کیا قنوتِ نازلہ، منفرد، امام اور مقتدی سبھی پڑھیں گے؟ اور کس وقت پڑھیں گے؟
جب کہ کفار کی طرف سے عام مسلمانوں پر کسی قسم کا ظلم وتشدد ہوتا ہو کہ مسلمان عام طور پر پریشان ہورہے ہوں، اس وقت اگر کوئی امام نماز فرض فجر میں دعائے قنوتِ نازلہ بعد رکوع آہستہ آہستہ پڑھ لے تو گنجائش ہے، استحباب بھی ثابت ہوتا ہے، مگر یہ پڑھنا اتفاقیہ ہی ہوسکتا ہے، یہ نہیں کہ اس کا معمول ہی کرلیا جائے، ایسے ہی اگر کوئی اکیلا رات میں کسی نوافل میں کبھی پڑھ لے تو اس کی گنجائش بھی ہوسکتی ہے اور مقتدی امام کے سکتات میں آمین کہتے رہیں، اس پر کوئی اعتراض جائز نہ ہوگا۔
(فتاویٰ محمودیہ:۷/۱۷۵،مکتبہ شیخ الاسلام، دیوبند)