اورہو بھی گئی۔عن عائشۃ ان النبی ﷺ تزوجھا وھی بنت ست سنین وادخلت علیہ وھی بنت تسع ومکثت عندہ تسعا (بخاری شریف ، باب النکاح الرجل ولدہ الصغار ص ۷۷۱ نمبر ۵۱۳۳؍ مسلم شریف ، باب جواز تزویج الاب البکر الصغیرۃ ص ۴۵۶ نمبر ۱۴۲۲؍۳۴۸۱) اس حدیث میں چھ سال کی نابالغ لڑکی کی شادی باپ نے کروائی اور نکاح ہو گیا۔
[۲] بالغ لڑکا اپنا نکاح ایسی جگہ کر لے جو معاشرت میں اس سے بہت نیچے ہو ۔ تب بھی اس کا نکاح منعقد ہو گا ، اور لازم بھی ہو گا ، کفو کی بنیاد پر ولی اس کی تفریق نہیں کرا سکتا ۔
وجہ : (۱) بالغ لڑکے کو اپنا نکاح کرنے کا حق ہے ، اس لئے اس کو فسخ نہیں کرایا جا سکتا ہے ۔ (۲) جب بالغ لڑکی اپنا نکاح خود کر سکتی ہے تو لڑکا کیوں نہیں کرسکتا ۔ لڑکی کی دلیل آگے آرہی ہے
[۳] باپ دادا کے علاوہ دوسرا ولی نا بالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح ایسی جگہ کر دے جو معاشرت میں اس کے مساوی نہ ہو ، تو یہ نکاح ہی منعقد نہیں ہو گا ۔
وجہ : (۱)کیونکہ باپ دادا کے علاوہ ولیوں کو کفو میں نکاح کرانے کا اختیار ملتا ہے ، اس لئے غیر کفو میں نکاح کرانے سے منعقد ہی نہیں ہو گا ۔ (۲)بیوی اور شوہر کی طبیعت ملنی ضروری ہے۔اور یہ کفو ہو تب ہی ہو سکتا ہے۔اس لئے کفو میں شادی کرنا چاہئے۔البتہ غیر کفو میں شادی کرے تو صحیح ہے ،لیکن تفریق کا حق ہوگا۔(۳) عن جابر بن عبد اللہ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تنکحوا النساء الا الاکفاء و لا یزوجھن الا الاولیاء، و لا مھر دون عشرۃ دراھم ۔ ( دار قطنی ، باب کتاب النکاح ، ج ثالث ، ص ۱۷۳، نمبر ۳۵۵۹؍ سنن بیہقی، باب اعتبار الکفائۃ ، ج سابع ،ص۲۱۵، نمبر ۱۳۷۶۰) اس حدیث میں ہے کہ کفو میں ہی شادی کرے ۔ (۴) عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ ﷺ تخیروا لنطفکم وانکحوا الاکفاء وانکحوا الیہم۔ (ابن ماجہ شریف،باب الاکفاء ص ۲۸۱ نمبر ۱۹۶۸؍ دار قطنی ، کتاب النکاح ج ثالث ص ۲۰۷ نمبر ۳۷۴۶) اس حدیث میں بھی ہے کہ کفو میں نکاح کرو ، جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر کفو میں نکاح کیا تو تفریق کرانے کا حق ہو گا (۵)کتب عمر بن عبد العزیز فی الیتیمین اذا زوجا وھما صغیران انھما بالخیار۔(۶) دوسری روایت میں ہے ۔عن ابن طاؤس عن ابیہ قال فی الصغیرین ھما بالخیار اذا شبا (مصنف ابن ابی شیبۃ ۱۰ الیتیمۃ تزوج وھی صغیرۃ من قال لھا الخیار ج ثالث، ص ۴۴۸،نمبر۱۵۹۹۵؍۱۵۹۹۸) اس قول تابعی میں ہے کہ یتیم ی اور یتیمہ کی شادی کرائی ۔یتیمہ کے والد کا انتقال ہوگیا ہے اس لئے اس کے علاوہ نے ہی شادی کرائی ہوگی۔اس لئے ان کو خیار فسخ ملے گا ۔
[۴] باپ دادا اپنی بے غیرتی ، لا پرواہی ، یا لالچ وغیرہ کی وجہ سے نا بالغ لڑکا،یا لڑکی کے مصالح اور اس کی بھلائی کو پیش نظر رکھے بغیر یا نشہ کی حالت میں اس کا نکاح ایسی جگہ کردے جو اس کے ہم پلہ نہ ہو ، تو اس کا نکاح ہی نہیں ہو گا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی ، دفعہ۶۹، ص ۱۸۹)
وجہ :(۱) باپ دادا کو مصلحت کے لئے نکاح کرانے کا حق دیا گیا ہے ، اور یہاں ظاہری مصلحت کے خلاف کیا اس لئے یہ نکاح ہی نہیں ہو گا ۔ (۲) اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے ۔عن ابن عباس ان جاریۃ بکرا اتت النبی ﷺ فذکرت ان اباھا زوجھا وھی کارھۃ فخیرھا النبی ﷺ۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی البکر یزوجھا ابوھا ولا یستامرھا ص ۲۹۲ نمبر ۲۰۹۶؍ دار قطنی ، کتاب النکاح ج ثالث، ص ۱۶۳، نمبر ۳۵۱۷) اس حدیث میں ہے کہ رشتہ مناسب نہیں تھا تو حضور ؐ نے نکاح کے توڑنے کا اختیار دیا (۳) اس حدیث میں ہے کہ نکاح کو توڑ دیا۔ عن ابی ھریرۃ ان خنساء بنت خذام انکحھا ابو ھا و ھی کارھۃ فأتت النبی ﷺ فذکرت ذالک لہ ، فرد نکاحھا ، فتزوجھا ابو لبابۃ بن عبد المنذر ۔( دار قطنی ، کتاب النکاح ،ج ثالث ، ص ۱۶۲، نمبر ۳۵۱۴) اس حدیث میں ہے کہ رشتہ مناسب نہیں تھا تو حضور نے اس کے نکاح کو توڑ دیا ۔
[۵] بالغہ لڑکی اپنا نکاح ولی کی رضامندی کے بغیر غیر کفو میں کر لے تو نکاح منعقد ہو جائے گا ، لیکن ولی عصبہ کو قاضی کے ذریعہ تفریق کرانے کا حق حاصل ہو گا ۔ لیکن یہ حق اس وقت تک رہے گا جب تک کہ ولادت نہ ہوئی ہو ، یا حمل ظاہر نہ ہوا ہو ، کیونکہ اس کے بعد نکاح توڑنے میں بچے کا نقصان ہے ۔
وجہ :(۱) لڑکی عاقلہ بالغہ ہے اور آزاد ہے اس لئے اپنا نکاح خود کرنے کا حق ہے ، لیکن کفو میں نہ ہو نے کی وجہ سے ولیوں کو عار محسوس ہو سکتا ہے اس لئے اس عار کو دفعہ کرنے کے لئے قاضی کے ذریعہ تفریق کرانے کا حق ہو گا ۔ (۲)آیت سے پتہ چلتا ہے کہ خود وہ نکاح کر سکتی ہے۔اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ۔ (آیت ۲۳۲، سورۃ البقرۃ۲) اس آیت میں ہے کہ عورتیں خود شادی کریں تو اے اولیاء تم ان کو مت روکو۔جس سے معلوم ہوا کہ وہ بغیر اولیاء کے خود شادی کرسکتی ہیں (۳) حدیث