تعلیم و تزکیہ کی تقدیم و تاخیر کے بعض عجیب اسرار
میرے شیخ اوّل حضرت شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ قرآنِ پاک میں بعض جگہ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ مقدم ہے اور یُزَکِّیْھِمْ مؤخر ہے اور بعض جگہ اس کے برعکس ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو فرمایا کہ جہاں تعلیمِ کتاب مقدم ہے وہاں علومِ دینیہ کی عظمت کا بیان ہے، تاکہ صوفیا علومِ دینیہ سے مستغنی نہ ہوں اور شریعت و طریقت کو الگ الگ نہ سمجھیں، اور جہاں تزکیہ مقدم ہے وہاں علمائے دین کو تنبیہ ہے کہ تزکیہ کی نعمت سے غافل نہ ہونا۔ اس کی حضرت نے عجیب مثال دی تھی کہ ظرف کی صفائی سے مقصود مظروف ہوتا ہے، شیشی کی صفائی سے مقصود عطر ہوتا ہے کہ صاف شیشی میں ڈالا جائے، تعلیمِ کتاب کے تقدم میں علم کی عظمت کا بیان ہے کہ صوفیا عمر بھر قلب کی شیشی ہی نہ دھوتے رہیں، علومِ دین کی بھی فکر کریں ،اور تزکیہ کے تقدّم میں علمائے کرام کو ہدایت ہے کہ قلب کی شیشی کی صفائی کی فکر کریں کہ گندی شیشی میں عطر کی خوشبو ظاہر نہ ہوگی، غیر مزکّٰی قلب سے فیضانِ علوم نہ ہوگا۔
اس کے بعد اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ کا اس آیت سے کیا ربط ہے، یعنی تزکیۂ نفس سے کیا ربط ہے؟ چوں کہ نفس سے لڑنا آسان نہیں ہے، اس لیے اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ فرماکر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ہمیں سکھادیا کہ اے اللہ! نفس سے مقابلہ مشکل ہے، آپ نے اس کو اَمَّارَۃٌ بِالسُّوْءِفرمایا ہے یعنی کَثِیْرُ الْاَمْرِبِالسُّوْءِبہت زیادہ برائی کا حکم کرنے والا اور سوء اسم جنس ہے جو ساری دنیا کی برائیوں کو شامل ہے۔ یہ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ اَلسُّوْءِ میں الف لام جنس کا ہے اور جنس وہ کلی ہے جو انواع مختلف الحقائق پر مشتمل ہو۔ معلوم ہوا کہ قیامت تک جتنے گناہ ہوں گے سب اس اَلسُّوْءِ میں شامل ہیں،نزولِ قرآن کے وقت جو گناہ تھے اور آج نئے نئے گناہ کے جو طریقے ایجاد ہورہے ہیں سب اس میں شامل ہیں۔ لیکن ان سے کیسے بچیں گے؟ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّی22؎ یہ مَا کیا ہے؟ یہ مصدریہ، ظرفیہ ، زمانیہ ہے۔تین نام ہیں اس کے۔ اس لیے مفسراعظم علامہ آلوسی رحمۃ اللہ
_____________________________________________
22؎ یوسف:53