فائدہ: ان نعمتوں کے سوال کے متعلق بہت سی تفاصیل بہت سی احادیث میں آئی ہیں۔ اور جتنی تفاصیل آئی ہیں وہ سب ہی مثال کے طور پر ہیں۔ حق تعالیٰ شا نہٗ کی نعمتوں کا جوہر وقت، ہر آن، ہر آدمی پر بارش کی طرح سے برستی رہتی ہیں، کون احاطہ یا شمار کرسکتا ہے؟ حق تعالیٰ شانہٗ کا پاک ارشاد بالکل حق ہے:
{ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا} (إبراھیم :ع ۵، نحل:ع۲)
اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کوگننے لگو توشمار بھی نہیں کرسکتے۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے یہ سورت تلاوت فرمائی اور جب یہ پڑھا {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ} ’’پھر اس دن نعمتوں سے سوال کیے جائوگے۔‘‘ توارشاد فرمایا کہ تمہارے ربّ کے سامنے تم سے ٹھنڈے پانی کاسوال کیا جائے گا، مکانوں کے سایہ کا سوال کیا جائے گا (کہ ہم نے دھوپ اور بارش سے بچنے کے لیے سایہ عطا کیا تھا) پیٹ بھرائی کھانے سے سوال کیا جائے گا، اَعضا کے صحیح سالم ہونے سے سوال کیا جائے گا (کہ ہم نے ہاتھ، پائوں، آنکھ، ناک، کان وغیرہ صحیح سالم عطا کیے تھے ان کا کیا حق ادا کیا؟ ) میٹھی نیند سے سوال کیا جائے گا، حتیٰ کہ اگر تم نے کسی عورت سے منگنی چاہی، اور کسی اور شخص نے بھی اس عورت سے منگنی چاہی، اور اللہ تعالیٰ نے تم سے اس کا نکاح کرا دیا، تو اس سے بھی سوال ہوگا کہ یہ حق تعالیٰ شا نہٗ کا تم پر احسان تھا کہ بیٹی والوں کے دل میں میں حق تعالیٰ شا نہٗ نے یہ بات ڈالی کہ وہ تم سے اس کا نکاح کریں دوسرے سے نہ کریں۔ اور ان چیزوں کو جو اس حدیث شریف میں ذکر کی گئیں غور کرنے سے آدمی اندازہ کرسکتا ہے کہ اس پر ہر وقت اللہ تعالیٰ شا نہٗ کے کس قدر احسانات ہیں اور ان چیزوں میں غریب امیر سب ہی شریک ہیں۔ کون شخص غریب سے غریب، فقیر سے فقیر ایسا ہے جس پرہر قت اللہ تعالیٰ شا نہٗ کے بے انتہا انعامات نہ برستے ہوں؟ ایک صحت اور اَعضا کی تندرستی ہی ایسی چیز ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ہر وقت سانس کا آتے رہنا ہی ایک ایسی نعمت ہے جو ہر وقت ہر زندہ کو میسر ہے۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو بعض صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! کون سی نعمتوں میںہم ہیں؟ جَو کی روٹی و ہ بھی آدھی بھوک ملتی ہے،پیٹ بھر کر نہیں ملتی۔ تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ آپ ان سے فرمائیں: کیا تم جوتا نہیں پہنتے، ٹھنڈا پانی نہیں پیتے؟ یہ بھی تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہیں۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن نعمتوں کاسوال ہوگا وہ بدن کی صحت اور ٹھنڈا پانی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جن نعمتوں کاسوال ہوگا وہ روٹی کا ٹکڑا ہے جس کو کھائے اور وہ پانی ہے جس سے پیاس بجھائے اور وہ کپڑے کا ٹکڑا ہے جس سے بدن چھپائے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ سخت دھوپ میں دوپہر کے وقت