بدگمانی اور اس کا علاج
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلیٰ عِبَادِہٖ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّابَعْدُ
فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ
فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ
1؎
وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ظُنُّوْا بِالْمُؤْمِنِیْنَ خَیْرًا2؎
سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر مومن کے ساتھ نیک گمان رکھو۔اس حدیث کی شرح میں علماء ربّانیّین فرماتے ہیں کہ اگر کسی چیز کے اندر نناوے دلائل ہوں بدگمانی کے لیکن ایک راستہ ہو حسن ظن کا تو عافیت کا راستہ یہی ہے کہ حسن ظن کے اس ایک راستےکو اختیار کرلو۔ کیوں؟اس کی وجہ شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ میرے مرشد اوّل فرمایا کرتے تھے کہ بدگمانی پر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مقدمہ دائر فرمائیں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ بدگمانی کے تمہارے پاس کیا دلائل تھے، اور نیک گمان پر بلادلیل انعام عطا فرمائیں گے۔حسن ظن پر بغیر دلیل کے ثواب ملتا ہے کیوں کہ امر ہے ظُنُّوْا بِالْمُؤْمِنِیْنَ خَیْرًالہٰذا مقدمہ میں جان پھنسانا بے وقوفی،حماقت اور نادانی ہے۔حضرت ہنس کر فرماتے تھےکہ احمق ہے وہ شخص جو مفت میں ثواب لینے کے بجائے اپنی گردن پر مقدمات قائم کرنے کے انتظامات کررہا ہے اور اپنے لیے مصیبتیں تیار کررہا ہے۔ نیک گمان کرکے مفت میں ثواب لو اور بدگمانی کرکے دلائل پیش کرنے کے مقدمات میں اپنی جان کو نہ پھنساؤ۔
حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اعتراض کا منشاء دو ہوتا ہے۔ قلتِ محبت اور قلتِ علم یعنی اعتراض عموماً دو قسم
_____________________________________________
صحیح البخاری: 896/2، باب قولہ تعالی یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ،المکتبۃ القدیمیۃ
الدرالمنثور:674/10، دارھجر ، مصر/ المعجم الکبیرللطبرانی:497/16