٢) اس کے بعد دارالافتاء میں بحیثیت مرتب فتاویٰ رہ کر بارہ جلدوں میں فتاویٰ دارالعلوم مرتب فرمایا، تین ماہ بعد نائب مفتی کا عہدہ بھی تفویض ہوگیا۔
٣) ١٣٨٣ھ میں مرتب کتب خانہ کی حیثیت سے کتب خانہ ترتیب دیا۔
٤) ١٣٨٤ھ میں شعبہ مطالعہ علوم قرآنی اور مطالعہ تصانیفِ نانوتوی کی نگرانی آپ کے سپرد ہوئی۔
٥) ١٣٨٥ھ سے ١٤٠٢ھ تک باضابطہ رسالہ دارالعلوم کا اداریہ لکھا۔
٦) عربی ماہنامہ ''الداعی'' کی نگراں کمیٹی میں بھی شریک رہے۔
٧) ''محکمہ دارالقضائ'' قائم ہوا، اس کی بھی نگرانی فرمائی۔
٨) ''مخطوطات کا تعارف ''دو جلدوں میں مرتب فرمایا۔
٩) ندوة العلماء لکھنو کے مخطوطات کا تعارف بھی تحریر فرمایا۔
١٠) مسلم پرسنل لاء کی طرف سے ترتیب دیے جانے والے مجموعہ قوانینِ اسلامی کی تیاری میں شریک رہے۔
١١) تقریباً تیس (٣٠) سال تک دارالافتاء میںرہے اورایک لاکھ کے قریب فتاویٰ تحریر فرمائے۔
تصانیف: ١) فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (١٢جلدیں) (٢) اسلام کا نظامِ مساجد
(٣) نظامِ عفت وعصمت (٤) نظامِ امن (٥) نظام تعلیم وتربیت (٦) نظام تعمیر ِ سیرت
(٧) اسلامی حکومت کے نقش ونگار (٨) تذکرہ مولانا عبداللطیف نعمانی (٩) تذکرہ مولانا عبدالرشید رانی ساگری
(١٠) دینی جدوجہد کا روشن باب: امارتِ شرعیہ (١١) حکیم الاسلام اور ان کی مجالس
(١٢) تعارف مخطوطات کتب خانہ دارالعلوم دیوبند (دوجلدیں) (١٣) تعارف مخطوطات ندوة العلماء لکھنو
(١٤) مشاہیر علمائے دیوبند (١٥) دارالعلوم کا قیام اور اس کا پس منظر (١٦) حیات مولانا گیلانی
(١٧) اسلامی نظامِ معیشت (١٨) تاریخ المساجد (١٩) جماعتِ اسلامی کے دینی رجحانات
(٢٠) جرم وسزا کتاب وسنت کی روشنی میں (٢١) اسوئہ حسنہ (مصائب سرکار دوعالم ۖ)
(٢٢) زندگی کا علمی سفر (٢٣) ترجمہ درمختار (تاکتاب الطلاق) ٢٤()درسِ قرآن (٢٥) مسائلِ حج وعمرہ
(٢٦) تاریخی حقائق (٢٧) مشاہیر علمائے ہند کے علمی مراسلے (٢٨) حضرت نانوتوی ایک مثالی شخصیت
)٢٩) نسل کُشی (٣٠) امارتِ شرعیہ: دینی جدوجہد کا روشن باب (٣١) تفسیر حل القرآن پر عنوانات کا اضافہ۔
ان کے علاوہ سیکڑوں مقالات ومضامین ہیں جو علمی ودستاویزی رسالوں میں شائع ہوئے۔
(بحوالہ دارالعلوم دیوبند انڈیا)
ِ ِ ِ