بِسْمِ اللِّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
تصورات کی بحث
پہلا سبق
علم اور اس کی قسمیں
علم: کسی چیز کی صورت کا ذہن1 میں آنا۔ جیسے: کسی نے بولا زید اور ذہن میں اس کی صورت آگئی تو یہ زید کا علم ہے۔
علم کی دو قسمیں ہیں: تصور اور تصدیق
۱۔ تصدیق اس بات کا علم ہے کہ فلاں چیز فلاں چیز ہے یا فلاں چیز نہیں ہے۔2 جیسے یہ جاننا کہ زید عمر کا باپ ہے یا زید عمر کا باپ نہیں ہے۔
۲۔ تصور وہ علم ہے جو تصدیق جیسا نہ ہو یعنی اس میں حکم نہ ہو۔ جیسے: صرف زید کو جاننا یا غُلامُ زَیدٍ کو نسبتِ تامہ خبریہ1 کے بغیر جاننا۔
تمرین
امثلۂ ذیل میں غور کرکے بتاؤ کہ تصور کون ہے اور تصدیق کون؟
۱۔ زید کا گھوڑا
۲۔ عمرو کی بیٹی
۳۔ زید کا غلام
۴۔ ٹوپی
۵۔ اچھی ٹوپی
۶۔ بکر خالد کا بیٹا ہوگا۔
۷۔ ٹھنڈا پانی
۸۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
۹۔ جنت
۱۰۔ دوزخ
۱۱۔ جنت کی نعمتیں
۱۲۔ دوزخ کا عذاب
۱۳۔ جنت برحق ہے۔

۱۴۔ قبر کا عذاب حق ہے ۔
۱۵۔ دہلی
۱۶۔ مکہ معظمہ
دوسرا سبق
تصور وتصدیق کی قسمیں
تصور کی دو قسمیں ہیں، تصورِ بدیہی اور تصورِ نظری۔
۱۔ تصورِ بدیہی ایسی چیز کا جاننا ہے جس کی تعریف بتانے کی ضرورت نہ ہو، یعنی پہچانوائے بغیر وہ سمجھ میں آجائے۔ جیسے: آگ، پانی، گرمی، سردی کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہوتی، سنتے ہی خود بخود یہ چیزیں سمجھ میں آجاتی ہیں۔
۲۔ تصورِ نظری ایسی چیز کا جاننا ہے جو تعریف بتائے بغیر سمجھ میں نہ آئے۔ جیسے: اسم،1 فعل، حرف، معرب، مبنی، جن، فرشتہ ، بھوت، دیو۔
تصدیق کی بھی دو قسمیں ہیں:تصدیق بدیہی اور تصدیق نظری۔