***
مرنے کے بعد
برزخ(قبر)،قیامت،آخرت
اتنی بات توسب جانتے اورمانتے ہیں کہ جو اس دنیا میں پیدا ہوا اس کو کسی نہ کسی دن مرنا ضرورہے؛لیکن اپنے طورسے یہ بات کسی کو بھی معلوم نہیں اور نہ کوئی اس کو معلوم کرسکتا ہے کہ مرنے کے بعد کیاہوتا ہے اورکیاہوگا یہ بات صرف اللہ ہی کو معلوم ہے اور اس کے بتلانے سے پیغمبروں کو معلوم ہوتی ہے اور ان کے بتلانے سے ہم جیسے عام آدمیوں کو بھی معلوم ہوجاتی ہے،اللہ کے ہرپیغمبر نے اپنے اپنے وقت میں اپنی قوم اوراپنی امت کو خوب اچھی طرح بتلایااورجتلایاتھاکہ مرنےکے بعد کن کن منزلوں سے تم کو گزرنا ہوگا اور دنیا میں کئے ہوئے تمہارے اعمال کی جزا اورسزا ہر منزل میں تمہیں کس طرح ملے گی اورپیغمبر خداسیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خداکے آخری نبی اوررسول ہیں اوران کے بعد اب کوئی پیغمبر قیامت تک آنے والا نہیں ہے اس لیے آپ نے مرنے کے بعد کی تمام منزلوں کا بیان بہت ہی تفصیل اور تشریح سے فرمایا ہے اگر اس سب کو جمع کیا جائے تو ایک بہت بڑا دفتر تیار ہوسکتا ہے۔
قرآن شریف میں اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں میں جو کچھ اس سلسلہ میں بیان فرمایاگیا ہے اس کامختصر خلاصہ یہ ہے کہ:
مرنے کے بعد تین منزلیں آنے والی ہیں:پہلی منزل مرنے کے وقت سے لے کر قیامت آنے تک کی ہے،اس کو عالم برزخ کہتے ہیں،مرنے کے بعد آدمی کا جسم چاہے زمین میں دفن کردیا جائے،چاہے دریا میں بہادیاجائے چاہے جلاکر راکھ کردیاجائے،لیکن اس کی روح کسی صورت میں بھی فنا نہیں ہوتی،صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ ہماری اس دنیا سے منتقل ہوکر ایک دوسرے عالم میں چلی جاتی ہے ،وہاں اللہ کے فرشتے اس کے دین ومذہب کے متعلق اس سے کچھ سوالات کرتے ہیں وہ اگر سچا ایمان والا ہے تو صحیح صحیح جواب دے دیتا ہے جس پر فرشتے اس کو خوش خبری سنادیتے ہیں،کہ توقیامت تک چین وآرام سے رہ اور اگروہ مومن نہیں ہوتا بلکہ کافر، یا صرف نام کا مسلمان منافق ہوتا ہے تواسی وقت سے سخت عذاب اوردکھ میں مبتلاکردیا جاتا ہے جس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہتا ہے،یہی برزخ کی منزل ہے،جس کا زمانہ مرنے کے وقت سے لیکر قیامت تک کا ہے
اس کے بعد دوسری منزل قیامت اورحشر کی ہے،قیامت کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ اللہ کے حکم سے یہ ساری دنیا ایک دم فنا کردی جائے گی(یعنی جس طرح سخت قسم کے زلزلوں سے علاقے کے علاقے ختم ہوجاتے ہیں؛اسی طرح سے اس وقت ساری دنیا درہم برہم ہوجائے گی اور سب چیزوں پر ایک دم فنا آجائیگی) پھر عرصہ درازکے بعداللہ تعالی جب چاہے گا سب انسانوں کو پھر سے زندہ کرے گا،اس وقت ساری دنیا کے اگلے پچھلے سب انسان دوبارہ زندہ ہوجائیں گے اور ان کی دنیوی زندگیوں کا پورا حساب ہوگا، اس جانچ اورحساب میں اللہ کے جوبندے نجات اورجنت کے مستحق نکلیں گے ان کے لیے جنت کا حکم دےدیا جائیگااور جو ظالم اورمجرم اللہ کے عذاب اوردوزخ کے سزاوارہوں گے،ان کے لیے دوزخ کا حکم سنادیاجائے گا،یہ منزل مرنے کے بعد کی دوسری منزل ہے،جس کا نام قیامت اورحشر ہے؛ اس کے بعد جنتی ہمیشہ ہمیشہ کےلیے جنت میں چلے جائیں گے ،جہاں صرف آرام اورچین ہوگا اور ایسی لذتیں اورراحتیں ہوں گی جو اس دنیا میں کسی نے دیکھی سنی نہ ہوں گی اور دوزخی دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے جہاں ان کو بڑے سخت قسم کے عذاب اوردکھ ہوں گے اللہ ہم سب کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔
یہ دوزخ اورجنت ہی مرنے کے بعد کی تیسری اورآخری منزل ہےاورپھر لوگ ہمیشہ ہمیشہ اپنے اعمال کے مطابق جنت یا دوزخ ہی میں رہیں گے,مرنے کے بعد کے متعلق اللہ کےپیغمبروں نے اور خاص طور سے آخری پیغمبر سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتلایا ہے اور قرآن وحدیث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کا خلاصہ یہی ہے جو اوپر ذکرکیاگیا اب چندآیتیں اورحدیثیں بھی سن لیجئے۔
"کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ"۔
(آل عمران:۱۸۵)
ہرجان کو موت کا مزاچکھنا ہے،پھر تم سب ہماری طرف لوٹوگے۔
"کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ"۔
(آل عمران:۱۸۵)
ہرجان کو موت کا مزاچکھنا ہےاور تمہارے اعمال کے بدلے قیامت کے دن پورے پورے دئے جائیں گے۔
قیامت اوراسکی ہولناکیوں کاذکرقرآن شریف میں سیکڑوں جگہ کیاگیا ہے،چندایتیں ہم یہاں بھی نقل کرتے ہیں:
"یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ o اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌoیَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَى النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللہِ شَدِیْدٌ"۔
(الحج،۱۔۲)
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو،قیامت کا بھونچال بڑی(خوفناک)چیزہے جس دن تم اسے دیکھوگے اس دن ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے پیارے بچے کو بھول جائے گی اورحمل والیوں کے حمل ساقط ہوجائیں گی اورتم دیکھوگے سب لوگوں کو نشہ کی سی حالت میں اورحقیقت میں وہ نشہ میں نہ ہوں گے،بلکہ اللہ کا عذاب بڑاسخت ہے(بس اس کی دہشت سے لوگ بے ہوش ہوجائیں گے)۔
اورسورۂ مزمل میں قیامت ہی کےبیان میں فرمایا گیا:
"یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا مَّہِیْلًا"۔
(المزمل:۱۴)
جب زمینوں اورپہاڑوں پر لرزہ ہوگا اورپہاڑ بہتی ریت کی طرح ہوجائیں گے۔
اور اسی سورۃمیں قیامت ہی کے متعلق فرمایاگیا ہے
"یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا"۔
(المزمل:۱۴)
وہ دن بچوں کو بوڑھا بنادے گا۔
اورسورہ ٔعبس میں ارشاد ہے:
"فَاِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّۃُoیَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِoوَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِo وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِoلِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِoوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌoضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌo وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْہَا غَبَرَۃٌoتَرْہَقُہَا قَتَرَۃٌ"۔
(عبس:۲۳)
جب آئے گی کانوں کے پردے پھاڑنے والی وہ آواز(یعنی جس وقت قیامت کا صور پھونکاجائے گا) اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے اوراپنی ماں اوراپنے باپ سے اور اپنی بیوی اوراپنی اولاد سے،ان میں سے ہرایک کے لیے اس دن فکر ہوگی ،جو اسکو دوسروں سے بے پروابنادے گی(یعنی ہر ایک اپنی فکر میں ایساڈوباہوگا کہ ماں ،باپ،بیوی،اولاداوربہن بھائی کی بالکل پروانہ کرے گا بلکہ ان سے بھاگے گا) بہت سے چہرے اس دن روشن ہوں گے ہنستے ہوئے خوشی سے کھلے ہوئے اوربہت سے منھ اس دن خاک میں اٹے ہوں گے اور ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔
قیامت کے دن سب انسان خدا کے سامنے حاضر ہوں گے،کوئی بھی کہیں چھپ نہیں سکے گا،سورۂ الحاقۃ میں ارشاد ہے:
"یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ"۔
(الحاقہ :۱۸)
اس دن تم سب خداکے سامنے پیش کئے جاؤ گے تم میں سے کوئی چھپنے والا چھپ نہیں سکے گا۔
اور سورہ کہف میں ارشاد ہے:
"وَیَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَۃًo وَّحَشَرْنٰہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْہُمْ اَحَدًاoوَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّاo لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا کَـمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍoبَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًاo وَوُضِـعَ الْکِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰىہَاo وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاoوَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا"۔
(الکہف:۴۹)
اس دن ہم پہاڑوں کو ہٹادیں گے(یعنی پہاڑاپنی جگہ قائم نہ رہ سکیں گے بلکہ وہ گرجائیں گے اورریزہ ریزہ ہوجائیں گے)اور تم دیکھو گے زمین کو کھلی ہوئی(یعنی نہ اس میں شہر رہیں گے نہ بستیاں نہ باغات بلکہ ساری زمین ایک کھلا میدان ہو جائے گی) اور پھر ہم سب انسانوں کو دوبارہ زندہ کریں گے اور ان میں سے ایک کوبھی نہ چھوڑیں گے اور وہ سب قطاردرقطاراپنے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے(اوران سے کہا جائے گا دیکھو) تم دوبارہ زندہ ہوکر ہمارے پاس آگئے جیسا کہ ہم نے پہلی مرتبہ تم کوپیدا کیاتھا،بلکہ تم یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم تمہارے لیے کوئی وقت موعود نہیں لائیں گے اور ان کا اعمال نامہ(جس میں ان کے تمام اچھے برے اعمال کی تفصیل ہوگی)سامنے رکھ دیا جائے گا اور تم دیکھو گے مجرموں کو ڈرتا ہوااس اعمال نامہ سے کہتے ہوں گے ہائے ہماری کم بختی اس اعمال نامہ کی عجیب حالت ہے،نہ اس نے ہماراکوئی چھوٹاعمل چھوڑا ہے نہ بڑا عمل سب ہی کریہ بتلاتا ہےاورجوکچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا اس سب کو موجود پائیں گے اور ظلم نہیں کرے گا تمہارا پروردگا کسی پر۔
قیامت میں انسان کے ہاتھ پاؤں اور اس کے تمام اعضاء بھی اس کے اعمال کی گواہی دیں گے،سورہ یسین میں ارشاد ہے:
" اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ"۔
(یٰسٰ:۶۵)
آج کے دن ہم ان کے منھ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ پاؤں بولیں گے اور گواہی دیں گے اس کی جووہ کیاکرتے تھے۔
الغرض قیامت میں جو کچھ ہوگا قرآن شریف نے بڑی تفصیل سے اس سب کو بیان فرمایاہے،یعنی پہلے زلزلوں اوردھماکوں کا ہونا،پھر سب دنیا کا فنا ہوجانا،حتیٰ کہ پہاڑوں کا بھی ریزہ ریزہ ہوجانا، پھر سب انسانوں کا زندہ کیاجانا پھر حساب کے لیے میدان حشر میں حاضر ہونا اوروہاں ہر ایک کے سامنے اس کے اعمالنامہ کا آنااورخود انسان کے اعضاء کا اس کے خلاف گواہی دینا اور پھر ثواب یا عذاب یا معانی کا فیصلہ ہونا اور اس کے بعد لوگوں کا جنت یا دوزخ میں جانا،یہ سب چیزیں قرآن شریف کی بعض سورتوں میں ایسی تفصیل سےبیان کی گئی ہیں کہ ان کے پڑھنے سے قیامت کا سماں آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتا ہے چنانچہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جوشخص چاہے کہ قیامت کا منظر اس طرح دیکھے کہ گویاوہ اس کی آنکھوں کےسامنے ہے،تووہ قرآن شریف کی سورتیں:" اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ oاِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ oاِذَاالسَّمَاءُ انْشَقَّتْ o پڑھے"۔
(ترمذی،الباب ومن سورۃ اذا الشمس کورت،حدیث نمبر:۳۲۵۶ ، شاملہ، موقع الإسلام)
اب ہم برزخ اورقیامت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چند حدیثیں بھی ذکر کرتے ہیں ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"تم میں سے کوئی جب مرجاتا ہے تو اس کو جومقام قیامت کے بعد جنت یا دوزخ میں(اپنے اعمال کے لحاظ سے) ملنے والا ہوتا ہے وہ ہر صبح شام اس پر پیش کیاجاتا ہے اور اس سے کہاجاتا ہے کہ یہ ہے تیرا ٹھکانا جہاں تجھے پہونچنا ہے"۔
(بخاری،بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ،حدیث نمبر:۳۰۰۱ ، شاملہ، موقع الإسلام)
ایک اور حدیث میں ہے کہ:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ وعظ میں قبر (یعنی عالم برزخ)کی آزمائش اوروہاں کے احوال کاذکرفرمایاتو تمام مسلمان جوحاضر تھے چیخ اٹھے۔"
(بخاری،بَاب مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْر،حدیث نمبر:۱۲۸۴ ، شاملہ، موقع الإسلام)
بہت سی حدیثوں میں قبر کے احوال اورسوال وجواب اورپھروہاں کے عذاب کا تفصیل سےبھی ذکرآیا ہے،یہاں ہم اختصار کی وجہ سے صرف انہی دوحدیثوں کے ذکر پر بس کرتے ہیں،اب چند حدیثیں قیامت کے متعلق اورسن لیجئے،ایک حدیث میں ہے،رسول اللہﷺ نے قیامت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ:
"جب اللہ کے حکم سے قیامت کا پہلا صور پھونکا جائے گا تو تمام لوگ بے ہوش اوربے جان ہوکر گرجائیں گے،پھر جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہوکر کھڑے ہو جائیں گے،پھر حکم ہوگا کہ تم سب اپنے رب کے سامنے حاضری کے لیے چلواورپھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کو ٹہراکر کھڑاکرو،یہاں ان سے ان کی زندگی کے متعلق پوچھ ہوگی"۔
(مسلم،باب فی خروج الدجال ومکثہ فی الارض،حدیث نمبر:۵۲۲۳، شاملہ، موقع الإسلام)
ایک اورحدیث میں ہےکہ:
"ایک صحابی نے حضورﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ!اللہ تعالی اپنی مخلوق کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا اورکیا اس دنیا میں اس کی کوئی نشانی اورمثال ہے؟ آپ نے فرمایا:کیا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ تم اپنی قوم کی کسی زمین پر ایسی حالت میں گزرے ہوکہ وہ سوکھی،سبزے سے خالی ہو اورپھردوبارہ ایسی حالت میں اس پر تمہارا گزرہو کہ وہ ہری بھری لہلہارہی ہو؟(صحابی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا:ہاں!ایسا ہوا ہے،آپ نے فرمایاکہ:دوبارہ زندہ کرنے کی یہی نشانی اورمثال ہے،ایسے ہی اللہ تعالی مردوں کو دوبارہ زندہ کردے گا"۔
(مشکاۃ المصابیح، كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق، باب النفخ في الصور، حدیث نمبر:۵۵۳۱، الناشر:المكتب الإسلامي، بيروت)
ایک اورحدیث میں ہےکہ:
"رسول اللہﷺ نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی:یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا(قیامت کے دن زمین اپنی سب خبریں بیان کرے گی)پھر آپ نے فرمایا:تم سمجھے اس کا کیا مطلب ہے؟صحابہ نے عرض کیا:اللہ اوراس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں،آپ نے فرمایا:اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن زمین اللہ کے ہر بندہ پر اور ہر بندی پر گواہی دے گی ان اعمال کی جو انہوں نے زمین پر کیے ہوں گے،یعنی اللہ کے حکم سے زمین اس دن بولے گی اور بتلائے گی کہ فلاں بندے نے یا فلاں بندی نے فلاں دن میرے اوپر عمل کیا تھا"۔
(ترمذی، بَاب مَا جَاءَ فِي الْعَرْضِ ،حدیث نمبر۲۳۵۳، شاملہ، موقع الإسلام)
ایک اورحدیث میں ہےکہ:
"آپ نے قیامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ:اللہ تعالی قیامت کے دن بندے سے فرمائے گا آج تو خود ہی اپنےاوپر گواہ ہےاورمیرے لکھنے والے فرشتے بھی موجود ہیں اور بس یہی گواہیاں کافی ہیں؛پھرایساہوگا کہ اللہ کے حکم سے بندے کے منہ پر مہر لگ جائے گی،وہ زبان سے کچھ نہ بول سکے گا اوراس کے دوسرے اعضاء(ہاتھ،پاؤں وغیرہ) کو حکم ہوگا کہ تم بولو،پھر وہ اس کے اعمال کے ساری سرگزشت سنائیں گے"۔
(مسلم، كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ،حدیث نمبر:۵۲۷۱، شاملہ، موقع الإسلام)
ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
"ایک شخص رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس کچھ غلام ہیں جو کبھی کبھی شرارتیں کرتے ہیں،کبھی مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں کبھی خیانت کرتے ہیں اورمیں ان قصوروں پر کبھی ان پر خفا ہوتا ہوں،برابھلاکہتا ہوں اورکبھی مار بھی دیتا ہوں توقیامت میں اس کا کیا انجام ہوگا؟ آپ نے فرمایا:اللہ تعالی قیامت میں ٹھیک ٹھیک انصاف فرمائے گا اگر تمہاری سزاان کے قصوروں کے بقدر اوربالکل مناسب ہوگی تو نہ تمہیں کچھ ملے گا اور نہ کچھ دینا پڑے گا اوراگرتمہاری سزائیں ان کے قصوروں سے کم ہوں گی تو تمہارا فاضل حق تم کو دلوایا جائے گا اور اگر تمہاری سزاان کے قصوروں سے زیادہ ہوگی تو تم سے اس کا بدلہ تمہارے ان غلاموں کو دلایا جائے گا، حدیث میں ہے کہ یہ سن کر وہ پوچھنے والا شخص رونے اورچیخنے لگا اور اس نے عرض کیا:یارسول اللہ پھرتومیرے لیے یہی بہتر ہے کہ میں ان کو الگ کردوں،میں آپ کو گواہ کرتاہوں کہ میں نے ان سب کوآزاد کردیا"۔
(ترمذی، بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ السَّلَام،حدیث نمبر:۳۰۸۹، شاملہ، موقع الإسلام)
اسی حدیث میں یہ ہے کہ:
"حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو قرآن شریف کی یہ آیت بھی سنائی:
" وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـیْـًٔاo وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَابِہَاo وَکَفٰى بِنَا حٰسِـبِیْنَ"۔
(الانبیاء:۴۷)
اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
"ہم قیامت کے دن انصاف کے میزان لگائیں گے اور کسی کے ساتھ وہاں کوئی ناانصافی نہ ہوگی اوراگرکسی کا کوئی عمل یا حق رائی کے دانے کی برابر بھی ہوگا،توہم اس کو حاضرکریں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں"۔
اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ مرنے کے بعد اورقیامت کے متعلق قرآن پاک نے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو باتیں ہم کو بتلائیں ہیں ہم ان سے غافل نہ ہوں۔