۲؍۵۰)
وفي حاشیۃ البحر للخیر الرملي: رأیت في کتب الشافعیۃ أنہ قد یسن الأذان لغیر الصلاۃ، کما في أذن المولود، والمہموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقہ من إنسان أو بہیمۃ، وعند مزدحم الجیش، وعند الحریق، قیل: وعند إنزال المیت القبر قیاساً علی أول خروجہ للدنیا، لکن ردہ ابن حجر في شرح العباب، وعند تغول الغیلان: أي عند تمرد الجن لخیر صحیح فیہ۔ أقول: ولا بعد فیہ عندنا۔ (شامي ۲؍۵۰ زکریا، ۱؍۳۸۵ کراچی، منحۃ الخالق ۱؍۲۵۶ کوئٹہ)
وکذا یندب الأذان وقت الحریق ووقت الحرب، وخلف المسافر، وفي أذن المہموم والمصروع۔ (الفقہ علی المذاہب الأربعہ مکمل ۱۹۴ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۱؍۲؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ
زلزلہ کے وقت اذان دینا؟
سوال(۸۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: پچھلے دنوں جو قہر زلزلہ پڑا تھا اکثر جگہوں پر لوگوں نے اذانیں پڑھیں، کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟ سلف وخلف سے اس طرح کی کوئی بات ملی ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: زلزلہ کے لئے اذان دینا شریعت میں مسنون نہیں ہے؛ لیکن اگر دہشت دور کرنے کی غرض سے اذان دی جائے تو گنجائش ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ ۵؍۴۰۶ ڈابھیل)
ولا یسن لغیرہا: أي من الصلوات، وإلا فیندب للمولود، وفي حاشیۃ البحر للخیر الرملي: رأیت في کتب الشافعیۃ: أنہ قد یسن الأذان لغیر الصلٰوۃ کما في أُذُنِ المولود و المہموم والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقہ من إنسان أو بہیمۃ و عند مزدہم الجیش، وعند الحریق، وقیل: عند إنزال المیت القبر قیاسا علی أول خروجہ للدنیا، لکن ردہ ابن حجر في شرح العباب۔ (شامي ۱؍۳۸۵ کراچي کذا في منحۃ الخالق ۱؍۲۵۶، شامي ۲؍۵۰ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۱۵؍۳؍۱۴۲۰ھ
خوف و دہشت کے وقت اذان دینا؟
سوال(۸۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: خوف ودہشت کے وقت اس عقیدے سے اذان دینا کہ اس سے خوف ودہشت دور ہوجائے درست ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:خوف ودہشت کے وقت اس عقیدے سے اذان دینا کہ خوف ودہشت دور ہو، جائز ہے۔ (امداد الفتاویٰ ۱؍۱۰۷)
عن سہیل قال: أرسلني أبي إلی بني حارثۃ قال ومعي غلام لنا (أو صاحب لنا) فناداہ مناد من حائط باسمہ قال: فأشرف الذي معي علی الحائط فلم یر شیئاً فذکرت لأبي، فقال: لو شعرتُ أنک تلقی لہٰذا لم أرسلک ولٰکن إذا سمعت صوتا فناد بالصلاۃ فإني سمعت أبا ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ یحدث عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: إن الشیطان إذا نودي بالصلاۃ وليّ ولہ حُصاص۔ (صحیح مسلم، الصلاۃ / فضل الأذان وہرب الشیطان عند سماعہ ۱؍۱۶۷ رقم: ۳۸۹)
قد یسن الأذان لغیر الصلاۃ قالوا: یسن للمہموم أن یأمر غیرہ أن یؤذن في أذنہ فإنہ یزیل الہم۔