***
جنت اوردوزخ
یہ بتلایا جاچکا ہے کہ قیامت کا دن فیصلے کا دن ہوگا، پھر جو مؤمن ہوں گے اور دنیا میں جن کے اعمال بھی بہت اچھے رہے ہوں گے اورکسی سزا اور عذاب کے مستحق نہ ہوں گے وہ تو قیامت کے عرصہ میں بھی عرش الہی کے سائے میں اور بہت آرام سے رہیں گے اور بہت جلدی جنت میں بھیج دئے جائیں گے اور جو ایسے ہوں گے کہ کچھ سزاپاکر بخشے جائیں گے وہ قیامت اورحشر کے دن کی کچھ تکلیفیں اٹھاکر یازیادہ سے زیادہ کچھ مدت تک دوزخ میں اپنے گناہوں کی سزا پاکر بخش دئے جائیں گے؛بہرحال جن میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ آخرکارکبھی نہ کبھی جنت میں پہونچ ہی جائیں گےاور دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صرف وہی رہ جائیں گے جو دنیا سے کفر وشرک کی حالت میں گئے ہوں گے؛ الغرض جنت ایمان اورنیک عملی اوراللہ کی وفاداری کا بدلہ ہےاوردوزخ کفروشرک اوراللہ سے غداری اور اس کی نافرمانی کی سزاہے، قرآن وحدیث میں جنت کی نعمتوں کاتذکرہ بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے،چندآیتیں اورحدیثیں ہم یہاں بھی ذکر کرتے ہیں:
"لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللہِoوَاللہُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ"۔
(آل عمران:۱۵)
پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے ہاں وہ جنتیں(یعنی ایسے باغات)ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں،وہ ان ہی میں رہیں گے اورپاک ستھری بیبیاں ہیں اوراللہ کی رضا مندی ہے اور اللہ اپنے سب بندوں کوخوب دیکھنے والاہے(کسی کا حال اس سے چھپا نہیں ہے)۔
اورسورہ یٰس میں ارشاد ہے:
"اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰکِــہُوْنَoہُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَی الْاَرَائِکِ مُتَّکِـُٔـوْنَo لَہُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا یَدَّعُوْنَoسَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ"۔
(یٰس:۵۵۔۵۸)
اہل جنت اس دن اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے،وہ ان کی بیویاں سایہ میں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے،ان کے لیے وہاں طرح طرح کے میوے ہوں گے، اورجوکچھ مانگیں گے ان کوملے گا رحمت وکرم والے پروردگار کی طرف سے ان کو سلام فرمایاجائے گا۔
اورسورۂ زخرف میں ارشاد ہے:
"وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُoوَاَنْتُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ"۔
(الزخرف:۷۱)
اورجنت میں وہ سب کچھ ہے جس کو لوگوں کے جی چاہتے ہیں اورآنکھیں جس سے مزہ لیتی ہیں اور(اے میرے نیک بندو)تم ہمیشہ اسی جنت میں رہوگے۔
اورسورۂ محمد میں جنت کا حال اس طرح بیان کیاگیا ہے:
"مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّقُوْنَoفِیْہَآاَنْہٰرٌمِّنْ مَّاءٍ غَیْرِاٰسِنٍoوَاَنْہٰرٌمِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗoوَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنo وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى oوَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ"۔
(محمد:۱۵)
وہ جنت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں ہیں پانی کی جس میں ذراتغیر نہیں ہوگا اور بہت سی نہریں ہیں دودھ کی جس کا ذائقہ ذرا بدلاہوانہ ہوگا اوربہت سی نہریں ہیں حلال اورپاک شراب کی جس میں بڑی لذت ہے پینے والوں کے لیے اور بہت سی نہریں ہیں صاف کئے ہوئے شہد کی اور ان کے واسطے اس جنت میں سب طرح کے پھل ہیں اوربخشش ہے ان کے پروردگار کی۔
اور سورۂ حجر میں جنت کی ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے:
"لَا یَمَسُّہُمْ فِیْہَا نَصَبٌ"۔
(الحجر:۴۸)
اہل جنت کو کسی قسم کی کوئی تکلیف وہاں نہیں چھوسکے گی۔
یعنی جنت میں صرف آرام ہی آرام اورعیش ہی عیش ہوگا،کسی قسم کی کوئی تکلیف اوررنج کی کوئی بات وہاں نہ ہوگی،یہ توجنت اورجنتیوں کا مختصر حال ہوا،اب دوزخ اوردوزخیوں کا بھی کچھ حال قرآن مجید ہی کی زبان سے سن لیجئے۔
سورہ مؤمنون میں ارشاد ہے:
"وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُولٰئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓااَنْفُسَہُمْ فِیْ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ"۔
(المؤمنون:۱۰۳)
اورجس کا پلہ ہلکا ہوگا، سویہ وہ لوگ ہونگے جنہوں نے(کفروشرک یا بدعملی اختیار کرکے) خود اپنا گھاٹاکیا تو یہ جہنم میں رہیں گے، ان کے چہروں کو آگ جھلستی ہوگی اور ان کے منہ اس میں بگڑے ہوئے ہوں گے۔
اورسورۂ کہف میں فرمایا گیا ہے:
"اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًاoاَحَاطَ بِہِمْ سُرَادِقُہَاoوَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَاءٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ"۔
(الکہف:۲۹)
ہم نے ظالموں کے لیے دوزخ تیار کی ہے، اس کی قناتیں انہیں گھیرے ہوئے ہیں اور جب وہ پیاس کی فریاد کریں گے تو اس کے جواب میں ان کو پانی دیا جائے گا تیل کی تلچھٹ جیسا اور اتنا جلتا اورکھولتا ہوا کہ بھون ڈالے منھ کو۔
اورسورۂ الحج میں ارشاد ہے:
"فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍoیُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِہِمُ الْحَمِیْمُoیُصْہَرُ بِہٖ مَا فِیْ بُطُوْنِہِمْ وَالْجُلُوْدُoوَلَہُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍoکُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْہَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْہَاo وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ"۔
(الحج:۱۹۔۲۲)
جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے کپڑے کترے جاویں گے اور ان کے سرکے اوپر سے تیز گرم پانی چھوڑا جائے گا،اس سے ان کی کھالیں اورپیٹ کے اندر کی چیزیں بھی سب گل جاویں گی اور ان کے لیے لوہے کے گرزہوں گے وہاں کی تکلیف اور سختی کی وجہ سے وہ جب اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو پھر اسی میں ڈھکیل دئے جائیں گےاور کہاجائے گا کہ نہیں جلنے کا عذاب چکھتے رہو۔
اورسورۂ دخان میں ارشاد ہے:
"اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِoطَعَامُ الْاَثِیْمِoکَالْمُہْلِ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِo کَغَلْیِ الْحَمِیْمِo خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰى سَوَاءِ الْجَحِیْمِoثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ"۔
(الدخان:۴۳۔۴۸)
بیشک زقوم کادرخت بڑے پاپیوں(کافروں مشرکوں)کاکھاناہوگا،جواپنی بدصورتی اورگھنونے پن میں تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا، اوروہ پیٹوں میں ایسا کھولے گا جیسے تیز گرم پانی کھولتا ہےاور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کو پکڑو،پھر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ؛ پھراس کے سرپر نہایت تکلیف دینے والا جلتاہوا پانی چھوڑو۔
اورسورۂ ابراہیم میں دوزخی آدمی کے متعلق فرمایاگیا ہے کہ:
"وَیُسْقٰى مِنْ مَّاءٍ صَدِیْدٍoیَّتَجَرَّعُہٗ وَلَا یَکَادُ یُسِیْغُہٗ وَیَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَاہُوَبِمَیِّتٍo وَمِنْ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظ"۔
(ابراہیم:۱۶،۱۷)
اس کو ایسا پانی پینے کو دیا جائے گا جو کہ پیپ لہو ہوگا جس کو وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا اور گلے سے اس کو وہ آسانی سے اتار نہ سکے گا اور ہر طرف سے اس پر موت کی آمد ہوگی اور وہ مرے گا بھی نہیں اوراس کو سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔
"اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَارًاo کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ"۔
(النساء:۵۶)
جو لوگ ہماری آیتوں اورہمارے حکموں کے منکر ہیں ہم ان کو ضرور دوزخ کی آگ میں ڈالیں گے،جب ان کی کھالیں چل بھن جائیں گی اور پک جائیں گی تو ہم ان کی جگہ اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ پوری طرح چکھیں۔
قرآن مجید کی سیکڑوں آیتوں میں دوزخ کے دردناک عذاب کی اس سے بہت زیادہ تفصیلات بیان کی گئی ہیں، یہاں ہم انہی چند آیتوں پر بس کرتے ہیں؛ اب جنت اوردوزخ کے متعلق چند حدیثیں بھی سن لیجئے ،ایک حدیث میں ہے،رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
"میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے(جنت میں) وہ وہ چیزیں تیار کی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اورکسی انسان کے دل میں ان کا خیال ہی گزرا ہے"۔
(بخاری،بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّة،حدیث نمبر:۳۰۰۵)
بیشک! جنتیوں کو جو نفیس ولذیذ کھانے ملیں گے جو پھل عطافرمائے جائیں گے؛ اسی طرح پینے کی جو نہایت لطیف اورخوش گوار چیزیں ملیں گی اورپہننے کے لیے جو اعلی درجہ کے خوش نما لباس دئے جائیں گے اور جو عالیشان خوبصورت مکانات اورخوش منظر باغیچے عطاہوں گے اور جنت کی جو حسین وجمیل حوریں دی جائیں گے اور ان کے سوا بھی لذت اورراحت اورلطف ومسرت کے جو اور سامان عطا فرمائے جائیں گے جیسا کہ اس حدیث میں فرمایا گیا واقعہ یہی ہے کہ بس اللہ ہی ان کو جانتا ہے؛البتہ ہمارا اس سب پر ایمان ہے،ایک حدیث میں ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:
"جب جنتی جنت میں پہونچ جائیں گے تو اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اب تم ہمیشہ تندرست رہو کوئی بیماری تمہارے پاس نہیں آئے گی،اب تم ہمیشہ زندہ رہو،تمہارے لیے اب موت نہیں،تم ہمیشہ جوان رہو، اب تم بوڑھے ہونے والے نہیں،اب تم ہمیشہ عیش و راحت میں رہو، کوئی رنج وغم اب تمہارے پاس آنے والا نہیں"۔
(مسلم،بَاب فِي دَوَامِ نَعِيمِ أَهْلِ الْجَنَّةِ،حدیث نمبر:۵۰۶۹، شاملہ، موقع الإسلام)
سب سے بڑی نعمت جو جنت میں پہونچنے کے بعد جنتیوں کو ملے گی وہ اللہ کا دیدار ہوگا، حدیث شریف میں ہے،رسول اللہﷺ نے بیان فرمایاکہ:
"جب جنتی لوگ جنت میں پہونچ جائیں گے تو اللہ تعالی ان سے فرمائیں گے،کیا تم چاہتے ہو کہ جو نعمتیں تم کو دی گئیں ان سے زائد کوئی اورچیز میں تمہیں عطاکروں؟ وہ عرض کریں گے خداوندا!آپ نے ہمارے چہرے روشن کئے ہم کو دوزخ سے نجات دی اورجنت عطا فرمائی(جس میں سب کچھ ہے اب ہم اورکیا مانگیں)حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:پھر پردہ اُٹھادیا جائے گا اور اس وقت وہ اللہ تعالی کو بغیر پردے کے دیکھیں گے اور پھر جنت اور اس کی ساری نعمتیں جو اب تک ان کو مل چکی تھیں ان سب سے زیادہ پیاری نعمت ان کے لیےیہ دیدار الہٰی کی نعمت ہوگی"۔
(مسلم،بَاب إِثْبَاتِ رُؤْيَةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْآخِرَةِ رَبَّهُمْ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى،حدیث نمبر:۲۶۶، شاملہ، موقع الإسلام)
اللہ تعالی ہم کو بھی یہ سب نعمتیں اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے،ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے جنت کے عیش وراحت اوردوزخ کے دکھ اورعذاب کاذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ عیش وآرام اورٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ رہا ہوگا لیکن اپنی بدبختی کی وجہ سے وہ دوزخ کا مستحق ہوگا، تو اس کو دوزخ کی آگ میں ایک غوطہ دے کر فورا نکال لیا جائے گا،پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کبھی تو عیش وآرام میں بھی رہا تھا؟وہ کہے گا:اے پروردگار!تیری قسم!میں نے کبھی کوئی آرام نہیں دیکھا اور ایک دوسرے آدمی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیفوں میں رہا ہوگا مگر وہ جنت کا مستحق ہوگا، پھر اسی طرح اس کو بھی جنت کی ذراہوا کھلا کر فورا نکال لیاجائے گااورپوچھا جائے گاکہ تو کبھی کسی دکھ اورتکلیف کی حالت میں رہاتھا؟وہ عرض کرے گا:نہیں میرے پروردگار!تیری قسم!مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور میں نے کبھی کوئی دکھ نہیں دیکھا"۔
(مسلم،بَاب صَبْغِ أَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا فِي النَّارِ وَصَبْغِ أَشَدِّهِمْ بُؤْسًا فِي الْجَنَّة،حدیث نمبر:۵۰۲۱، شاملہ، موقع الإسلام)
درحقیقت جنت میں اللہ تعالی نے ایسے ہی عیش وآرام کا انتظام فرمایا ہے کہ دنیا میں ساری عمر دکھوں اورتکلیفوں میں رہنے والا آدمی بھی ایک منٹ کے لیے جنت میں پہونچنے کے بعد اپنی عمر بھر کی تکلیفوں کو بالکل بھول جائے گااوردوزخ ایسا ہی عذاب کا گھر ہے کہ دنیا میں ساری عمر عیش وآرام سے رہنے والا آدمی بھی ایک منٹ دوزخ میں رہ کر بلکہ صرف اس کی گرم اوربدبودار لپٹ پاکر یہی محسوس کرے گا کہ اس نے کبھی عیش وآرام کا منھ نہیں دیکھا،دوزخ کے عذاب کی سختی کا اندازہ بس اسی ایک حدیث سے کیا جاسکتا ہے،حضورﷺ نے فرمایا:
"دوزخ میں سب سے کم عذاب جس شخص کو ہوگا وہ یہ ہوگا کہ اس کے پاؤں کی جوتیاں آگ کی ہوں گی،جن کے اثر سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح چولھے پر رکھی ہانڈی پکاکرتی ہے"۔
(بخاری،بَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّار،حدیث نمبر:۶۰۷۶، شاملہ، موقع الإسلام)
دوزخیوں کو کھانے پینے کے لیے جو کچھ دیا جائے گا اس کا کچھ ذکر ابھی ابھی قرآن شریف کی آیتوں میں گزر چکا ہے،اس سلسلہ میں دو حدیثیں بھی سن لیجئے،ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جہنمیوں کو جو بدبودارپیپ(غساق)پینی پڑےگی، اگر اس کا ایک ڈول بھر کے دنیا میں بہادیا جائے،تو ساری دنیا اس کی بدبو سے بھرجائے"۔
(ترمذی،بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ شَرَابِ أَهْلِ النَّارِ،حدیث نمبر:۲۵۰۹، شاملہ، موقع الإسلام)
ایک اورحدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے اس زقوم کا ذکر کرتے ہوئے جو دوزخیوں کو کھانا ہوگا ارشاد فرمایا:
اگرزقوم کا ایک قطرہ اس دنیا میں ٹپک جائے تو ساری دنیا میں جو کھانے پینے کی چیزیں ہیں سب خراب ہوجائیں پھر سوچو کہ اس پر کیا گزرے گی جس کو یہی زقوم کھانا پڑے گا۔
(مصنف بن ابی شیبہ،حدیث نمبر:۳۵۲۸۱ ، شاملہ، موقع یعسوب)
اے اللہ! توہم کو اورسب ایمان والوں کو دوزخ کے ہر چھوٹے بڑے عذاب سے اپنی پناہ میں رکھ۔
بھائیو! برزخ اورقیامت اور دوزخ اورجنت کے متعلق اللہ تعالی کی کتاب قرآن پاک نے اور اس کے رسول حضرت محمدؐ نے جوکچھ ہم کو بتلایا ہے(جس میں سے کچھ یہاں ان دوسبقوں میں ہم نے ذکر کیا ہے) اس میں ذرہ برابر شبہ نہیں ہے،قسم اللہ پاک کی یہ سب بالکل اسی طرح ہیں اور مرنے کے بعد ہم ان سب چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے، قرآن وحدیث میں قیامت اورجنت دوزخ کاذکر اتنی تفصیل سے اور سیکڑوں بار اسی لیے کیا گیا ہے کہ ہم دوزخ کے عذاب سے بچنے کی اورجنت حاصل کرنے کی کوشش سے غافل نہ ہوں۔
بھائیو! یہ دنیا چند روزہ ہے ایک نہ ایک دن ہم سب کو یقینا مرنا ہے اور قیامت یقینا آنے والی ہے اور ہم سب کو اپنے اعمال کاحساب دینے کے لیے اللہ کے سامنے یقینا کھڑا ہونا ہے اور پھر اس کے بعد ہمارا مستقل اوردائمی ٹھکانایا جنت میں ہوگا یا دوزخ میں۔
ابھی وقت ہے کہ پچھلے گناہوں سے توبہ کرکے اورآئندہ کے لیے اپنی زندگی کو درست کرکے دوزخ سے بچنے کی اورجنت حاصل کرنے کی فکر اورکوشش کرلیں؛ اگر خدانخواستہ زندگی یوں ہی غفلتوں میں گزرگئی،تو مرنے کے بعد حسرت اوردوزخ کے عذاب کے سوا کچھ حاصل نہ ہوسکے گا۔
"اَللّٰھُّمَّ اِنَّا نَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ،وَنَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ وَمَاقَرَّبَ اِلَیْھَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ"