{فَکُلُوْہُ ھَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًاO}2
خاصیت: اس آیت سے حضرت علیؓ نے ایک عجیب دوا استنباط فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ جو کوئی شخص اپنی زوجہ کو دین مہر میں سے کچھ زر نقد دے اور وہ عورت اس زر نقد کو لے کر پھر اپنے شوہر کو بخش دے، اس زر نقد سے شہد خرید کیا جائے اور اس میں بارش کا پانی ملا کر جس مریض کو پلایا جائے ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور شفا پائے گا۔ مجرب وآزمودہ ہے۔
ظالموں سے نجات کے لیے:
{رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَاج وَاجْعَلْ لَّنَا مِن لَّدُنْکَ وَلِیًّاجلالا وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًاOط}3
خاصیت: اگر کسی ظالم وبدکار کے شہر یا موضع میں گرفتار ہو اور وہاں سے نجات مشکل ہو تو اس آیت کو کثرت سے پڑھا کرے اور اللہ سے اپنی رہائی کے لیے دعا مانگے ان شاء اللہ ضرور رہا ہوجائے گا۔
محبت کے لیے:
{یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓلا اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْن}4
خاصیت: اس آیت کو شیرینی پر دم کرکے جس کو کھلائے ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے محبت ہوجائے گی۔
عداوت وتفریق کے لیے:
{وَاَلْقَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدٰوَۃَ وَالْبَغْضَائَ اِلٰی َیوْمِ الْقِیٰمَۃِط}5
خاصیت: اگر دو آدمیوں میں تفریق وعداوت ڈالنا چاہے تو اس آیت کو بھوج پتر پر لکھ کر اس کے نیچے یہ نقش لکھے:
اللہ
اللہ
اللہ
اللہ
اور اس نقش کے نیچے یہ عبارت لکھے کہ درمیان فلاں فلاں کے تفریق واقع ہو، فلاں کی جگہ دونوں کا نام لکھے اور تعویذ بنا کر درمیان پرانی دو قبروں کے دفن کر دیوے، مگر ناحق کے لیے نہ کرے ورنہ گنہگار ہوگا۔
سورۂ انعام:
خاصیت: جس مہم اور غرض کے لیے چاہے اس سورت کو پڑھ کر دعا کرے ان شاء اللہ تعالیٰ پوری ہوگی۔
قبولیت دعا کے لیے: