بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَکَفٰی، وصَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِيِّ الْمُصْطَفٰی۔

پون صدی پہلے ایک چھوٹا سا با برکت رسالہ لکھا گیا، جس کا نام ’’تیسیر المنطق‘‘ ہے۔ یہ رسالہ جناب مولانا حافظ محمد عبد اللہ صاحب گنگوہی ؒکی تصنیف ہے۔ اس کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس پر حکیم الامت حضرت اقدس مولانا تھانوی ؒ نے حاشیہ لکھا ہے جس کا نام ’’تسییر المنطق‘‘ ہے، پھر مولانا جمیل احمد صاحب تھانوی ؒنے بھی اس پر حاشیہ تحریر فرمایا جس کا نام ’’تفسیر المنطق‘‘ رکھا۔ نیز اس رسالہ کے لیے یہ بات بھی قابلِ فخر ہے کہ حضرت اقدس مولانا صدیق احمد صاحب انبہٹوی ؒ (خلیفۂ اجل حضرت گنگوہی ؒ) نے اس کی نوک پلک درست کی ہے اور اس پر تقریظ تحریر فرمائی۔ جس میں آپ نے ارقام فرمایا ہے کہ
ظاہر ہے کہ منطق ایک مشکل علم ہے، خصوصاً طلبہ کو اول شروع میں مسائل منطقیہ سمجھنے میں بہت ہی دشواری ہوتی ہے۔ بلکہ احقر کا خیال ہے کہ اول چند رسائل میں طلبہ سمجھتے ہی نہیں، یا کم سمجھتے ہیں۔ اب سے تیس چالیس سال ہوئے جن طلبہ میں فارسی کی استعداد عمدہ ہوتی تھی، اور فارسی پڑھے ہوئے طلبہ مدارس عربی میں آتے تھے تو بوجہ استعدادِ فارسی کچھ سمجھ جاتے تھے۔ اب سالہا سال سے طلبۂ عربیہ ایسے آتے ہیں جن میں استعدادِ فارسی نہیں ہوتی۔ پس مولوی صاحب موصوف نے نہایت احسان اس زمانہ کے طلبہ پر فرمایا جو اردو کی سلیس عبارت میں مسائلِ منطقیہ کو واضح فرما دیا ہے، جو غیر فارسی داں بھی اس کے ذریعہ سے مسائلِ منطقیہ سمجھ سکتے ہیں۔ واقعی یہ کتاب ’’تیسیر المنطق‘‘ بہت ہی مفید، بعبارتِ واضحہ تصنیف فرمائی ہے۔ (اقتباس از تقریظِ کتاب)
حضرت انبہٹوی ؒ نے یہ تحریر ۱۳۳۸؁ھ میں آج سے اُناسی (۷۹) سال پہلے لکھی ہے۔ اور اب تو کایا ہی پلٹ گئی ہے، بات کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے، حال زبوں تر ہوگیا ہے۔ اس لیے اب اس رسالہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اَسّی سال کے اس طویل عرصہ میں زبان اور اندازِ بیان میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔ اور استعدادیں بھی مزید کمزور ہوگئی ہیں، اس لیے اب طلبہ کو اردو کا یہ رسالہ بھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار یہ مبارک رسالہ اپنے بچوں کو پڑھایا ہے اور ہر بار یہ خیال آتا تھا کہ اس کی ترتیب ضروری ہے۔ میں چند باتیں محسوس کرتا تھا۔ مثلاً:
۱۔ بعض اسباق میں درازنفسی ہے، ان میں بچوں کو یہ دشواری پیش آتی ہے کہ کیا یاد کریں؟ ساری عبارت یاد کریں تو کہاں تک کریں؟ اور خلاصہ کریں تو کس طرح کریں؟ (میں تو بچوں کو عبارت پر نشان لگا کر دیتا تھا کہ اتنے الفاظ بعینہٖ یاد کرلو باقی مفہوم یاد کرو)۔