ہے، اس کے استعمال سے الفاظ اذان میں کچھ ایسی ندرت پیدا ہوجاتی ہے جو بہت اچھی لگتی ہے، ساتھ ساتھ پرکشش بھی ہوجاتی ہے، کیا اس آلہ کا استعمال درست ہے؟
باسمہٖٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اذان میں آواز کی بلندی اور حسنِ صوت مطلوب ہے، اس لئے اذان میں مذکورہ آلہ کو لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مستفاد: لقولہ علیہ السلام لبلال رضي اللّٰہ عنہ: اجعل إصبعیک في أذنیک، فإنہ أرفع لصوتک۔ (شامی ۲؍۵۴، والحدیث أخرجہ ابن ماجۃ في سننہ، أبواب الأذان والسنۃ فیہا / باب السنۃ في الأذان ۱؍۵۲ رقم: ۷۱۰)
وفي حدیث عبد اللّٰہ بن زید بن عبد ربہ فإنہ أندیٰ صوتا منک وقال النووی: من ہذا الحدیث یؤخذ استحباب کون المؤذن رفیع الصوت۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ۲؍۳۲۱ باب الأذان)
منہا أن یجہر بالأذان فیرفع بہ صوتہ؛ لأن المقصود وہو الإعلام یحصل بہ۔ (بدائع الصنائع ۱؍۳۶۹ زکریا)
عن أبي سعید الخدري رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا یسمع مدی صوت المؤذن جن ولا إنس ولا شيء إلا شہد لہ یوم القیامۃ۔ (صحیح البخاري، الأذان / باب رفع لاصوت بالنداء ۱؍۸۵-۸۶ رقم: ۶۰۹، سنن النسائي، الصلاۃ / باب الصوت بالأذان ۱؍۷۵ رقم: ۶۴۴، ومالک في المؤطا رقم: ۴، ابن ماجۃ، کتاب الأذان والسنۃ / باب فضل الأذان وثواب المؤذنین رقم: ۷۲۳، مسند أحمد ۳؍۳۵، مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ۲؍۳۲۶ رقم: ۶۵۶ بیروت) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۴؍۸؍۱۴۲۸ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
۱۶؍سال کے بچہ کی اذان کا حکم
سوال(۹۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک لڑکا جس کی عمر ۱۶؍سال ہے، وہ مسجد ہری چگو والی میں اذان پڑھتا ہے، کیا یہ لڑکا اذان پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ کچھ لوگ اس لڑکے کے اذان پڑھنے پر اعتراض کررہے ہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:۱۶ ؍سال کا لڑکا شرعاً بالغ ہے، اس کا اذان دینا درست ہے، اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں ہے۔
أذان الصبي العاقل صحیح من غیر کراہۃ في ظاہر الروایۃ ولکن أذان البالغ أفضل۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۵۴، بدائع الصنائع ۱؍۱۵۰ کراچی، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۴۵ رقم: ۱۹۸۳ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۵؍۳؍۱۴۱۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
شیعوں کی اذان حضرت بلالؓ کی اذان نہیں ہے
سوال(۹۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: شیعہ حضرات کے یہاں جو اذان پڑھی جاتی ہے اس میں چار بول زیادہ ہیں، اور ہمارے یہاں جو اذان پڑھی جاتی ہے اس میں چار بول کم ہیں، شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ ہماری اذان وہ ہے جو حضرت بلال رضی اﷲ عنہ پڑھتے تھے۔