ثم یقعد إن عجز وہو المذہب الصحیح لا یروي خلافہ عن أصحابنا۔ (شامی الصلاۃ؍ باب صلاۃ المریض ۲؍۹۷ کراچی، ۲؍۵۶۷ زکریا)
ومنہا القیام … لقادر علیہ وعلی السجود۔ (الدرالمختار مع الشامي الصلاۃ؍ باب صفۃ الصلاۃ ۱؍۴۴۵کراچی)
ویفترض القیام وہو رکن متفق علیہ في الفرائض والواجبات، علی قادر علیہ و علی الرکوع و السجود۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقي الفلاح، الصلاۃ؍ باب شروط الصلاۃ و أرکانہا ۲۲۴)
عن عمران بن حصین رضی اللّٰہ عنہ قال: کانت بي بواسیر فسألت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الصلاۃ فقال: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعداً، فإن لم تستطع فعلیٰ جنب۔ (صحیح البخاري، تقصیر الصلاۃ؍ باب: إذا لم یطق قاعداً صلی علی جنب ۱؍۱۵۰ رقم ۱۱۰۶، ف ۱۱۱۷، سنن أبي داؤد، الصلاۃ؍ باب صلاۃ القاعد ۱؍۱۳۷ رقم ۹۵۲، سنن الترمذي، الصلاۃ؍ باب ما جاء أن صلاۃ القاعد علی النصف ۱؍۸۵ رقم ۳۶۹)
ولأن الطاعۃ بحسب الطاقۃ، ولو قدر علی بعض القیام لا کلہ لزمہ ذٰلک القدر۔ (ہدایہ مع فتح القدیر، الصلاۃ؍ باب صلاۃ المریض ۲؍۳ بیروت، الفتاویٰ التاتارخانیۃ، الصلاۃ؍ صلاۃ المریض ۲؍۶۶۸ رقم ۳۵۳۷ زکریا)
وإذا کان قادراً علی بعض القیام ولو قدر اٰیۃ أو تکبیرۃ دون تمامہ یؤمر بأن یقوم مقدار ما یقدر۔ (البحر الرائق الصلاۃ؍ باب صلاۃ المریض ۲؍۱۱۲، عالمگیری الصلاۃ؍ الباب الرابع عشر فی صلاۃ المریض ۱؍۱۳۶، فتح القدیر الصلاۃ؍ باب صلاۃ المریض ۲؍۳ بیروت،)
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: یصلی المریض قائماً، فإن نالتہ مشقۃ صلی جالساً فإن نالتہ مشقۃ صلی نائماً یؤمی برأسہ، فإن نالتہ مشقۃ سبح۔ (المعجم الأوسط للطبراني ۳؍۱۰۳ رقم ۳۹۹۷) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۸؍۴؍۱۴۲۱ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
جو شخص صرف پہلی رکعت میں قیام کرسکتا ہو، اس کا حکم؟
سوال(۱۳۲۸):-کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو معذور شروع میں رکعت اول میں تو قیام کرسکتا ہے مگر ہر رکعت میں قیام کرنے سے دقت ہوتی ہے، تو رکعت اول میں قیام ضروری ہے یا ابتداء ہی سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق: ایسے شخص کے لئے پہلی رکعت میں قیام ضروری ہے، دوسری رکعت میں اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ سکتا ہے۔
قال علیہ السلام: لعمران بن حصین: صل قائماً فإن لم تستطع فقاعداً۔ (أبوداؤد شریف ۱؍۱۳۷ رقم: ۹۵۲)
وإن قدر علی بعض القیام ولو متکئاً علی عصا أو حائط قام لزوماً بقدر ما یقدر، ولو قدر آیۃ أو تکبیرۃ علی المذہب؛ لأن البعض معتبر بالکل۔ وفي الشامیۃ: بأن یکبر قائماً ویقرأ ما قدر علیہ ثم یقعد إن عجز، وہو المذہب الصحیح لا یروی خلافہ عن أصحابنا۔ (شامی الصلاۃو باب صلاۃ المریض ۲؍۵۶۷ زکریا، ۲؍۹۷ کراچی)
ولو قدر علی بعض القیام لا کلہ لزمہ ذٰلک القدر حتی لو کان إنما یقدر علی قدر التحریمۃ