باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:شیعوں کا دعویٰ قطعاً غلط ہے، حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کی اذان وہی تھی جو سنی حضرات نے اختیار کی ہے، حدیث کی تمام مستند کتابوں میں اس کی صراحت اور تفصیل موجود ہے۔
عن أبي محذورۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: لمّا رجع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من حنین خرجتُ عاشر عشرۃٍ من مکۃ أطلبہم، فسمعتہم یؤذنون فقمنا نؤذن۔ فقام النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: لقد سمعت في ہٰؤلاء تأذین إنسان حسن الصوت، فأرسل إلینا فأذنا رجلاً رجلاً، فکنت آخرہم، فقال: حین أذنت تعال … ثم قال: إذہب فأذن عند البیت الحرام، قلت: کیف یا رسول اللّٰہ! فعلّمني الأذان کما یؤذن الآن بہا۔ اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر، أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ، أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ، أشہد أن محمد رسول اللّٰہ، أشہد أن محمد رسول اللّٰہ، حي علی الصلاۃ، حي علی الصلاۃ، حي علی الفلاح، حي علی الفلاح، الصلاۃ خیر من النوم، الصلاۃ خیر من النوم - في الأولیٰ من الصبح - اللّٰہ أکبر اللّٰہ أکبر، لا إلٰہ إلا اللّٰہ۔ (نخب الأفکار في تنقیح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار للإمام بدر الدین العیني ۴؍۱۶ دار الیسر المدینۃ المنورۃ) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقرمحمد سلمان منصور پوری غفرلہ۱؍۱۱؍۱۴۲۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفااﷲ عنہ

اَذان اور اِقامت میں غلطی کرنا
کلماتِ اذان میں بے محل مد کرنا؟
سوال(۹۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:اذان میں ’’أشہد أن لا إلٰہ‘‘ میں ’’الہ‘‘ کے ’’ہ‘‘ میں مد کرنے سے کیا خرابی ہے؟ اور ’’حي علی الصلاۃ‘‘ میں ’’حیّ‘‘ کی ’’ی‘‘ پر مد کرنے سے کیا خرابی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ’’إلٰہ‘‘ کے ’’ہ‘‘ میں اور ’’حي‘‘ کی ’’ی‘‘ میں مد کرنا بے محل ہونے کی وجہ سے منع ہے، اس سے معنی بگڑنے کا اندیشہ ہے؛ اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
ومنہا: ترک اللحن في الأذان، لما روي أن رجلا جاء إلی ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما فقال: إني أحبک في اللّٰہ تعالیٰ، فقال ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما: إني أبغضک في اللّٰہ تعالیٰ: فقال: لم! قال: لأنہ بلغني أنک تغني في أذانک یعني التلحین۔ (بدائع الصنائع، الصلاۃ / سنن الأذان ۱؍۳۷۱ زکریا، ۱؍۶۴۴ بیروت، ۱؍۱۵۰ کراچی)
ولا لحن فیہ أي تغني بغیر کلماتہ فإنہ لا یحل فعلہ و سماعہ (درمختار) وقال الشامي: قولہ بغیر کلماتہ أي بزیادۃ حرکۃ أو حرف أو مد أو غیرہا في الأوائل والأواخر۔ (درمختار مع الشامي ۲؍۵۲-۵۳ زکریا، ۱؍۳۸۷ کراچی)