علامہ شاہ بلیغ الدین ' کینیڈا
(حضرت ابوطلحہ انصاری)


مسلمان اور مشرکینِ عرب ایک دوسرے سے گتھے ہوئے تھے۔ جیت صاف مسلمانوں کی تھی' اتنے میں میدان جنگ کا نقشہ بدلا ' مسلمانوں کی فوج کا وہ حصہ جو حضرت عبداللہ بن جبیر کے تحت تھا اپنی جگہ سے ہٹا ' مجاہدِ اعظم ۖ نے اسے پہاڑی راستے پر حفاظت کیلئے کھڑا کیا تھا' ان لوگوں نے سوچا اب جنگ ختم ہوچکی ہے تو اپنی جگہ چھوڑ کر میدان جنگ کے بیچ میں چلے جائیں جہاں مالِ غنیمت جمع کیا جارہا تھا اور مالِ غنیمت جمع کرنے میں ہاتھ بٹائیں۔
کافروں کے ایک دستے نے دیکھا کہ حفاظتی دستہ اپنی جگہ پر نہیں ہے ' تو گھوم کر وہاں پہنچے اور اس حصہ کو گھیرے میں لے جہاں حضوراکرمۖ کھڑے اپنی فوجوں کو لڑا رہے تھے' یہ جنگ کا وہ نازک لمحہ تھا جب بازی ادھر یا ادھر ہوسکتی تھی' کافروں کا حملہ شدید سے شدید تر ہوتاگیا' مسلمان اس وقت میدان جنگ میں پھیلے ہوئے تھے اورحضورۖ کے قریب بہت کم لوگ رہ گئے تھے' لیکن یہی جانثار اپنی جگہ ڈٹ گئے اپنے نبی کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر سپر ہوگئے' کانٹے کی لڑائی ہورہی تھی' کافر بڑھے چلے آرہے تھے اور مسلمان انہیں روک رہے تھے ' کبھی کبھی رسالتِ پناہ ۖ سراٹھا کر یہ منظر دیکھ لیتے تھے' اس وقت ایک آواز سنائی دیتی… میری جان آپ کی جان پر قربان اور میرا چہرہ آپ کے چہرہ مبارک پر نثار! او رپھر اللہ کا وہ سپاہی جس کی آواز تھی اپنے پیمبر کے لئے ڈھال بن جاتا' اس دن ایک دو نہیں تین کمانیں اس کے ہاتھوں میں ٹوٹیں' تیر تھے کہ دشمن کے لئے موت کا پیام لے کر ان کی چٹکی سے نکلتے' اس روز حملہ آوروں کا منہ پھیر دینے میں اس مجاہد کا بڑا ہاتھ تھا۔ یہ مجاہد حضرت ابوطلحہ انصاری تھے' دوسری بیعت عقبہ کے نقیب ' بنو خرزج کے رئیس' خاندان نجار کی آبرو' حضرت ام سلیم کے شوہر اورحضرت انس بن مالک کے سرپرست! مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ ہوا تو حضرت ابوعبیدہ بن الجراح آپ کے بھائی بنائے گئے۔ وہ ان لوگوں میں سے ایک تھے جنہیں جنت کی بشارت دی گئی تھی ! حضرت طلحہ کے مقام کا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے۔
احد کی لڑائی کے بعد ان کا بایاں ہاتھ زندگی بھر کے لئے بیکار ہوگیا تھا' یہی ہاتھ تھا جس پر وہ ان تیروں کی بارش روک رہے تھے' جو رسالت پناہ ۖ پر ہورہی تھی' یہ ہاتھ مسلمانوں کے لئے بڑا مقدس ہاتھ تھا جس نے میدانِ احد میں تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ابوطلحہ کی عمر اس وقت چوبیس پچیس سال کی تھی' اوسط قد تھا' سانولی رنگت' مدینے میں ان کا بڑا مرتبہ تھا' رسالت مآب ۖ آپ کے گھر جاتے' کھانے کا وقت ہوتا اور کوئی چیز کھانے 'ے لئے پیش کی جاتی تو خوشی سے