عرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ امام کافر ہے تو کیا حکم ہے؟
ایک شخص عرصۂ دراز تک امامت کرتا رہا، اب قرائن سے پتھ چلا کہ وہ کافر ہے، مگر خود وہ شخص کافر ہونے کا اقرار نہیں کرتا بلکہ اپنے کو مسلمان کہتا ہے، مگر لوگوں کو اس کے قل پر اعتماد نہیں، اگر شواہد و قرائن سے اس کے کفر کا ظن غالب ہوجائے تو اس کے پیچھے پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ فر ض ہے۔
(احسن الفتاویٰ:۳/۲۷۹، زکریا بکڈپو، دیوبند)