۲۔ بعض اسباق میں طول ہے، وہ ایک دن میں نہیں پڑھائے جا سکتے ان کو بیچ میں روکنا ضروری ہے، مگر کہاں روکا جائے یہ سمجھ میں نہیں آتا۔
۳۔ زبان قدیم ہوگئی ہے اس وجہ سے بھی طلبہ کو فہم میں دشواری پیش آتی ہے۔
۴۔ بار بار کتاب چھپنے سے اور ناشرین کی مہربانی سے حواشی ادھر اُدھر ہوگئے ہیں، بلکہ بعض تمرینات خلط ملط ہوگئی ہیں جس سے مطالعہ میں اور پڑھانے میں دشواری ہوتی ہے۔
مگر بایں ہمہ کتاب کا نعم البدل تو کیا بدل بھی بازار میں نہیں آیا ہے۔ نئی جو کتابیں لکھی گئی ہیں وہ اپنی افادیت کے باوجود ’’تیسیر المنطق‘‘ کا بدل نہیں بن سکتیں۔ البتہ ایک نوجوان فاضل جناب مولانا محمد زاہد صاحب مظاہری نے ’’تبیین المنطق ‘‘کے نام سے ’’تیسیر المنطق‘‘ کی شرح لکھی ہے، جو طلبہ اور اساتذہ کے لیے خاصہ کی چیز ہے، مگر وہ بہرحال شرح ہے درسی کتاب نہیں ہے، اس لیے میری عرصہ سے خواہش تھی کہ اس رسالہ کو مرتب کروں، اب کہیں جاکر یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا ہے۔ ترتیب میں درج ذیل امور کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
۱۔ اسباق مختصر کیے گئے ہیں اور ان کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔ پہلے کتاب میں تیئیس سبق تھے اب پینتالیس اسباق ہیں۔
۲۔ ہر اصطلاح واضح اور مختصر عبارت میں لکھی گئی ہے تاکہ طلبہ اس کو یاد کرسکیں ۔
۳۔ تمرینات بڑھائی گئی ہیں تاکہ کتاب کے مضامین بار بار سنے جا سکیں۔
۴۔ متفرق حواشی کو ملاکر ایک حاشیہ بنایا گیا ہے تاکہ مطالعہ میں سہولت ہو۔
۵۔ حسبِ ضرورت مزید حواشی بڑھائے گئے ہیں۔ نیز کتاب کے آخر میں ضمیمہ لگایا گیا ہے جس میں تمرینات کا حل ہے تاکہ بوقتِ ضرورت اس کی طرف مراجعت کی جا سکے۔
۶۔ کتاب میں ایک دو جگہ تسامح تھا اور حاشیہ میں حضرت تھانوی ؒ نے اس پر تنبیہ بھی فرمائی تھی، اس کو اصل کتاب میں لے لیا ہے، اور تعبیر بدل دی ہے یا مثال بدل دی ہے۔
۷۔ تمرینات میں سے ایک دو مثالیں حذف کر دی ہیں۔ جیسے: تار کے کھٹکے کی آواز، کیوں کہ یہ نامانوس مثالیں تھیں، سمجھانی پڑتی تھیں اور مثال جب سمجھانی پڑے تو وہ مثال نہیں رہتی خود مسئلہ بن جاتی ہے۔ مثال وہی ہے جو خود واضح ہو اور مسئلہ سمجھنے میں مدد دے۔
اب اساتذۂ کرام سے گزارش ہے کہ وہ بچوں کو کتاب سمجھا کر پڑھائیں، مگر لمبی تقریر نہ کریں۔ مثالیں بڑھائیں اور مسئلہ ذہن نشیں کرائیں اور بچوں کو چاہیے کہ کتاب خوب یاد کریں۔ کم از کم ہر اصطلاح کی جو تعریف ہے وہ بلفظہٖ یاد کریں۔