مؤلف کی گزارش


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیَّدِ الْمُرْسَلِیْنَ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ أَجْمَعِیْنَ


اما بعد! اللہ جل جلالہ کا انعام ہے کہ اس عاجز کے قلم سے کثیر تعداد میں دینی رسالے نکل چکے ہیں، جو قرآن و حد یث کی تعلیمات پر ہیں، ان رسالوں میں سیکڑوں احادیث کی تشریح اور ترجمہ آچکا ہے، یہ رسالے الحمدللہ عوام اور خواص میں بہت مقبول ہیں اور ان شاء اللہ، اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں بھی مقبول ہوچکے ہیں، امید ہے کہ اللہ جل جلالہ اس تھوڑی سی محنت پر جو اشاعت دین پر لگ گئی بہت زیادہ اجر و ثواب سے نوازیں گے، کماھواھلہٗ۔
محرم ۱۳۸۷ھ سے دارالعلوم کراچی سے ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ شائع ہونا شروع ہوا، جو مفتی اعظم پاک و ہند حضرت مولانا محمد شفیع صاحب قد س سرہ کی سرپرستی میں آمسلسل آٹھ سال تک پابندی سے نکلتا رہا، اور اب حضرت قدس سرہٗ کی وفات کے بعد بھی الحمد للہ برابر شائع ہورہا ہے۔ جب البلاغ کا اجراء ہوا تو مدیر البلاغ مولانا محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم خلف الصدق حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ نے احقر کے ذمہ عورتوں کے لیے اصلاحی مضامین لکھنا تجویز فرمایا، احقر نہ معیاری اردو جانتا ہے، نہ ادبی مضامین لکھنے پر قادر ہے، لیکن یہ سمجھ کر احقر نے ان کا حکم مان لیا کہ عورتوں سے متعلق جو روایات کتب حدیث میں وارد ہوئی ہیں ان کا ترجمہ لکھ کر ہر ماہ دے دیا کروں گا اور کچھ ضروری تشریح اپنی سیدھی سادی اردو میں کردیا کروں گا، چناں چہ احقرنے تقریباً ہر ماہ کچھ نہ کچھ لکھنا شروع کردیا جو برابر البلاغ کے صفحات میں سالہا سال قسط وار شائع ہوتا رہا۔
البلاغ کے قارئین سے جب ملاقاتیں ہوئیں تو میرے مضمون کو بہت نافع بتاتے، اور جب کسی ماہ ناغہ ہوجاتا تو دفتر البلاغ میں شکایتیں آنی شروع ہوجاتیں، جس سے اندازہ ہوا کہ الحمد للہ عوام و خواص میں یہ مضمون بہت مقبول ہوا ہے اور سب اس کا نفع محسوس کرتے ہیں۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب سیّد ابرار ﷺ کے کلام کی مقبولیت قارئین البلاغ کے قلوب میں پیدا فرمادی اور مجھ سیاہ کار کے معاصی کے سبب اس مضمون کو نافعیت اور مقبولیت سے محروم نہ فرمایا۔
جب کثیر تعداد میں احادیث شریفہ مع ترجمہ و تشریح البلاغ کے صفحات پر آگئیں تو احقر کو خیال ہوا کہ اس کو کتابی صورت میں شائع کیا جائے، نیز دیگر حضرات کی طرف سے بھی اس کا تقاضا شروع ہوا، احقر نے شائع شدہ مضامین پر نظر ڈالی تو محسوس ہوا کہ مسلسل قسط وار جس طرح شائع ہوئے تھے، کتابی صورت میں اسی