***
حدیث کی آئینی حیثیت قرآن کی روشنی میں
حدیث نبویﷺ یعنی آپﷺ کے اقوال اور افعال کو قرآن مجید کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا اہم ترین ماخذ تسلیم کیا گیا ہے، حدیث نبوی کا یہ مقام صدیوں سے مسلم اور غیرمختلف فیہ رہا ہے؛ لیکن پچھلی صدی کے دوران چند غیرمسلم مستشرقین اور ان کے متبعین نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ حدیث نبوی کے سلسلہ میں شکوک اورشبہات پیدا کئے جائیں اور حدیث نبوی کے خلاف تردد اور شبہ رکھنے والے طرزفکر کو فروغ دیا جائے؛ یہی وجہ ہے کہ کئی سادہ لوح مسلمان جو ماخذ اسلام کا مطالعہ نہیں کرسکتے ان کتابوں کو پڑھ کر احادیث نبویﷺ سے نہ صرف اعراض کرنے لگے بلکہ کھلے عام احادیث صحیحہ کا انکار بھی شروع کردیا اور پھر نبیﷺ کی پیشینگوئی (قرب قیامت میں ایک گمراہ فرقہ پیدا ہوگا جس کا نعرہ "یکفینا القرآن" ہوگا، یعنی ہمارے لیے قرآن کافی ہے) کا مصداق ہوگئے؛ اگرایک طرف "یکفینا القرآن" کا خوبصورت اور دلکش نعرہ لگایا جائے اور دوسری طرف حدیث رسول کا انکار کیا جائے توپھرقرآن مجید میں جہاں بیسیوں مقامات پر ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسول، اطاعت رسول اور اتباع رسول کا حکم دیا گیا ہے، ان سب کی بنیادیں کھوکھلی ہوجائیں گی، نتیجتاً ان سب آیات کا انکار بھی لازم آئیگا، جب کہ خود قرآن پاک بیشتر مقامات پر احادیث رسول کی حجیت ثابت کررہا ہے اور یہ قرآن کا ایسا لازمی جزو ہے کہ اس کے بغیرنہ کوئی ہدایت پاسکتا ہے اور نہ ایمان کی تکمیل ممکن ہے۔
ایمان بالرسول کے بغیر کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا
ایمان باللہ اور ایمان بالرسول شریعتِ اسلامی کے دوبنیادی ستون ہیں، یعنی کسی کے مؤمن ومسلمان بننے کے لیے جس طرح حق تعالیٰ پر یقینِ کامل اور اس کی تمام صفات پر اعتماد راسخ ضروری ہے؛ اسی طرح رسول اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی پر ایمان لانا اور آپ کی رسالت اور نبوت کی تصدیق کرنا بھی لازم اور ضروری ہے، رسولﷺ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ خدا کا برگزیدہ پیغمبر ہے جس کو اللہ نے ساری انسانیت کی فلاح وبہبودی کے لیے ایک پیغام نامہ دیکر مبعوث فرمایا؛ تاکہ اس کا عملی نمونہ امت کے سامنے پیش کرے اور تکمیل ایمان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ رسول کی پوری اطاعت اور فرماں برداری بجالائی جائے، وہ جس چیز کا حکم دیں بلاچوں وچرا اس کو تسلیم کرے اور اس کی بتائی ہوئی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کو مدارِنجات جانا جائے؛ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاں اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے؛ وہیں رسالت پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا گیا ہے ارشادِربانی ہے:
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا"۔
(النساء: ۱۳۶)
اے ایمان والو! ایمان لاؤ (یعنی ایمان پر مضبوطی سے قائم رہو) اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے اتاری (یاد رکھو!) جوانکار کرے گا اللہ کا اور ملائکہ کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور یومِ آخرت کا تو وہ دور کی گمراہی میں پڑےگا۔
اور کہیں رسولﷺ کے لائے ہوئے حق دین پر ایمان لانے کو خیرمحض بتایا گیا:
"يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَكُمْ"۔ط
(النساء:۱۷۰)
اے لوگو! تمہارے پاس حق کے ساتھ رسول آیا؛ پس اس پر ایمان لاؤ؛ کیونکہ تمہارے لیے اسی میں بھلائی ہے۔
حتی کہ ایمان باللہ اور ایمان بالرسول سے اعراض وروگردانی کرنے پر دہکتی ہوئی آگ کی دھمکی دی گئی ہے۔
"وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا"۔
(الفتح:۱۳)
اور جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو ہم نے منکروں کے لیے دہکتی آگ تیار رکھی ہے۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ جس طرح خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر ایمان لانا ضروری ہے؛ اسی طرح اس کے رسول اور اس پر اتاری گئی کتاب پر ایمان لانا اور تصدیق کرنا لازم وضروری ہے، جو لوگ خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے رسول کی تصدیق نہیں کرتے دائمی نقصان اٹھائیں گے۔
اطاعت رسول تکمیل ایمان کا جزولازم
قرآن پاک میں جس طرح رسول اللہﷺ پر ایمان لانے اور تصدیق کرنے کی پرزور دعوت دی گئی ہے؛ اسی طرح آنحضرتﷺ کی اطاعت وفرماں برداری کی بھی تاکید کی گئی ہے، آپ کے ہرفیصلہ اور حکم کو ماننا ایمان کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے:
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَاتُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ"۔
(محمد:۳۳)
اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور اپنے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
ایک اور موقع پر فرمایا گیا:
"وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ"۔
(الانفال:۱)
اگرتم ایمان والے ہو تو اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو۔
رسول کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا درجہ دیتے ہوئے فرمایا گیا:
"مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ"۔
(النساء:۸۰)
جس نے رسول کا حکم مانا تو بلاشبہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
آیت سے یہ بات واضح ہوئی کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے احکام کی فرماں برداری کے ساتھ رسول کی اطاعت اور فرماں برداری بھی ضروری ہے؛ اگرکوئی شخص نبی کے احکام مان رہا ہے یاآپ کی اطاعت کرتا ہے تو گویا وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری کررہا ہے؛ اگرکوئی آنحضرتﷺ کی اطاعت نہیں کرتا اور آپ کے احکام سے روگردانی کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خدا کی اطاعت نہیں کررہا ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص خدا کے احکام بجا نہیں لاتا اور اس کی اطاعت نہیں کرتا وہ ضلالت اور گمراہی میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے اعراض کرنے والے کو کافر گردانا گیا:
"قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ"۔
(آل عمران:۳۲)
آپ فرمادیجئے کہ تم اطاعت کیا کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی؛ پھراگر وہ لوگ اعراض کریں ،سو اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتے۔
اسی طرح اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت پر رحم کی امید دلائی گئی:
"وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ"۔
(آل عمران:۱۳۲)
اور خوشی سے کہنا مانو اللہ تعالیٰ کا اور رسول کا امید ہے کہ تم رحم کئے جاؤگے۔
کہیں اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا اور روگردانی سے احتیاط کی تعلیم دی گئی:
"وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا"۔
(المائدہ:۹۲)
اور تم اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔
"فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ"۔
(الانفال:۱)
سوتم اللہ سے ڈرو اور باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔
اور کہیں اطاعت الہٰی اور اطاعتِ رسول سے اعراض کرنے سے منع کیا گیا:
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَاتَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنْتُمْ تَسْمَعُونَ"۔
(الانفال:۲۰)
اے ایمان والو! اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس سے روگردانی مت کرنا اور تم سن تو لیتے ہی ہو۔
اور کہیں ترکِ اطاعت کو آپسی اختلاف کا سبب گردانا گیا:
"وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَاتَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا"۔
(الانفال:۴۶)
اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو اور نزاع مت کرو ورنہ کم ہمت ہوجاؤگے۔
"قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَاحُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَاحُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا"۔
(النور:۵۴)
آپ کہیے اللہ کی اور رسول کی اطاعت کرو؛ پھراگر تم لوگ روگردانی کروگے تو سمجھ رکھو رسول کے ذمہ وہی ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا بار تم پر رکھا گیا ہے؛ اگرتم نے ان کی اطاعت کرلی راہ پر جالگوگے۔
اور کہیں ارشادِ ربانی ہے:
"فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ"۔
(المجادلہ:۱۳)
تم نماز کے پابند رہو اور زکوٰۃ دیا کرو اللہ اور اس کے رسول کا کہنا ماناکرو۔
اور کہیں یہ بتایا گیا کہ اطاعت خداوندی اور اطاعتِ رسول کا چھوڑنے والا ہی ذمہ دار ہے اور رسول پر کوئی ذمہ داری نہیں:
"وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ"۔
(المائدہ:۹۲)
اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو؛ اگرتم اعراض کروگے تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صاف صاف پہنچادینا ہے۔
اورپھرایک جگہ ایمان والوں کو اپنے تمام آپسی اختلافات اور نزاعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنے اور اس سے حل تلاش کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایاگیا:
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ"۔
(النساء:۵۹)
اے ایمان والو! حکم مانو اللہ تعالیٰ کا اور حکم مانو رسول کا اور اپنے میں سے حاکموں کا؛ پس اگرجھگڑو تم کسی بات میں تو رجوع کرو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف۔
اس آیت میں ایمان والوں کو صاف طور پر اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر آپس میں جھگڑا ہو یاباہمی نزاع کی شکل ہو تو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کریں، خدا کی طرف رجوع کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی روشنی میں اپنے جھگڑوں کا تصفیہ کریں اوررسول کی طرف رجوع کے معنی یہ ہیں، رسول کو اپنا حکم بنائیں اور رسول جو فیصلہ کریں اس کو تسلیم کریں اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی کو چوں وچرا کی گنجائش نہیں ہے؛ کیونکہ ایمان کی علامت یہی ہے کہ اپنے تمام نزاعات اور اختلافات میں نبی کریمﷺ کو حکم اور فیصلہ کن قرار دیکر آپ کے فیصلے کے بعد کسی شک اور شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور اس فیصلے سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کرے؛ لہٰذا اس سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ تکمیل ایمان کے لیے خدا کی ذات، اس کے ملائکہ اور کتابوں پر ایمان لانے کے ساتھ رسول کی رسالت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے؛ وہیں یہ بھی ثابت ہوگیا کہ آسمانی کتابیں جو خدا کی جانب سے بندوں کی ہدایت کے لیے رسول پر نازل کی جاتی ہیں اور فرشتے جو خدا کا پیغام پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں شریعت میں حجت اور قابل تسلیم ہے؛ اسی طرح انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات بھی قطعاً حجت ہیں اور نبیﷺ کے فیصلے اور اقوال بھی حجت ہیں؛ کیونکہ باری تعالیٰ کا اپنے بندوں کو باہمی اختلافات اور نزاعات کے موقعہ پر رجوع کا حکم دینا یہ خود حدیث کی حجیت ثابت کررہا ہے۔
اگر آنحضرتﷺ کے اقوال، افعال اور احکام حجت نہ ہوتے تو پھر آپ پر ایمان کو ضروری قرار دیا جاتا اور نہ آپ کے احکام کی اتباع کو ایمان کی علامت قرار دیا جاتا؛ کیونکہ ایمان تو اسی پر لایا جاتا ہے جو قابل حجت اور دلیل ہواور جو چیز قابل حجت ہی نہیں ہے، اس پر ایمان لانا ایک عبث فعل ہوتا، بفرض محال اگر یہ مان لیا جائے کہ نبی کے افعال واقوال جن کے مجموعے کا نام حدیث ہے، شریعت اسلام میں حجت نہیں ہے تووہ لوگ جو نبیﷺ کو نہیں مانتے یانبی کے اقوال وافعال کی پیروی نہیں کرتے ان کو کافر نہیں کہنا چاہیے تھا اس لیے کہ جوچیز حجت نہیں ہے اور جس کا تسلیم کرنا یقینی نہیں ہے ان کے انکار کرنے سے کفر کیسے لازم ہوسکتا ہے؟ حالانکہ قرآن صاف اعلان کررہا ہے کہ ایسے لوگ کافر اور گمراہ ہیں جو نبیﷺ کے احکام کی پیروی نہیں کرتے یااس کے فیصلوں کو واجب التسلیم نہیں مانتے۔
"فَلَاوَرَبِّكَ لَايُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَايَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا"۔
(النساء:۶۵)
ہرگز نہیں، آپ کے رب کی قسم، وہ لوگ ہرگز مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے آپسی اختلافات میں آپ کو حکم نہ بنائیں؛ پھرآپ کے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں اور خود کو مکمل تسلیم کریں۔
آیتِ مبارکہ اس بات پر شاہد ہے جو لوگ اپنے اختلافی مسائل میں رسول کو اپنا حکم تسلیم نہیں کرتے وہ بزبانِ قرآن کافر ہیں، مؤمن کہے جانے کے لائق نہیں، قرآن کریم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں جن میں اطاعت کے اخروی بدلے کا ذکر آیا ہے؛ لیکن اس اخروی بدلے کا انحصار بھی اطاعت رسول پر رکھا گیا ہے؛ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:
"وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ"۔
(النساء:۱۳)
اور جو شخص اللہ اور رسولﷺ کی پوری اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بہشت میں داخل فرمائیں گے جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔
اسی مضمون کو سورۂ نساء میں یوں بیان کیا گیا ہے:
"وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ"۔
(النساء:۶۹)
جوشخص اللہ ورسول کا کہنا مان لےگا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔
نیزسورۂ نور میں ارشادِباری ہے:
"إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَادُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَo وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ"۔
(النور:۵۱،۵۲)
مسلمان کا قول تو جب کہ ان کو اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے؛ تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا ایسے لوگ فلاح پائیں گے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے اللہ سے ڈرے اور اس کی مخالفت سے بچے پس ایسے لوگ بامراد ہوں گے۔
"وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا"۔
(الأحزاب:۷۱)
جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا پس وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔
"وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ"۔
(التوبہ:۷۱)
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور برے باتوں سے روکتے ہیں، نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانتے ہیں، ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ رحم کریگا؛ بلاشبہ اللہ تعالیٰ قادر ہے، حکمت والا ہے۔
قرآن کریم میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ رسولﷺ کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم نہ کوئی نیاقانون ہے اور نہ محمدﷺ کی یہ خصوصیت ہے؛ بلکہ ہردور ہرزمانہ میں جوپیغمبر بھیجا گیا اُس کے ساتھ بھی یہ اصول کارفرما ہے، ارشادِ ربانی ہے:
"وَمَاأَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّالِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ"۔
(النساء:۶۴)
ہم نے تمام پیغمبروں کو اسی لیے مبعوث فرمایا ہے کہ بحکم خداوندی ان کی اطاعت کیجئے۔
قرآن کریم میں جس طرح خدا کی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت پر زور دیا گیا ہے؛ اسی طرح اللہ کی نافرمانی کے ساتھ رسول کی نافرمانی سے بھی روکا گیا ہے اور اس کے سنگین نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
"وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا"۔
(النساء:۱۴)
جو اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہیں مانے گا اور اس کے اصولوں کے حدود پارکرجائے گا اس کوآگ میں داخل کردیں گے، اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہےگا۔
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کو صریح گمراہی سے تعبیر کیا گیا ہے:
"وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا"۔
(الأحزاب:۳۶)
جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہیں مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔
پھرایک جگہ اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کو سخت سزاء کی دھمکی دی گئی:
"أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ"۔
(التوبہ:۶۳)
کیا ان کو خبر نہیں کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کریگا تو ایسے شخص کو دوزخ کی آگ نصیب ہوگی۔
نیزسورۂ انفال میں یوں فرمایا گیا:
"وَمَنْ يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ"۔
(الانفال:۱۳)
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو اللہ تعالیٰ سخت سزا دیتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی اللہ کی اطاعت کا حکم موجود ہے وہیں رسول کی اطاعت کا حکم بھی ضرور پایا جاتا ہے؛ لیکن کوئی آیت پورے قرآن کریم میں ایسی نہیں ہے جس میں صرف اللہ کی اطاعت کا حکم موجود ہو اور اطاعت رسول کا حکم موجود نہ ہو، ہاں! البتہ قرآن میں ایسے کئی مقامات ہیں جہاں صرف رسول کی اطاعت کا بیان ہے اور اللہ کی اطاعت کا ذکر نہیں چنانچہ ارشادِربانی ہے:
"وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ"۔
(النور:۵۶)
اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی اطاعت کیا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
"وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا"۔
(النور:۵۴)
اگرتم نے ان کی اطاعت کرلی تو راہ پر لگ جاؤگے۔
"يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الْأَرْضُ"۔
(النساء:۴۲)
اس روز جنھوں نے کفر کیا ہوگا اور رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا وہ اس بات کی آرزو کریں گے کہ کاش ہم زمین کے پیوند ہوجائیں۔
اطاعتِ رسول کو اس قدر اہمیت کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت رسول کی اطاعت کے بغیر عملاً ممکن نہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہرایک سے الگ الگ طور پر یہ نہیں بتلایا کہ بندوں سے کیا مطالبہ ہے؛ بلکہ رسول کو بھیج دیا تاکہ وہ عملاً امت کے سامنے واضح کردے کہ خدا کا کیا مطالبہ ہے اور وہ مطالبہ کس طرح پورا کرے، ارشادِربانی ہے:
"وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْمِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْيُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَايَشَاءُ"۔
(الشوریٰ:۵۱)
اور کسی بشر کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر یاتو وحی سے یاحجاب کے باہر سے یاکسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے پیغام پہنچادیتا ہے۔
قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر صرف اطاعتِ رسول کا ذکر ہے، خدا کی اطاعت کی صراحت نہیں ہے؛ جیسا کہ اوپر کی آیات سے معلوم ہوا ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اطاعتِ رسول دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے؛ چونکہ رسول جو کچھ کہتے ہیں اللہ ہی کی طرف سے کہتے ہیں۔
"وَمَايَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىo إِنْ هُوَإِلَّاوَحْيٌ يُوحَى"۔
(النجم:۳،۴)
اور نہ آپﷺ اپنی نفسانی خواہش سے باتیں بتاتے ہیں ان کا ارشاد خالص وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
حضوراکرمﷺ اسی لیے نبی بناکر امت کے درمیان بھیجے گئے تاکہ آپﷺ عملی زندگی کی ایک مثال قائم کریں اور اپنے شب وروز کی زندگی خواہ وہ خلوت ہویاجلوت، داخلی امورہوں یاخارجی، شخصی مسائل ہوں یاملی حالات ، اب سب امور میں اپنا ایک اسوۂ حسنہ رہتی دنیا تک کے لیے چھوڑیں؛ تاکہ ساری انسانیت کے لیے آپﷺ کا طرزِزندگی حجت بنارہے؛ اسی حقیقت کو قرآن نے ایک جگہ یوں بیان فرمایا:
"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"۔
(الأحزاب:۲۱)
تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین عملی نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔
یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محض نظریاتی علوم کسی قوم کی اصلاح کے لیے کافی نہیں ہے، محض علم وفن کی بڑی ڈگریاں کسی کوحاذق وماہر نہیں بنادیتی جب تک کہ کسی تجربہ کار کی تربیت میں رہ کر اس کا عملی نمونہ نہ سیکھ لے، مثلاً کوئی میڈیکل سائنس کی ڈگری اعلیٰ کامیابی پر حاصل کرلے تو اس کو مریضوں کے علاج ومعالجہ کی اجازت نہیں دی جاتی تاوقتیکہ کسی ماہر ڈاکٹر کی زیرسرپرستی ایک معتدبہ زمانہ گزارے۔
اس سے بات صاف ظاہر ہے کہ انسانی فطرت کسی اہم بات کو سیکھنے کے لیے ہمیشہ ایک عملی مثال کی ضرورتمند ہوتی ہے؛ اسی طرح مذہبی تعلیم وتربیت کے لیے بھی جب تک اس کا معلم رہبری ورہنمائی نہ کرے ایک مسلمان کے لیے عملی زندگی دشوار ہوجاتی ہے؛ یہی وجہ ہے اللہ تعالیٰ نے صرف آسمانی کتابوں کے نازل کرنے پر اکتفاء نہیں کیا؛ بلکہ آسمانی کتابوں کے ساتھ کوئی پیغمبر ضرور بھیجا ہے، ایسی بہت سی مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں کہ کوئی پیغمبر دنیا میں بھیجا گیا مگر اس کے ہمراہ کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی؛ لیکن ایک بھی آسمانی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس کے نزول کے ساتھ کوئی پیغمبر نہ آیا ہو؛ بلکہ ہرکتاب کے ساتھ ایک پیغمبر ضرور بھیجا گیا اور کفار مکہ نے بار بار یہ مطالبہ کیا ہے کہ راست ہم پر کتاب اتاری جائے مگراللہ نے ان کا مطالبہ مسترد فرمایا اور کتاب محمدﷺ کے ساتھ نازل فرمایا اس کی وجہ یہی تھی کہ اس کتاب کا کوئی معلم ومربی ہو، جو امت کی تعلیم وتربیت کرسکے، اسی لیے اللہ نے نبی کی بعثت کے مقاصد بھی متعدد جگہ بیان فرمایا؛ تاکہ امت نبی کی اہمیت اور ان کی تشریعی حیثیت کو سمجھتے ہوئے اس کو اپنا معلم اورمربی بنائے اور اس کے قول وعمل کے مطابق زندگی گزارے؛ چنانچہ ارشاد ہے:
"لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْبَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ"۔
(آل عمران:۱۶۴)
حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے احسان کیا جب ان میں ان ہی کی جنس سے ایک پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے ہیں اور ان کو کتاب اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور بالیقین یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
آیتِ مبارکہ میں تعلیم کتاب کے ساتھ حکمت کو بھی بیان کیا گیا ہے اور حکمت سے مراد وحی غیرمتلو یعنی اقوال وافعال رسول ہیں؛ تاکہ امت ضلالت کے عمیق تاریکیوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی کی طرف آئے یہ بات مسلم ہے کہ قرآنی احکام کی بجاآوری بغیرحدیث رسول کے متصور نہیں ہے۔
حدیث کے بغیر قرآن پر عمل ناممکن
مندرجہ بالا آیت سے یہ معلوم ہوا کہ رسول کے فرائض منصبی میں صرف اتنا ہی نہیں کہ وہ قرآن لوگوں تک پہنچادیں؛ بلکہ اُس کی تعلیم اور تبیین بھی رسول کے ذمہ ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُون"۔
(النحل:۴۴)
اور ہم نے آپ پر یہ قرآن اُتارا ہے؛ تاکہ جو ہدایات لوگوں کے پاس بھیجی گئی ہیں وہ ہدایات آپ ان کو واضح کرکے سمجھادیں اور تاکہ وہ ان میں غوروفکر کیا کریں۔
اور یہ بات ظاہر ہے کہ حضورﷺ کے مخاطب عرب فصحاء وبلغاء تھے، ان کے لیے قرآن کی تعلیم وتبیین کے یہ معنی تو نہیں کہ محض لغوی معنی سمجھادیں؛ کیونکہ عرب اہل لسان ہونے کی وجہ سے خود بخود معنی سمجھ لیتے تھے؛ بلکہ اس تعلیم وتبیین کا مقصد صرف یہی تھا اور یہی ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم نے ایک حکم مجمل یامبہم الفاظ میں بیان فرمایا اس کی تشریح اور تفصیل حضورﷺ نے وحی کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچادی، جوقرآن کے الفاظ میں نہیں آئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلبِ مبارک میں ڈالی، جس کی طرف آیت قرآن "إِنْ هُوَإِلَّاوَحْيٌ يُوحَى" (النجم:۴) میں اشارہ کیا گیا ہے، مثلاً قرآن کریم نے بے شمار مواقع میں صرف "وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ" (البقرۃ:۸۳) فرمانے پر اکتفا کیا ہے، کہیں نماز کے معاملے میں اوقات، قیام، رکوع اور سجدہ کا ذکر بھی بالکل مبہم ہے ان کی کیفیات کا ذکر نہیں، رسول کریمﷺ کو جبرئیل امین نے خود آکر اللہ کے حکم سے ان تمام اعمال وارکان کی تفصیل عملی صورت میں بتلادی اور آپﷺ نے قول وعمل کے ذریعہ امت کو پہنچادیا؛ اسی طرح زکوۃ کے مختلف نصاب اور ہرنصاب میں کتنا حصہ معاف ہے، یہ سب تفصیلات حضورﷺ نے بیان فرمائیں اور ان کے فرامین لکھ کر متعدد صحابہ کرام کو سپرد فرمائے، یامثلاً قرآن حکیم میں ہے:
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَاتَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ"۔
(النساء:۲۹)
یعنی آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ پر ناحق مت کھاؤ۔
اب اس کی تفصیل موجودہ دور کے لحاظ سے کہ کونسی بیع وشراء فاسد ہے؟ اور کونسا اجارہ فاسد ہے؟ یاایسے تمام معاملات جو ناحق، ناانصافی اور ضرر عوام پر مشتمل ہونے کی وجہ سے باطل ہیں، حضورﷺ نے اپنے ارشادات مبارکہ کے ذریعہ اس کی وضاحت فرمادی، اسی طرح شریعت کے بے شمار مسائل، حیات سے لیکر ممات تک خواہ وہ ایمانیات سے متعلق ہوں یاعبادات سے، چاہے وہ معاملات ہوں یامعاشرت، یاوہ مسائل جن کا تعلق اخلاقیات سے ہو یاآدابِ زندگی سے، اسلامی کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں حدیث رسول کے ذریعہ کوئی حکم نہ دیا گیا ہو یاکوئی نصیحت نہ کی گئی ہو؛ بلکہ قرآن نے حدیث رسول کی حجیت پر ایک بنیادی اصول بیان فرمایا۔
"مَاآتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَانَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ"۔
(الحشر:۷)
یعنی رسول جو کچھ دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے باز آجاؤ اوراللہ سے ڈرو بلاشبہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے گویا صاف یہ اعلان فرمادیا کہ مامورات ومنہیاتِ قرآن جس طرح حجت ودلیل ہیں اسی طرح نبیﷺ کے اوامر ومناہی بھی قابلِ حجت اور دلیل ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ آیت سے صحابہ کرام نے اسی عام مفہوم کو اختیار کرکے رسول اللہﷺ کے ہرحکم کو اس آیت کی بناء پر قرآن ہی کا حکم اور واجب التعمیل قرار دیا ہے، جیسا کہ ایک مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک سائل کو اسی حقیقت سے آگاہ کیا، جب کہ ابن مسعود نے اُس شخص کو احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا تو حکم دیا یہ کپڑے اتاردو تو اس شخص نے کہا کہ آپ مجھے اس کے متعلق قرآن کی کوئی آیت بتاسکتے ہیں؟ جس میں سلے ہوئے کپڑوں کی ممانعت ہو، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے فرمایا: ہاں! وہ آیت میں بتاتا ہوں اور پھر یہی آیت "مَاآتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَانَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ" پڑھ کر سنائی۔
امام شافعیؒ نے ایک مرتبہ لوگوں سے کہا کہ میں تمہارے ہرسوال کا جواب قرآن سے دے سکتا ہوں، پوچھو جو کچھ پوچھنا ہے، ایک شخص نے عرض کیاکہ ایک محرم نے زنبور مارڈالا تو اس کا کیا حکم ہے؟ امام شافعیؒ نے یہی آیت "مَاآتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَانَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ" تلاوت کرکے حدیث سے اس کا حکم بیان فرمایا؛ اسی طرح عبداللہ بن مسعودؓ کا ایک اور حکیمانہ جواب کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا جو آپ نے ایک خاتون کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا، عرب کے قبیلہ اسد کی ایک حاتون حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس آئیں اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ فلاں فلاں باتوں سے روکتے ہیں؛ حالانکہ میں نے اللہ کی کتاب کو تمام ترپڑھ رکھا ہے؛ لیکن ان باتوں کی ممانعت کسی بھی جگہ مذکور نہیں ہے، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے جواب دیا کہ اگر تم نے اللہ کی کتاب پڑھا ہوتا تو تمھیں یہ ممانعت ضرور مل جاتی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "مَاآتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَانَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ" اِس جواب کے ذریعہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ آیت اس قدر جامع ہے کہ رسول اللہﷺ کے تمام احکامات اور ممانعت کے فیصلوں پر محیط ہے اور چونکہ مسئولہ ممانعت کا حکم خود رسول اکرمﷺ کی طرف سے جاری کردہ ہے، اس لیے وہ بالواسطہ اس آیت کے عموم میں شامل ہے۔
موجودہ دور میں ایک فرقہ منکرین حدیث کا، جو اہل قرآن کے نام سے معروف ومشہور ہے، آئے دن امت کو انکارِحدیث کے فتنے میں مبتلاء کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کررہا ہے یہ کوئی نیافرقہ نہیں ہے؛ بلکہ چودہ سوسال پہلے ہی نگاہِ نبوت نے ایسے باطل فرقہ کو دیکھ لیا تھا جو احادیث رسول کا کھلم کھلا انکار کرتے ہیں، اس لیے اپنی امت کو اس فتنے سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
" لَاأُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْنَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ لَانَدْرِي مَاوَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ"۔
(ابوداؤد، باب فی لزوم السنۃ، حدیث نمبر:۳۹۸۹)
میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے چپرکھٹ پر ٹیک لگائے ہوئے ہو اور اس کے سامنے کوئی ایسا حکم آئے جس کو اختیار کرنے کا میں نے حکم دیا ہے یاجس سے میں نے منع کیا ہے، اس پر وہ کہے کہ میں نہیں جانتا ،میں صرف اس کو جانتا ہوں جومیں نے اللہ کی کتاب میں پایا ہے؛ اسی کی میں اتباع کرتا ہوں۔
پھرایک اور جگہ آپﷺ نے امت کو اس فرقے کے دجل وفریب سے نہ صرف آگاہ کیا؛ بلکہ کتاب اللہ کے ساتھ حدیث کی تشریعی حیثیت کو بھی اجاگر فرمایا:
"عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ أَنَّهُ قَالَ أَلَاإِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَايُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَاوَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَاوَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَإِنَّ مَاحَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ كَمَاحَرَّمَ اللّٰهُ أَلَالَايَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَاكُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ وَلَالُقَطَةُ مُعَاهِدٍ إِلَّاأَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا..الخ"۔
(مشکاۃ المصابیح، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأوّل، حدیث نمبر:۱۶۳)
حضرت مقداد بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا آگاہ ہوجاؤ مجھے قرآن دیا گیا اور اس جیسی ایک اور چیز اس کے ساتھ دی گئی ہے آگاہ ہوجاؤ وہ وقت قریب ہے کہ جب ایک پیٹ بھراشخص اپنی چپرکھٹ پر کہے گا کہ بس اس قرآن کو اپنے لیے ضروری سمجھو، جس چیز کواس میں تم حلال پاؤ اس کوحلال سمجھو اور جس چیز کو تم حرام پاؤ اس کو حرام سمجھو، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا وہ اسی طرح حرام ہے، جس طرح کہ اللہ نے حرام کیا ہے، آگاہ رہو تمہارے لیے اہلی گدھا حلال نہیں ہے، درندوں میں سے کچلی رکھنے والے جانور حلال نہیں ہیں، معاہدہ والے کا لقطہ حلال نہیں ہے، الا یہ کہ خود مالک اس سے بے پرواہ ہو، الخ۔
مذکورہ دونوں حدیثوں میں آپﷺ نے انکارِحدیث کے اُس فتنہ کی طرف اشارہ فرمایا جو زمانۂ نبوت کے بعد وقتاً فوقتاً اس امت کے بعض کج رو، علم دین سے ناآشنا، آرام پسند اور نام نہاد اہل قرآن کی طرف سے اٹھتا رہا ہے، اس طرح منکرین حدیث آزادرو اور آزاد منش ہوتے ہیں، اسی بناء پر وہ شریعت کے بوجھ بردار بننا نہیں چاہتے، احمقانہ وبے بنیاد دلیلوں کا سہارا لیکر سنت نبوی کا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں اور سرے سے حدیث نبوی کی تشریعی حیثیت کا انکار کردیتے ہیں اور شیطان ان کو اس خام خیالی میں مبتلا کرتا ہے کہ دینی احکام ومسائل بس وہی ہیں جو قرآن مجید میں مذکور ہیں، قرآن کے علاوہ حدیث سے خواہ کتنا ہی بڑا حکم کیوں نہ ہو، اس کا ماننا ضروری نہیں ہے؛ حالانکہ بہت سے ایسے احکام جو قرآن سے ثابت نہیں مگر حدیث رسول سے ثابت ہیں، جیسا کہ آپﷺ نے مثال کے طور پر چندچیزوں کو ذکر کیا ہے جن کا حرام ہونا قرآن میں کہیں مذکور نہیں ہے؛ لیکن پھربھی یہ حرام ہیں، آپﷺ نے فرمایا یہ حرام اس لیے ہیں کہ ان کی حرمت میں بیان کررہا ہوں، حماراہلی یعنی وہ گدھا جو شہر وآبادی میں اور گھروں میں رہتا ہے، حرام ہے اور پھر فرمایا کچلی رکھنے والے جانور حرام ہیں، کچلی والے وہ جانور مراد ہیں جو نوکدار اور کاٹ کھانے والے دانت رکھتے ہیں اور شکار پکڑتے اور پھاڑتے ہیں، جیسے شیر، بھیڑیا، تیندوا، چیتا، ہاتھی، لومڑی اور بلی وغیرہ اسی طرح آپ نے فرمایا جس ذمی سے مال وجان کی حفاظت کامعاہدہ کیا گیا ہو اس کی گری پڑی چیز بھی حلال نہیں ہے، ہاں مگر مالک خود اپنی چیز سے لاپرواہی کرے توالگ بات ہے، ان سب کی حرمت سوائے حدیث کے قرآن میں کہیں مذکور نہیں، اس حدیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس طرح قرآن حجت اور دلیل ہے اسی طرح حدیث بھی حجت اور دلیل ہے، اللہ نے جس طرح نبیﷺ کو قرآن عطا کیا ہے؛ اسی طرح مضامین حدیث بھی اللہ نے نبی کو عطا فرمایا، فرق صرف وحی متلو اوروحی غیرمتلو کا ہے۔