***
تعارفِ اسلام بیک نظر
ایک انسان کے لئے جس طرح غذاء ، پانی، ہوا اور روشنی کی ضرورت ہے، اس سے کہیں زیادہ ضرورت اس کے لئے اس طرز زندگی کی ہے جس کے مطابق وہ زندگی گذار کر سعادت و فلاح حاصل کرسکے اور مختلف داخلی و خارجی رکاوٹوں کو عبور کرکے اپنی منزل مقصود تک پہونچ سکے، لیکن انسان کی دوسری ضروریات کی طرح اس کی اس اہم ضرورت کی تکمیل بھی وہی ہستی کرسکتی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور جس نے اس کی فطرت میں متضاد قسم کی صلاحیتیں اور جذبے رکھ دئے ہیں اور جس کی نظر ماضی، حال، مستقبل اور شمال و جنوب، مشرق و مغرب سب پر یکساں اور بیک وقت رہتی ہے اور اس سچائی کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے کہ اس ہستی نے پہلے ہی دن سے دوسری بنیادی ضرورتوں کے علاوہ اس اہم ترین ضرورت کی تکمیل کا انتظام بھی شروع کردیا تھا۔
ہر قوم میں نبی کو بھیجا گیا:
حضرت آدم علیہ السلام جس طرح پہلے انسان ہیں اسی طرح پہلے نبی بھی ہیں، گویا انسانیت کی شروعات کےساتھ نبوت و رسالت کی بھی داغ بیل ڈالی گئی، اس کے بعد جیسے جیسے انسان کی مادّی ضروریات ، آبادی میں اضافے اور تمدن کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئیں، زمین کی پیداوار اور معیشت کے اسباب میں بھی اس ذات کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق اضافہ ہوتا گیا، یہی حال انسان کی انسانیت کے تحفظ اور نشو ونما کے مقصد سے اتاری گئی اس رہنمائی میں بھی نظر آتا ہے، چنانچہ انسان کرۂ ارض میں جہاں جہاں بستا رہا وہاں وہاں اس کا شفیق رب اس کے پاس رہنمائی بھیجتا رہا، قرآن کریم کی صراحت ہے:
وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ o
(فاطر:۲۴)
اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے والا نہ گذرا ہو۔
وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنْذِرُونَo
(الشعراء: ۲۰۸)
اور جتنی بستیاں (منکرین کی ) ہم نے (عذاب سے) غارت کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے (پیغمبر) آئے۔
انبیاؑء کو مقامی زبان میں بھیجا گیا:
یہی نہیں کہ ہر قوم میں رب العالمین نے رسول بھیجا ؛بلکہ جس قوم میں جس رسول کو بھیجا وہ انہی کی زبان بولنے والے تھے اور اسی زبان میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پیغام بھیجا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ o
(ابراھیم:۴)
اور ہم نے تمام (پہلے) پیغمبروں کو (بھی) انہی کی زبان میں پیغمبر بناکر بھیجا ؛ تاکہ ان سے (احکام الٰہیہ کو) بیان کریں۔
اصل دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی:
یہ رہنمائی جو انسان کے ابتدائے آفرینش یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی تھی، اس کے بنیادی خدو خال میں ہمیشہ یکسانیت رہی، اس میں کوئی ترمیم و تبدیلی نہیں ہوئی، مثلاً خدا پر ایمان لانا، اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، رسولوں پر ایمان لانا، ان کے لائے ہوئے پیغام کو ماننا، فرشتوں اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان لانا، مرنے اور مرنے کے بعد والی زندگی، قبر ، حشر اور جنت و دوزخ پر ایمان لانا، اسی طرح ظلم کا حرام ہونا اور عدل و انصاف کا اللہ تعالیٰ کے یہاں محبوب و پسندیدہ ہونے کا اعتقاد رکھنا، تمام انبیاءؑ اور ان کے متبعین کے درمیان مشترک رہی ہیں ، عبادت صرف اسی ایک ذات کی ہو، نماز، روزہ ، زکٰوۃ، حج اور نذر و قربانی صرف اسی کے لئے ہو، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، نیکی کی تلقین، برائی کی روک تھام، پڑوسی، یتیم، مسکین ، مسافر وغیرہ کی خبر گیری، درست گوئی، اداءِ امانت، دعاء، ذکر، صبر، رضاء بالقضاء، توکل اور اللہ کی رحمت کا امیدوار رہنا وغیرہ امور ایسے ہیں جن پر سارے انبیاء اور ان کی تعلیمات متفق نظر آتی ہیں ، سارے انبیاء کا دین اسلام ہی تھا۔
سارے انبیاءؑ کا دین اسلام ہی تھا:
اس لحاظ سے سارے انبیاء کا دین قرآنی اصطلاح میں ‘‘اسلام’’ تھا، (التحفۃ المہدیۃ:۵۰/۲) چنانچہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس نسلیں گذریں، لیکن سب کے سب دین اسلام پر کاربند تھے۔ (تفسیر ابن کثیر:۵/۵۸)
حضرت نوح علیہ السلام دین اسلام پر تھے:
حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت شرک و بت پرستی میں مبتلا قوم کی اصلاح کے لئے ہوئی تھی، ان کا دین بھی ‘‘اسلام’’ تھا اور اسی دین کا ان کو مکلّف بنایا گیا تھا، ایک موقع سے حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کو خدائی پیغام پہونچانے کے بعد فرمایا:
فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ o
(یونس:۷۲)
پھر بھی اگر تم اعراض ہی کئے جاؤ تو یہ (سمجھو کہ) میں نے تم سے (اس تبلیغ پر) کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا (اور میں تم سے کیوں مانگتا کیونکہ) میرا معاوضہ تو صرف (حسب وعدۂ کرم) اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں اطاعت کرنے والوں (مسلمانوں) میں رہوں۔
حضرت ابرہیم علیہ السلام دین اسلام پر کاربند تھے:
اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف فاضلہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کا بیان ہے:
إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَo
(بقرہ:۱۳۱)
جبکہ ان کے پروردگار نے فرمایا کہ تم اطاعت (اسلام) اختیار کرو، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اطاعت (اسلام) اختیار کی رب العالمین کی۔
ایک موقع پر قرآن نے بڑی صراحت کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مسلمان ہونے اور دین اسلام پر کاربند ہونے کویوں بیان کیا ہے:
مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَo
(اٰل عمران:۶۷)
ابراہیمؑ نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے، لیکن (البتہ) طریق مستقیم والے (یعنی) صاحب اسلام تھے اور مشرکین میں سے (بھی ) نہیں تھے۔
حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام کا اپنی اولاد کو دینِ اسلام کی وصیت کرنا:
اور حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب علیہما السلام نے اپنی اولاد کو جو وصیت فرمائی تھی اس میں یہ بات تھی کہ وہ دین اسلام پر عمل پیرا رہیں اور مرتے دم تک اسی کے حلقہ بگوش رہیں، قرآن نے اسے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَo
(بقرہ:۱۳۲)
اور اسی کا حکم کرگئے ہیں ابراہیم(علیہ السلام) اپنے بیٹوں کو اور (اسی طرح) یعقوب (علیہ السلام) بھی ، میرے بیٹو!اللہ تعالیٰ نے اس دین (اسلام) کو تمہارے لئے منتخب فرمایا ہے، سو تم بجز اسلام کے اور کسی حالت میں جان مت دینا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی دعاء:
حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کی حکومت ملنے اور والدین و بھائیوں سے ملاقات ہونے کے بعد بارگاہ خداوندی میں جو تشکر و امتنان پیش کیا تھا اور اس کے بعد جو دعاء کی تھی اس میں انہوں نے خاص طور سے اسلام پر موت آنے کا ذکر کیا تھا:
رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَo
(یوسف:۱۰۱)
اے میرے پروردگار! تو نے مجھے سلطنت کا بڑا حصہ دیا اور مجھ کو خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا (جوکہ علم عظیم ہے) اے آسمانوں اور زمین کے پیداکرنے والے ! تو میرا کارساز ہےدنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مجھ کو پوری فرمانبرداری(اسلام) کی حالت میں دنیا سے اٹھالے اور مجھ کو خاص بندوں میں شامل فرمالے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم کو تلقین:
حضرت موسی علیہ السلام نے بھی جب اپنی قوم کو چند ہدایات دی تھیں تو ان میں بھی اسلام پر جمے رہنے کی تلقین تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
يَا قَوْمِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِينَo
(یونس:۸۴)
اے میری قوم! اگر تم (سچے دل سے) اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو (غور فکر مت کرو) بلکہ اسی پر توکل کرو ، اگر تم (اس کی) اطاعت کرنے والے (مسلمان) ہو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں آنے والے جادوگروں کی دعاء:
اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے آنے والے جادوگروں پر جب موسی علیہ السلام کی حقانیت ظاہر ہوگئی اور وہ موسی علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو فرعون نے ان کو دھمکانا شروع کردیا تو ایسے نازک موقع پر ان حضرات نے اللہ تعالیٰ سے جو دعاء مانگی تھی وہ یہ تھی:
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَo
(اعراف:۱۲۶)
اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان حالت اسلام پر نکالئے۔
فرعون کا اعتراف و اقرار:
خود فرعون کو جب خدائی عذاب نے آپکڑا تو اس نے بھی ان الفاظ میں اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا:
آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَo
(یونس:۹۰)
میں ایمان لاتا ہوں کہ بجز اس کے کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں داخل ہوتا ہوں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا ملکہ بلقیس کو دعوتِ اسلام:
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کو جو خط لکھا تھا اس میں بھی انہوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی تھی، جسے قرآن نے یوں نقل کیا ہے:
إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ o أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَo
(نمل:۳۰۔۳۱)
وہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور اس میں یہ (مضمون) ہے، (اول) بسم اللہ الرحمن الرحیم(اور اس کے بعد یہ کہ ) تم لوگ میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور میرے پاس مطیع (مسلمان) ہوکر چلے آؤ۔
حضرت بلقیس کا اعتراف:
پھر جب بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں پہنچیں اور ان کی مملکت و حسن انتظام کو دیکھا تو بے ساختہ پکار اٹھیں:
رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَo
(النمل:۴۴)
اے میرے پروردگار!میں نے (اب تک) اپنے نفس پر ظلم کیا تھا (کہ شرک میں مبتلا تھی) اور اب میں سلیمان کے ساتھ (یعنی ان کے طریقہ پر) ہوکر رب العالمین پر اسلام لاتی ہوں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب کا جواب:
اسی طرح جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کے ناپاک عزائم کا پتہ چلا تو آپؑ نے اپنے مخصوص صاحبین سے فرمایا کہ اللہ کے واسطے میری مدد کے لئے کون تیار ہے ؟ جواب میں ان حضرات نے جو کچھ عرض کیا تھا اسے قرآن پاک یوں نقل کرتا ہے:
نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ o
(اٰل عمران:۵۲)
ہم ہیں مددگار اللہ(کے دین) کے! ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ اس کے گواہ رہئے کہ ہم فرمانبردار (مسلمان) ہیں۔
نیز حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریین کو اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ پر اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا حکم ہوا تو جواباً انہوں نے یہ عرض کیا:
آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَo
(مائدہ:۱۱۱)
ہم ایمان لائے، آپ شاہد رہئے کہ ہم پوری فرمانبردار (مسلمان) ہیں۔
بنی اسرائیل کے سارے انبیاء کا دین دینِ اسلام تھا:
او رایک جگہ تو صاف صاف یہ بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے سارے انبیاء دین اسلام پر قائم تھے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَo
(مائدہ:۴۴)
ہم نے توریت نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا، انبیاء جو کہ اللہ تعالیٰ کے مطیع (مسلمان) تھے ، اس کے موافق یہود کو حکم دیا کرتے تھے اور اہل اللہ اور علماء بھی بوجہ اس کے کہ ان کو اس کتاب اللہ کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس کے اقراری ہوگئے تھے، سو تم بھی لوگوں سے اندیشہ مت کرو اور مجھ سے ڈرو اور میرے احکام کے بدلہ میں متاع قلیل مت لو اور جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے سو ایسے لوگ بالکل کافر ہیں۔
بعض اہلِ کتاب کا دینِ اسلام پر قائم ہونے کا اعتراف:
بلکہ بعض اہل کتاب یہود و نصاریٰ کا بھی یہ اعتراف تھا کہ وہ دین اسلام پر تھے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ o وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَo
(قصص:۵۲۔۵۳)
جن لوگوں کو ہم نے قرآن سے پہلے (آسمانی) کتابیں دی ہیں (ان میں جو منصف ہیں) وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہ حق ہے (جو) ہمارے رب کی طرف سے (نازل ہوا ہے اور ) ہم تواس (کے آنے) سے پہلے بھی مانتے (مسلمان) تھے۔
ہر نبی کا لایا ہوا دین ان کے زمانہ میں اسلام تھا:
ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے جو دین اپنے بندوں کے لئے ابتدائے آفرینش سے بھیجا وہ اسلام ہے، سارے انبیاء اس کے پیروکار تھے اور اپنی اپنی امت کو اسی کی دعوت دیتےتھے، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں وہی السلام مقبول تھا جو حضرت آدمؑ لے کر آئے تھے اور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں وہ اسلام مقبول تھا جو وہ لے کر آئے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ وہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام لے کر آئے تھے، اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا اسلام وہ تھا جو الواح توراۃ اور موسوی تعلیمات کی صورت میں آیا اور حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ کا اسلام وہ جو انجیل اور عیسوی ارشادات کے رنگ میں نازل ہوا، الغرض ہر نبی کے زمانہ میں ان کا لایا ہوا دین ہی دین اسلام تھا اور عند اللہ مقبول تھا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
الانبیاء اخوۃ من علات و امہاتہم شتی و دینہم واحد ۔
(مسلم ، رقم الحدیث:۲۳۶۵)
انبیاء علیہم السلام آپس میں علاتی بھائی ہیں اور ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔
مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اصولِ توحید و دعوت میں متفق ہیں ۔
توحید کی تعلیم ہر نبی نے دی ہے:
ان امور میں اتفاق ہی کی بات تو ہے کہ سارے انبیاء ؑ نے اپنی اپنی امت کو توحید کی تعلیم دی اور کفر و شرک سے ان کو بچانے کی فکر کی، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَo
(النحل:۳۶)
اور ہم ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر بھیجتے رہے ہیں کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچتے رہو۔
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ ۔
(الزمر:۶۵)
اور آپ کی طرف بھی او رجو پیغمبر آپ سے پہلے گذرے ہیں ان کی طرف بھی یہ (بات) وحی میں بھیجی جاچکی ہے کہ اے عام مخاطب ! اگر شرک کرے گا تو تیرا کیا کرایا کام (سب) غارت ہوجائے گا اور تو خسارہ میں پڑےگا۔
اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا:
اُعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍo
(الاعراف:۵۹)
تم صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے سواء کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں، مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
یہی دعوت حضرت ہود علیہ السلام (الاعراف:۶۵)، حضرت صالح علیہ السلام (اعراف:۷۳)، حضرت شعیب علیہ السلام (الاعراف:۸۵) اور دیگر انبیاء (المؤمنون:۳۲) نے اپنی اپنی قوم کو دی، انہیں کفر و شرک سے روکا اور شیطان کی راہ اپنانے سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے قرآن نے بڑے واضح لفظوں میں بیان کیا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِo
(الانبیاء:۲۵)
اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو۔
اور ایک جگہ بڑے بلیغ انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے شرک کی نفی کی گئی ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَo
(الزخرف:۴۵)
اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے پوچھ لیجئے ، کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سواء دوسرے معبود ٹھہرادئے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے؟
نیز سارے اہل کتاب کو جو خدائی حکم تھا وہ یہ تھا
وَمَا: أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِo
(البیّنۃ:۵)
اور ان لوگوں کو (کتاب سابقہ میں) یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی اس طرح عبادت کریں کہ عبادت اس کے لئے خاص رکھیں (ادیان باطلہ شرکیہ سے) یکسو ہوکر اور نماز کی پابندی رکھیں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی طریقہ ہے ان درست مضامین (مذکورہ) کا (بتلایا ہوا)۔
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب حضرت عیسی علیہ السلام سے دریافت کریں گے کہ کیا آپ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود جانو؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام انکار کریں گے اور بارگاہ خداوندی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہیں گے:
مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌo
(المائدہ:۱۱۷)
میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا تھا، مگر صرف وہی جو آپ نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی (اختیار) کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور میں ان پر مطلع رہا جب تک ان میں رہا، پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا تو آپ ان پر مطلع رہے اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں۔
یہ ساری آیات بتاتی ہیں کہ آسمانی تعلیمات کی بنیادی باتوں میں کسی زمانہ میں کوئی اختلاف نہیں تھا، دین کی بنیادی تعلیمات تمام قوموں میں مشترک تھیں اور سبھی حضرات دین اسلام کے پیروکار تھے اور اسی کی تلقین ان کو انبیاء کرام نے اپنے اپنے زمانہ میں کی تھیں۔
شرائع سابقہ میں فروعی اختلافات تھے:
البتہ فروعی احکام قوموں کے مزاج، عرف و عادات اور زمانے کے فرق کی وجہ سے مختلف تھے، جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت میں سگی بہنوں سے نکاح کرنا جائز تھا، لیکن حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں اُسے منسوخ کردیا گیا۔ (معانی القرآن للنحاس:۶/۲۹۹)
یہ فروعی اختلاف تقریباً تمام شریعتوں میں تھا، فرمان باری تعالیٰ ہے:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا۔
(المائدہ:۴۸)
تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے (خاص) شریعت اور (خاص) طریقت تجویز کی تھی ۔
اور ایک جگہ ارشاد ہے:
لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ ۔
(الحج:۶۷)
ہم نے (ان میں) ہر امت کے واسطے ذبح کرنے کا طریق مقرر کیا ہے کہ وہ اس طریق پر ذبح کیا کرتے تھے۔
نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
وَلِأُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۔
(اٰل عمران:۵۰)
اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم لوگوں کے واسطےبعضے ایسی چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض منصبی قرآن پاک میں یہ بیان کیا گیا ہے:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَo
(اعراف:۱۵۷)
جو لوگ ایسے رسولِ امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس توریت و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (جن کی صفت یہ بھی ہے) کہ وہ ان کو نیک باتو ںکا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بتلاتے ہیں اور گندی چیزوں کو (بدستور) ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں، سو جو لوگ ان (نبی موصوف) پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر نبی و رسول کے زمانہ میں جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کے لائے ہوئے احکام میں ان کی فرمانبرداری کی وہ سب مسلمان اور مسلم کہلانے کے مستحق تھے اور ان کا دین ‘‘دین اسلام’’ تھا اور ہر پیغمبر کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول دین وہی دین اسلام تھا ، جو اس پیغمبر کی وحی اور تعلیمات کے مطابق تھا، اس کے سواء کوئی دوسرا دین مقبول نہیں تھا، مثلاً شریعت ابراہیمی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام تھی، اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں شریعت سابقہ کے جو احکام منسوخ ہوگئے وہ اسلام کا حکم نہیں رہا، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں شریعت موسویہ کا اگر کوئی حکم منسوخ ہوا ہے تو وہ ان کے زمانہ میں اسلام کا حصہ نہیں تھا۔
حضرت محمد ﷺ سے پہلے انبیاء کی بعثت مخصوص قوم کے لئے ہوتی تھی:
انبیائے سابقین جنہوں نے اپنی اپنی قوموں کو دین اسلام پیش کیا تھا وہ ایک محدود طبقہ اور مخصوص زمانہ کے لئے تھا، یہی وجہ ہے کہ اس طبقہ اور اس امت کے علاوہ دوسروں کے لئے اس وقت بھی وہ اسلام معتبر نہ تھا اور جب اس نبی کے بعد اور کوئی نبی بھیجا گیا تو اب وہ اسلام نہیں رہا، اس وقت کا اسلام وہ ہوگا جو جدید نبی پیش کرے گا، جس میں اصولی اختلاف تو نہیں تھا مگر فروعی احکام میں اختلاف ہوا کرتا تھا، جیسا کہ ماقبل میں گذرا۔
حضرت محمد ﷺ کی نبوت ساری انسانیت کے لئے ہے:
لیکن جب انسانی تمدن اپنے شباب کو پہونچ گیا اور اس کی صلاحیتوں نے اوج کمال تک سفر طے کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک تاریخی شہر مکہ مکرمہ میں مکمل صورت میں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اسلام کا آخری ایڈیشن بھیجا، جیسے جو لباس جوانی کی عمر میں پہنا جاتا ہے وہ آخری دم تک انسان کے لئے کافی ہوتا ہے اور عمر گذرنے کے ساتھ چھوٹا نہیں ہوتا، اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اسلام کا جو لباس بھیجا گیا وہ اب قیامت تک انسانیت کے لئے کافی و شافی ہے، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ ۔
(سبا:۲۸)
اور ہم نے تو آپؐ کو تمام لوگوں کے لئے پیغمبر بناکر بھیجا ہے۔
ایک اور جگہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کرنے کو کہا گیا کہ میں سب لوگوں کے واسطے پیغمبر بناکر بھیجا گیا ہوں، آیت باری تعالیٰ ہے:
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۔
(الاعراف:۱۵۸)
آپ کہہ دیجئے کہ اے(دنیا جہاں کے) لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (پیغمبر) ہوں، جس کی بادشاہی ہے تمام آسمانوں اور زمین میں۔
اور قیامت تک کے لئے آپ کی شریعت کو دوام عطا کردیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کے عہد ۂ جلیلہ سے سرفراز فرماکر یہ اعلان کردیا:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاo
(احزاب:۴۰)
محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں، سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دین محمدی کو جن خصوصیات سے نوازا ہے ان کا ذکر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
و کان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ و بعثت الی الناس عامۃً ۔
(بخاری، کتاب التیمم، رقم الحدیث:۳۳۵)
پہلے نبی خاص قوم کے لئے آتے تھے، لیکن مجھے تمام لوگوں کی طرف نبی بناکر بھیجا گیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ آپؐ نے قسم کھاکر ارشاد فرمایا کہ :اس امت دعوت میں سے جو بھی میرا پیغام سنے خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، پھر اس کی موت ہوجائے اور وہ اپنی زندگی میں میری رسالت پر ایمان نہ لائے تو وہ دوزخی ہے۔
(مسلم، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا، رقم الحدیث:۱۵۳)
ایک موقع سے اور صراحت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذی نفسی بیدہ لو اصبح فیکم موسیٰ ثم اتبعوہ و ترکتمونی لضللتم ۔
(مسند احمد، رقم الحدیث:۱۵۸۶۴)
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر موسیؑ تمہارے درمیان آموجود ہوں اور تم میری اتباع چھوڑ کر ان کی اتباع کرنے لگوگے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ اگر آج حضرت موسیٰ علیہ السلام باحیات ہوتے تو وہ بھی اپنی شریعت پر عمل کرنے کے بجائے میری شریعت پر عمل کرتے۔
(مسند احمد، رقم الحدیث:۱۵۱۵۶)
ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو باوجود اپنے وصف نبوت اور عہدۂ نبوت پر قائم رہنے کے اس وقت وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور اسلام کے اسی آخری ایڈیشن پر عمل کریں گے۔
(فتح الباری:۴۹۱/۶، رقم الحدیث:۳۴۴۸ باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام)
آج حضرت محمد ﷺ کا لایا ہوا دین اسلام مقبول اور مدارِ نجات ہے:
ان آیات و احادیث سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد پچھلے تمام ادیان منسوخ ہوگئے، اب وہ اسلام نہیں بلکہ آج اسلام صرف وہ دین ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پہونچا ہے، یہی اسلام اب تمام انسانوں کے لئے مدارِ نجات ہے ، اس کے سواء کوئی دین مقبول اور ذریعۂ نجات نہیں، اس لئے صاف طور پر اعلان کردیا گیا:
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۔
(اٰل عمران:۱۹)
بلاشبہ دین (حق اور مقبول) اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔
اور دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا گیا:
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ o
(اٰل عمران:۸۵)
اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ اس سے مقبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں ہوگا۔
ایک باطل نظریہ کی تردید:
ان تصریحات سے اس ملحدانہ نظریہ کی تردید ہوتی ہے جس میں اسلام کی رواداری کے نام پر کفر و اسلام کو ایک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کا ہر مذہب خواہ یہودیت و نصرانیت ہو یا بدھ مت یا بت پرستی ، ہر ایک ذریعۂ نجات بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کا پابند ہو۔
لیکن گذشتہ بیان سے جب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اب نجات صرف اس اسلام میں ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، تو پھر اس ملحدانہ نظریہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے، جس طرح اندھیرا اور اجالا ایک نہیں ہوسکتے،اسی طرح یہ بات نہایت نا معقول اور نا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نا فرمانی اور بغاوت بھی ایسے ہی پسند ہو جیسے اطاعت و فرمانبرداری۔
لہٰذا یہ طے ہے کہ جو شخص اصولِ اسلام میں سے کسی ایک چیز کا بھی منکر ہے تو وہ بلاشبہ خدا تعالیٰ کا باغی اور اس کے رسولوں کا دشمن ہے، خواہ فروعی اعمال اور رسمی اخلاق میں وہ کتنا ہی اچھا نظر آئے، نجات آخرت کا مدار سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری پر ہے،جو اس سے محروم رہا اس کے کسی عمل کا اعتبار نہیں، ایسے ہی لوگوں کے اعمال کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا ۔
(الکھف:۱۰۵)
ہم قیامت کے دن ان کے کسی عمل کا وزن قائم نہیں کریں گے۔
آخرت کی نجات حضرت محمد ﷺ کے لائے ہوئے دینِ اسلام کے ماننے پر موقوف ہے:
بہر حال اسلام کا یہ آخری ایڈیشن جو قرآن و حدیث کی صورت میں بالکل محفوظ ہے اور ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے اور جو قیامت تک تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے کافی اور دنیا کی بھلائی اور آخرت میں نجات اسی میں منحصر ہے، کوئی دوسرا دین خواہ وہ اپنے وقت میں اسلام ہی کیوں نہ رہا ہو، اب وہ معتبر نہیں رہا، لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ اسلام کے اس آخری ایڈیشن کا حلقہ بگوش اور اسے دل و جان سے قبول کئے بغیر آخرت میں نجات ناممکن ہے۔