر بال پکنے کی نہیں ہے، تو کیا اس عمر کے لڑکے کالی مہندی یا کالا خضاب استعمال کرسکتے ہیں؟ اگر استعمال کرسکتے ہیں تو امامت وغیرہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:کالی مہندی یا کالا خضاب بلا کسی شرعی مصلحت وضرورت کے لگانا ممنوع ہے، اور وقت سے پہلے بال سفید ہوجانا کوئی شرعی ضرورت نہیں، بلاضرورتِ شرعی خضاب لگانے والے شخص کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ (مستفاد: امداد الفتاویٰ ۴؍۲۱۳، کفایت المفتی ۹؍۱۷۱، فتاویٰ محمودیہ ۱۵؍۱۲۳)
عن جابر رضي اللّٰہ عنہ قال: أتي بأبي قحافۃ یوم فتح مکۃ ورأسہ ولحیتہ کالثغامۃ بیاضاً فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: غیروا ہذا بشیٔ واجتنبوا السواد۔ (صحیح مسلم ۲؍۱۹۹)
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: یکون قوم یخضبون في آخر الزمان بالسواد کحواصل الحمام لایُریحون رائحۃ الجنۃ۔ (سنن أبي داؤد ۲؍۵۷۸)
قال الحافظ في الفتح: أن المأذون في الصبغ مقید بغیر السواد لما أخرجہ مسلم من حدیث جابر رضيٍ اللّٰہ عنہ وغیرہ ’’واجتنبوا السواد‘‘ الخ، وعن الحلیمي أن الکراہۃ خاصۃ بالرجال دون النساء فیجوز ذلک للمرأۃ لأجل زوجہا۔ (أوجز المسالک ۶؍۳۳۵)
ومن فعل ذٰلک لیزین نفسہ للنساء ولیحبب نفسہ إلیہن فذٰلک مکروہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۵؍۳۵۹، شامي ۹؍۱۷۱ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲۷؍۱۱؍۱۴۲۱ھ
بطور دوا ’’گل‘‘ کا استعمال کرنے والے کی امامت؟
سوال(۵۹۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میرے دانتوں میں درد کی شکایت رہتی تھی، جس کی بنا پر میں نے داڑھ کو بھی نکلوادیا، تو مجھے بنگال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ دانتوں پر ’’گل‘‘ کیاکرو، گل تمباکو کا برادہ ہوتا ہے، جس کو ہم منجن کے طریقہ پر استعمال کرتے ہیں، نیز ہم ایک مسجد میں امامت بھی کرتے ہیں، تو بعض لوگوں کو یہ اشکال ہے کہ تم گل کیوں کرتے ہو؟ لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہمیں گل کرنے سے کوئی نشہ وغیرہ نہیں آتا ہے، تو کیا ہمارے لئے بطور دوا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز گل کے استعمال کے بعد نماز پڑھنا اور امامت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ضرورۃً اور دوا کے طور پر ’’گل ‘‘کا استعمال شرعاً درست ہے، گل