وہ نہ کر سکا تو احسان کے ساتھ چھوڑ دینا چاہئے ،اس آیت میں اس کا ثبوت ہے ۔الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ۔( آیت ۲۲۹، سورۃ البقرۃ ۲)(۷) اذا طلقتم النساء فبلغن أجلھن فأمسکوھن بمعروف أو سرحوھن بمعروف و لا تمسکوھن ضرارا لتعتدوا(آیت ۲۳۱، سورۃ البقرۃ ۲)ان آیتوں میں ہے کہ امساک بالمعروف نہ کر سکو تو احسان کے ساتھ چھوڑ دو ۔ اور شوہر احسان کے ساتھ نہیں چھوڑتا تو قاضی اس کا قائم مقام ہو کر تفریق کروائے گا ۔

﴿(۱۱) شوہر کا جذام ، برص، یا اس جیسے موذی مرض میں مبتلاء ہو نا﴾
اگر شوہر جذام ، برص، یا اس جیسے موذی مرض میں نکاح کے بعد مبتلاء ہوا تو عورت کی درخواست پر قاضی تحقیق حال اور ثبوت شرعی کے بعد شوہر کو ایک قمری سال علاج کی مہلت دیگا ، اس کے بعد بھی اگر افاقہ نہ ہوا اور بیوی پھر تفریق کا مطالبہ کرے تو قاضی تفریق کر دیگا۔( مجموعہ قوانین اسلامی ،دفعہ ۷۵، ص ۱۹۴)
وجہ : اس کی دلیل مجنون کے تحت میں گزر چکی ہے ۔ وہاں دیکھیں ۔
اگر شوہر نکاح سے پہلے ان امراض میں مبتلاء تھا اور عورت کو بھی پہلے سے اس کا علم تھا ، اس کے باوجود عورت نے نکاح کیا تو اب اسے تفریق کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہو گا ۔
وجہ : (۱) مرض کو جانتے ہوئے نکاح کیا ہے اس لئے عورت اس مرض اور اس کے نقصان سے راضی تھی اس لئے اب اس کو تفریق کا حق حاصل نہیں ہو گا ۔ (۲) اس قول تابعیمیں اس کا ثبوت ہے۔ قلت عطاء أرأیت ان أقدمت امراۃ علی رجل و ھی تعلم انہ لا یأتی النساء ؟ قال لیس لھا کلامہ و لا خصومتہ ھو أحق بھا ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب المرأۃ تنکح الرجل و ھی تعلم أنہ عنین ، ج سادس ، ص ۲۰۲، نمبر ۱۰۷۷۳) اس قول تابعی میں ہے کہ پہلے سے عنین ہو نا معلوم ہو پھر بھی نکاح کیا تو اب اس کو تفریق کا حق نہیں ہو گا ، اسی طرح یہ امراض ہونا معلوم ہو تو اس کو تفریق کا حق نہیں ہو گا ۔
لیکن اگر عورت کو اس کا علم نہیں تھا اور شادی ہوگئی تو عورت کو قاضی کے یہاں درخواست دیکر نکاح فسخ کرانے کا حق ہوگا ، اس کی دلیل مجنون کے تحت میں گزر چکی ہے ۔

﴿(۱۲)غیر کفو میں نکاح کرنا ﴾
غیر کفو میں نکاح کی کئی صورتیں ہیں اور ہر ایک کا الگ الگ حکم ہے اس کو دیکھیں :۔
[۱] باپ یا دادا پورے ہوش حواس کی حالت میں اور پوری خیر خواہی ، دور بینی اور عاقبت اندیشی کے ساتھ نا بالغ اولاد کی مصالح اور اس کی بھلائی کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا نکاح ایسی جگہ کردیں جو معاشرت میں اس کا ہم پلہ نہ ہو تو اس کا نکاح منعقد ہو گا اور لازم بھی رہے گا ۔(مجموعہ قوانین اسلامی ،دفعہ ۶۹، ص۱۸۸)
وجہ : (۱) باپ اور دادا کو نا بالغ اولادکے نکاح کرانے کا حق ہے ، اور مصلحت اور خیر خواہی کو سامنے رکھتے ہوئے نکاح کیا ہے اس لئے یہ نکاح منعقد ہو گا ، اور فسخ کرانے کا حق بھی نہیں ہو گا ، ہاں نفقہ ادا نہ کرتا ہو، یا حق زوجیت ادا نہ کرتا ہو، یا شقاق ہو تو ان بنیادوں پر قاضی سے تفریق کرا جا سکتا ہے کفو کی بنیاد پر نکاح فسخ نہیں کرا سکتا ۔ کیونکہ ان دو نوں میں شفقت کامل بھی ہے اور عقل کامل بھی ہے ۔ (۲)اس قول تابعی میں ہے ۔ عن عطاء انہ اذا انکح الرجل ابنہ الصغیر فنکاحہ جائز ولا طلاق لہ ۔ (سنن للبیہقی ، باب الاب یزوج ابنہ الصغیر، ج سابع، ص ۲۳۲،نمبر۱۳۸۱۷؍ مصنف ابن ابی شیبۃ ۱۲ فی رجل یزوج ابنہ وھو صغیر من اجازۃ ،ج ثالث ،ص ۴۴۹،نمبر۱۶۰۰۹) اس قول تابعی میں ہے کہ باپ نے نابالغ بیٹے کی شادی کرائی تو اس کو طلاق دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔یعنی خیار بلوغ نہیں ملے گا۔اور اسی میں دادا بھی داخل ہوگا۔(۳) حضرت ابوبکرؓ نے اپنی نا بالغہ لڑکی حضرت عائشہؓ کی شادی حضورؐ سے کروائی