فاضل مصنف نے ان اعتراضات و اتہامات کے ٹھوس اور مسکت کے جوابات دئیے ہیں او رحضرت ابوہریرہ کے متعلق ہر قسم کے ابہامات و شبہات رفع کئے ہیں۔مستشرقین میں سے ''گولڈ زہیر'' روافض میں ''عبدالحسین موسوی'' نام نہاد محققین میں ''احمد امین مصری'' اور ''ابو ریہ'' کے افتراء ا ت کا زبردست آپریشن کیا ہے اور مستند کتابوں کے حوالہ جات سے حضرت ابوہریرہ کی عدالت وثقاہت کوثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت ابوہریرہ کی حالات زندگی ' تحصیل علم' عبرت انگیز واقعات ' سبق آموز خصال سعیدہ اور اخلاق حمیدہ درد انگیز حکایات حضور ۖ واہل بیت سے تعلق و ملازمہ' سماع حدیث ' صحابہ کرام کے درمیان مقام و مرتبہ ' ان کی علمی وفقہی آراء ' منقولہ روایات ائمہ مجتہدین فقہاء اور محدثین ' اساطین امت کا ابوہریرہ کو خراج تحسین جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل تبصرہ کیا گیا ہے ۔٭
____________________
کتاب : اثمار الھدایہ علی الھدایہ شارح : مولانا ثمیر الدین قاسمی دامت برکاتہم
ضخامت: (٥ جلد ) ٢٤٢٣ صفحات قیمت: ۔/٢٢٠٠ ناشر: زمزم پبلشرز ' اردو بازار کراچی
ہدایہ فقہ حنفی کی معرکة الاراء مشہور و معروف کتاب ہے۔ صاحب ہدایة علامہ ابوالحسن علی برہان الدین مرغینانی المتوفی ٥٩٣ نے ابتداء ً مختصر القدوری اور جامع الصغیر کے طرز پر ایک متن ''بدایة المبتدی'' کے نام سے تیار کیا پھر اس متن کی ایک مبسوط شرح ''کفایة المنتھی'' جو اسّی (٨٠) جلدوں پر مشتمل تھی' تحریر فرمائی پھر آنے والی نسلوں کیلئے اس کاایک خلاصہ 'لب لباب اورنچوڑ ''الھدایة'' چار جلدوں میں تیرہ برس کی طویل محنت شاقہ کے بعد منصہ شہود پر لائے۔ مورخین کی روایات کے مطابق اس کتاب کی تصنیف کے دوران آپ مسلسل روزے (گھروالوں کو خبر تک نہ ہونے دیا) سے رہے اوراپنے اس عمل پر کسی فقہ میں یہ کتاب جامعیت ' کثرت مسائل' حسن ترتیب و وضاحت و بلاغت اورایجاد و اعجاز ۔غرض ہر اعتبار سے اعلیٰ وارفع مقام پر نظر آتی ہے۔ کشف الظنون میں ہدایة کی مدح میں کیا خوب نقل کیا ہے : ان الھدایة کالقرآن قد نسخت ۔ ماصنفوا قبلھا فی الشرح من کتب
فاحفظ قواعدھا واسلک سالکھا یسلم مقالتک من زیغ ومن کذب
ترجمہ : (ہدایہ کی مثال قرآن کی سی ہے جس نے شریعت کی سابقہ کتابوں کو منسوخ کردیا ہے پس اس کے قواعد کو یاد کرو اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل۔ اس طرح سے تیرا کلام کجی اور جھوٹ سے مامون ہوجائیگا۔ )
یہ کتاب قبولیت کے رتبہ عظمیٰ پر فائز ہے' یہی وجہ ہے کہ مسلسل نو صدیوں سے یہ کتاب مدارس میں داخل درس ہے۔
مذاہب اربعہ میں کسی فقہی کتاب کی اتنی خدمت نہیں کی گئی جتنی کہ ہدایہ کی ماضی قریب و بعید میں اس کی بیشمار شرحیں لکھی گئیں۔ صاحب کشف الظنون نے ساٹھ سے زیادہ حواشی و شروح اور احادیث کی تخریجات شمار کی ہیں۔ ہر شرح کی اپنی افادیت اور دائرہ ہوتا ہے۔