اللّٰہ‘‘ پڑھیں، اور ہر کلمہ پر اخیر میں سکون کریں، اعراب ظاہر نہ کریں، اسی طرح ایک ایک سانس میں حیعلتین (حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح) کہیں، اس کے بعد ’’قد قامت الصلاۃ‘‘ الگ الگ سانس میں کہیں، پھر ’’اللّٰہ أکبر، اللّٰہ أکبر‘‘ ایک سانس میں اور ’’لا إلٰہ إلا اللّٰہ‘‘ ایک سانس میں کہیں۔
عن عمار بن سعد عن أبیہ سعد القرظ أنہ سمعہ یقول: إن ہٰذا الأذان یعني أذان بلال الذي أمرہ بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وإقامتہ وہو اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر، أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ، أشہد أن محمداً رسول اللّٰہ أشہد أن محمداً رسول اللّٰہ، ثم یرجع فیقول: أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ، أشہد أن محمداً رسول اللّٰہ أشہد أن محمداً رسول اللّٰہ، حي علی الصلاۃ حي علی الصلاۃ، حي علی الفلاح حي علی الفلاح، اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر، لا إلٰہ إلا اللّٰہ، والإقامۃ واحدۃ واحدۃ، ویقول: قد قامت الصلاۃ مرۃ واحدۃ۔ (السنن الکبریٰ للإمام البیہقي، کتاب الصلاۃ / باب الترجیع في الأذان ۱؍۵۸۰ رقم: ۱۸۴۹ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وفي الإمداد: ویجزم الراء: أي یسکنہا في التکبیر، قال الزیلعي: یعني علی الوقف، لٰکن في الأذان حقیقۃ، وفي الإقامۃ ینوي الوقف أي للحدر الخ۔ وحاصلہا أن السنۃ أن یسکن الراء من اللّٰہ أکبر الأول أو یصلہا بـ اللّٰہ أکبر الثانیۃ، فإن سکنہا کفیٰ، وإن وصلہا نویٰ السکون فحرک الراء بالفتحۃ، فإن ضمہا خالف السنۃ۔ (شامي ۲؍۴۷-۴۸ بیروت، ۲؍۵۱-۵۲ زکریا)
إلا ’’الإقامۃ‘‘ فیقول: ’’قد قامت الصلاۃ‘‘ في نفسین مترسلاً؛ لأنہ ہو روح الإقامۃ۔ (إعلاء السنن ۲؍۵۸، فیض الباري ۲؍۱۶۰) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۱؍۲؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
نماز کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے اذان؟
سوال(۸۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے اذان دینا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز کے علاوہ بعض دیگر مواقع کے لئے بھی فقہاء نے اذان کا ذکر فرمایا ہے، مثلاً:
(۱)بچہ کے کان میں اذان دینا۔
(۲) جو شخص غم زدہ ہو اس کے کان میں اذان دینے سے اس کا غم ہلکا ہوجاتا ہے۔
(۳) جس شخص کو بیماری کے دورے پڑتے ہوں، اس کے لئے بھی اذان دینا مفید ہے۔
(۴) جس شخص پر غصہ غالب ہوجائے تو اذان دینا اس کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے میں معاون ہے۔
(۵) جو جانور بدک جائے یا جس انسان کے اخلاق بگڑجائیں اس پر بھی اذان دینا مفید ہے۔
(۶) جب دشمن کی فوج حملہ آور ہو، اُس وقت اذان دی جائے۔ (فسادات کے موقع پر اذان کا بھی یہی حکم ہے)
(۷) آگ پھیل جانے کے وقت بھی اذان دینے کا حکم ہے۔
(۸) سرکش جنات کے شر سے بچنے کے لئے بھی اذان دینا ثابت ہے۔ (اس بارے میں ایک صحیح حدیث موجود ہے)
(۹) جو شخص جنگل میں راستہ بھٹک جائے وہ بھی اذان دے سکتا ہے۔ (تلخیص: شامی زکریا