سن للفرائض بلا ترجیع و لحن (الکنز) قولہ: ولحن: … ولہذا فسرہ ابن الملک بالتغني بحیث یؤدي إلی تغییر کلماتہ، وقد صرحوا بأنہ لا یحل فیہ، وتحسین الصوت لا بأس بہ من غیر تغنٍ، کذا في الخلاصۃ۔ (البحر الرائق ۱؍۴۴۲ رشیدیۃ، ۱؍۲۵۶ کوئٹہ)
ویکرہ التلحین وہو التطریب والخطاء في الأعراب۔ (مراقي الفلاح ۱۰۷)
لأن اللحن حرام بلاخلاف۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۵؍۳۱۷) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصور پوری غفر لہ
۱۰؍ ۴؍ ۱۴۲۵ھ
کلماتِ اذان کو بگاڑ کر ادا کرنا
سوال(۹۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک صاحب اذان وتکبیر غلط پڑھتے ہیں، جب کہ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ ہے، وہ پڑھتے ہیں: ’’اشہدو الالہ لاہا اللہ‘‘ اور ’’حی علی الصلوہاہا‘‘ اور ’’محمد الر‘‘ کی جگہ ’’موحامد الرسول اللہ‘‘، مسجد کے قریب پندرہ بیس دوکانیں ہیں، وہ لوگ بھی مذاق اڑاتے ہیں اور اگر کوئی اذان پڑھنے کا ارادہ بھی کرے تو اس سے پہلے مائک پر پہنچ کر غلط اذان پڑھتے ہیں، اتفاق سے کوئی دوسرا بھی پڑھ دے تو وہ حجرے سے آنے نہیں دے گا، اور امام کے مصلیٰ پر پہنچے بغیر تکبیر شروع کی، کتنی بار منع کیا؛ لیکن وہ نہیں مانتے، بہرا آدمی ہے ہر کسی پر فتویٰ دیتے ہیں، مثلاً پانچوں وقت کا نمازی مسجد میں آنے والا اگر کسی وجہ سے فجر میں نہ آسکے، توکہتے ہیں اللہ ان کی نماز قبول نہیں کرتا، فتویٰ بھی امام کے سامنے ہر ایک سے اکڑنا، نمازی کہتے ہیں کہ اس کو کون منہ لگائے، یہ تو جاہل ہے، جہاں اذان وتکبیر ہی صحیح نہیں، تو کیا ہم دوسری مسجد میں جائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اعراب کی غلطی کی وجہ سے اذان واقامت مکروہ ہوجاتی ہے؛ لہٰذا مسئولہ صورت میں مسجد کے بااثر لوگوں کو چاہئے کہ مؤذن ایسے شخص کو بنائیں جو اذان کے الفاظ اچھی طرح ادا کرسکے، نیز وہ نیک ہو اور مسائل دینیہ سے بھی واقف ہو؛ تاہم اگر مؤذن تبدیل نہ ہو تو اس کی وجہ سے کسی مقتدی کے لئے اپنی مسجد کو چھوڑکر دوسری مسجد میں جانا اچھا نہیں ہے۔
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لیؤذن لکم خیارکم ولیؤمکم قراؤکم۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۸۷ رقم: ۵۹۰)
إن المستحب کون المؤذن عالما بالسنۃ۔ (ہدایۃ ۱؍۹۰)
وینبغي أن یکون المؤذن رجلا عاقلا صالحاً تقیا عالما بالسنۃ مواظبا علیہ، وفي الکافي: والأولیٰ أن یتولی العلماء أمر الأذان، وفي الجامع الصغیر الحسامي: قال یعقوب: رأیت أبا حنیفۃ یؤذن في المغرب ویقیم ولا یجلس، فہذا یدل علی أن الحق أن المفتی ہو المؤذن۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۴۴ رقم: ۱۹۷۹ زکریا)
ویکرہ التلحین وہو التطریب والخطاء في الأعراب۔ (مراقي الفلاح ۱۰۷)
ومنہا: ترک اللحن في الأذان، لما روي أن رجلا جاء إلی ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما فقال: إني أحبک في اللّٰہ تعالیٰ، فقال ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما: إني أبغضک في اللّٰہ تعالیٰ: فقال: لم؟ قال: لأنہ بلغني أنک تغني في أذانک یعني التلحین۔ (بدائع الصنائع ۱؍۶۴۴ بیروت، ۱؍۱۵۰ کراچی، ۱؍۳۷۱ زکریا)