آواز جہاں تک پہنچے وہ اس آبادی کے لئے کافی ہوجاتی ہے؛ لہٰذا ریڈیو کے ذریعہ شہر کی تمام مساجد میں بیک وقت اذان دینے سے پوری آبادی پر سے سنت مؤکدہ علی الکفایہ کا ذمہ ساقط ہوجائے گا، اور اس کے بعد مساجد میں جو جماعتیں ادا کی جائیں گی وہ خلافِ سنت نہ کہلائیںگی؛ تاہم ایسا کرنا خلافِ اولیٰ ہے، جیساکہ جواب نمبر ایک میں گذرا۔
واستظہر في البحر کونہ سنۃ علی الکفایۃ بالنسبۃ إلی کل أہل بلدۃ بمعنی أنہ إذا فعل في بلدۃ سقطت المقاتلۃ عن أہلہا۔ قال: ولو لم یکن سنۃ علی الکفایۃ بہٰذا المعنی لکان سنۃ في حق کل أحد، ولیس کذٰلک، إذ أذان الحي یکفینا کما سیأتي۔ قال في النہر: ولم أر حکم البلدۃ الواحدۃ إن اتسعت أطرافہا کمصر، والظاہر أن أہل کل محلۃ سمعوا الأذان ولو من محلۃ أخریٰ یسقط عنہم لا إن لم یسمعوا۔ (شامي ۲؍۴۹ زکریا)
وإذا قسّم أہل المحلۃ المسجد وضربوا فیہ حائطاً ولکل منہم إمام علی حدۃ ومؤذن واحد لا بأس بہ، والأولیٰ أن یکون لکل طائفۃ مؤذن۔ (البحر الرائق ۲؍۶۲ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۳؍۲؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
ٹیپ ریکارڈ کی اذان معتبر نہیں
سوال(۸۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی مسجد میں باقاعدہ مؤذن کے ذریعہ اذان دینے کے بجائے اذان کے وقت ٹیپ ریکارڈ چلادیا جائے، تو اس سے اذان کی سنت ادا ہوجائے گی یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ٹیپ ریکارڈ سے بلند ہونے والی آواز صدائے بازگشت کے حکم میں ہے؛ کیوںکہ وہ آلہ غیرمختار سے نکل رہی ہے؛ لہٰذا ٹیپ ریکارڈ کے ذریعہ اذان دینے سے سنتِ اذان ادا نہ ہوگی، یہ ایسا ہی ہے جیساکہ ٹیپ شدہ آیتِ سجدہ کے سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا۔
مستفاد: لا تجب بسماعہ من الصدیٰ (درمختار) ہو ما یجیبک مثل صوتک في الجبال والصحاریٰ ونحوہما کما في الصحاح۔ (شامي ۲؍۵۸۳ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۴؍۲؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
اقامت کا مسنون طریقہ
سوال(۸۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اقامت کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اِقامت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اولاً ایک سانس میں چار مرتبہ ’’اللّٰہ أکبر‘‘ کہا جائے، اور ہر ’’اللہ اکبر‘‘ کی ’’راء‘‘ پر سکون کیا جائے، اور اگر ملاکر پڑھیں تو ’’راء‘‘ پر زبر کی حرکت ظاہر کریں، ’’راء‘‘ پر پیش پڑھنا خلافِ سنت ہوگا، اس کے بعد ایک سانس میں ’’أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ، أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘‘ پڑھیں، اور ’’اللہ‘‘ کی ’’ہ‘‘ پر سکون کریں، اس کے بعد ایک سانس میں ’’أشہد أن محمداً رسول اللّٰہ، أشہد أن محمداً رسول