یہ بھی زنا کے مترادف ہوگا۔ البتہ اگر شوہر کو سرعت انزال کا خطرہ ہو تو صحبت شروع کرنے کے بعد ذہن اس طرف نہ رکھے تو جلدی انزال نہ ہونے میں مفید ہوگا۔ یعنی جماع کرتے وقت ذہن میں اس کا خیال نہ ہو کہ وہ جماع کررہا ہے، تاکہ جلد انزال نہ ہو۔
۸۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پورا بدن دیکھنا جائز ہے، کوئی گناہ نہیں ہے مگر بلا ضرورت اچھا نہیں۔ حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ نہ میں نے رسول اللہﷺ کا ستر دیکھا اور نہ آپ ﷺ نے میرا ستر (زندگی بھر) دیکھا ہے۔
۹۔ جماع کا ایک اہم ادب یہ بھی ہے کہ جب تک دونوں کو فراغ اور اطمینان نہ ہوجائے الگ نہ ہوں۔ عورت کے فارغ ہونے سے پہلے الگ ہوجانا صحت کے اعتبار سے بھی مضر ہے۔ فراغت کی ایک علامت یہ ہے کہ عورت کی وہ گرفت جو شہوت کی حالت میں تھی ختم ہو کر بدن میں ڈھیلا پن آجائے۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ مرد جلد فارغ ہوجاتا ہے اور عورت کو فراغت نہیں ہوتی، جس کی وجہ یہ ہے کہ عورت فطری طور پر مرعوب طبیعت ہے اور اس کے اعضائے جنسی پوشیدہ ہوتے ہیں، اس لیے اس کے انزال میں دیر لگتی ہے اور مرد گرم طبیعت اور اس کے اعضا ظاہر اور باہر ہیں اس لیے وہ جلد فارغ ہوجاتا ہے۔
بہرحال جس طرح مرد فارغ ہوجائے اسی طرح عورت کے فارغ ہونے تک اسے اسی حالت میں برقرار رہنا چاہیے اور دونوں کے سکون اور فراغت کی اہم علامت یہ ہے کہ اس کے بعد دونوں کو اطمینان کی نیند آجائے۔ اگر عورت کو سیرابی نہیں ہوئی اور اس حال میں مرد الگ ہوگیا تو عورت کے دل میں تسکین نہ ہونے کی وجہ سے بجائے محبت کے نفرت پیدا ہوگی اور اگر ہر مرتبہ یہی قصہ چلتا رہا تو خطرہ ہے کہ وہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے کوئی اور راہ تلاش نہ کرلے۔
ایک نہایت ہی منکر اور قبیح و ناپسندیدہ بات جس کے لکھنے کو بھی دل نہیں چاہتا، مگر فیشن پرستوں میں وہ چل پڑی ہے، اس لیے اس کی قباحت اور برائی بیان کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرد اپنے عضو مخصوص کو عورت کے منہ میں دیتا ہے اور عورت اس کو منہ میں لے کر چوستی ہے، یہ نہایت ہی قبیح اور منکر فعل ہے۔ شریعت میں اس کی کوئی گنجایش نہیں۔ اسی طرح مرد عورت کی شرم گاہ کو چومتا اور چاٹتا ہے یہ بھی اسی طرح نہایت گندہ فعل ہے، کوئی شریف مرد یا عورت اس کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ نہ اسلام میں اس فعل کی گنجایش ہے نہ انسانیت اجازت دیتی ہے۔ نری حیوانیت اور نئی تعلیم اورٹیلی ویژن نے اس قسم کی حرکتیں جنم دی ہیں، اس سے بچنا چاہیے۔
۱۰۔ جماع سے فارغ ہونے کے بعد دونوں کو اپنے جنسی اعضا الگ کپڑے سے صاف کرلینے چاہئیں۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ استنجا کر کے اور اعضا کو دھو کر وضو کرکے سوئے۔ اس سے پاکیزگی بھی حاصل ہوگی اور دوبارہ جماع کرنے میں نشاط پیدا ہوگا۔
اگر وضو نہ کرے تو کم ازکم تیمم کرلے تاکہ کچھ درجے میں تو پاکی حاصل